ایک نمکین غزل‎

محفوظ رکھ خدا مرے شرم وحیا کے ہاتھ 
پِٹ جاﺅں میں کہیں نہ کسی دلربا کے ہاتھ
 
انگڑائی اُس نے لی وہ ادا سے اُٹھا کے ہاتھ 
دل چاہتا ہے چوم لوں جا کر خدا کے ہاتھ
 
واعظ بھی بھول جائے ہمیں پندو نصیحت 
دیکھے وہ ایک بار تو مہر انساءکے ہاتھ
 
آنکھوں میں اُس کی شوخیاں مت پوچھیئے جناب 
مہندی رچے وہ جب بھی ستائے ہلا کے ہاتھ
 
انداز ہ پھر تمہیں ہو پتنگے کے سوز کا 
تم بھی کبھی چراغ سے دیکھو جلا کے ہاتھ
خوشبو بہار کی مری سانسوں میں رچ گئی 
آیاہوں جب سے پھول بدن کو لگا کے ہاتھ
 
بخشالوی تم گل نہیں خارِ ببول ہو 
منہ پر وہ میرے کہہ گئی اُلٹا جما کے ہاتھ
 
گل بخشالوی 

اپنا تبصرہ لکھیں