نارویجن معاشرے میں تارکین وطن کا غلط رویہ

۔ایک ملٹی کلچرل تنظیم نے نارویجن معاشرے میںتارکین وطن کے مل جل؛ کر رہے کے رویہ ے بارے میں ایک سروے رپورٹ ترتیب دی ہے جس کے مطابق انسٹھ فیصد نارویجنوں کا خیال ہے کہ یہ تارکین وطن کچھ مل جل کر رہتے ہیں۔جبکہ اتھائیس فیصد نارویجنوںنے کہا کہ یہ تارکین وطن کی اپنی غلطی ہے کہ وہ نارویجنوں کے ساتھ مل جل کر نہیں رہتے۔
اس کی ایک وجہ تو یہہے کہ معاشرے میں مل جل کر رہنے کی ساری ذمہ داری تارکین وطن کے کندھوں پر دال دی جاتی ہے جبکہ انہیں معاشرے میں اور پیشہ ورانہ زندگی میں مقامی اکثریتی لوگوں کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔تارکین وطن کو معاشرے میں جائز مقام نہ دینا دراصل وسائل کا غلط استعمال ہے یہ بات ملٹی کلچرل تنظیم کی سربراہ Benedicte Falch-Monsen بیندکتے فالک نے کہی ۔انہوں نے مزید کہا کہ نارویجن معاشرے میں تارکین وطن کے مل جل کر رہنے کے مواقع دوسرے ممالک کی نسبت ذیادہ ہیں
جب ترکین وطن سے س بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ معاشرے میں اس بات کو کم اہمیت دی جاتی ہے یا پھر ارباب اختیار اس بات میں دلچسپی نہیں لیتے یا پھر یہ کہ خود تارکین وطن اس بات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
NTB/UFN

اپنا تبصرہ لکھیں