ہیر وارث شاہ سے موبائیل تک

0
 میرے بزرگ بتایا کرتے تھے کہ برسوں پہلے گائوں میں بجلی نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ ان کی تفریح صرف یہ تھی کہ موسم گرما میں گائوں کے قریب ایک دو میلے منعقد ہوا کرتے۔ ان میں کھانے پینے کی چند دکانیں ہوتیں۔ تفریح کے نام پہ بھانڈ اپنی بولیاں بولتے ناچ گانا ہوتا۔ ہر سال میلے پرچند قوال تشریف لاتے۔ قبرستان کے ملنگ نے قوالوں کے لیے دو تین دیسی مرغے پال رکھے ہوتے جو ذبح کیے جاتے۔ قوال خود ہی وہ مرغے پکاتے اور خوب سیر ہو کرکھاتے۔ اس کے بعد قوالی شروع ہو جاتی اور خوب سماں بندھتا۔

شام کو بزرگ اور جوان چوپال یا بیٹھکوں میں جمع ہوتے۔ کوئی خوش گلو جوان ہیروارث شاہ یا میاں محمد بخش کا کلام پڑھتا اور حاضرین کو محظوظ کرتا۔ ایک دفعہ نمبر دار کی شادی پر لاہور سے عالم لوہار کو بلوایا گیا۔ مرحوم نے اونچے سُروں میں جگنی گا کر سماں باندھا کہ لوگ اش اش کر اٹھے۔ برسوں بعد جب گائوں میں ایک تھانیدار کی شادی میں عارف لوہار کو سنا گیا تو نوجوان طبقہ خاصا لطف اندوز ہو ا۔ مگر بزرگوں نے کہا، وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ بزرگوں کو عالم لوہار کی گائیکی میں مزہ زیادہ آتا تھا۔
پھر گائوں کے ایک چودھری صاحب ریڈیو لے آئے۔ اب چیدہ چیدہ لوگ شام کو چودھری کی بیٹھک میں جمع ہو جاتے۔

ملکی اور غیر ملکی خبریں سنتے اور ساتھ ساتھ موسیقی سے لطف اندوز ہوتے۔ اسی ریڈیو پر لوگوں نے ہندوستان کی آزادی کا اعلان سنا کہ ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور اب ان کا وطن پاکستان ہے۔ ۱۹۶۵ء اور پھر ۱۹۷۱ء کے جنگی واقعات بھی اسی ریڈیو کے ذریعے لوگوں کو معلوم ہوئے۔ نور جہاں کے ملّی ترانے بھی ان کی یادوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے معروف کمپیئر نظام دین کا نام آج بھی بزرگوں کو یاد ہے۔ مرحوم حالات حاضرہ کو دلچسپ باتوں اور لطیفوں میں بیان کرتے تھے۔

ریڈیو کے بعد ٹیلی ویژن آیا جو آواز کے ساتھ تصویر بھی دکھاتا۔ گائوں کے دو تین متمول خاندان جن کے جوان بہ سلسلہ روزگار سعودی عرب میں مقیم تھے، ٹیلی ویژن لے آئے۔ سرشام صحن میں چٹائی یا دری ڈال دی جاتی۔ اڑوس پڑوس کے بچے اور خواتین جمع ہوتیں۔ ہفتہ وار اقساط میں ڈرامے دکھائے جاتے۔ لوگ پورا ہفتہ ایک ڈرامے کا انتظار کرتے۔ بچوں کو نصیحت کی جاتی کہ پائوں دھو کر آئیں اور شور نہ مچایا کریں۔

سونا چاندی، اندھیرا اجالا اور وارث نامی ڈرامے اس دور کی یادوں میں شامل ہیں۔ مقبول ترین ڈرما اندھیرا اجالا ہوا کرتا۔ جس دن یہ ڈرما لگتا، شام کو گائوں میں ہُو کا عالم ہوتا۔ اگر کبھی کبھار لوڈشیڈنگ ہوا کرتی تو یار لوگ اپنے ٹریکٹروں کی بیٹریوں پر ٹیلی ویژن چلاتے اور ڈرما ضرور دیکھتے۔ عرفان کھوسٹ بطور ’’ڈائریکٹ حوالدار‘‘ بہت پسند کیا گیا۔
پھر رنگین ٹیلی ویژن آیا اور ٹی وی کا مزہ دوبالا ہو گیا۔ ٹی وی دیکھنے والے بچوں سے چھوٹے موٹے کام بھی لیے جاتے۔ مثلاً اینٹوں کا ڈھیر ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنا ہوتا تو بچے منٹوں میں یہ کام خوشی خوشی کر دیتے۔ بعض عورتیں لنڈے سے اُونی جرسیاں منگوا لیتیں۔ ٹی وی دیکھنے کے ساتھ ساتھ بچے جرسیاں بھی اُدھیڑتے رہتے۔ قریبی شہر میں سینما گھر بھی موجود تھا۔ اتوار کے روز گائوں کے نوجوان اکٹھے ہوکر فلم کا بارہ بجے والا شو دیکھنے جاتے۔ صادق ماچھی کو لوگ آج بھی فلم مولا جٹ کے حوالے سے چھیڑتے ہیں۔

فلم چل رہی تھی۔ مولا جٹ گنڈاسا لیے سامنے آیا تو بھولے بھالے صادق کے ساتھ بیٹھے شرارتی نوجوان نے کان میں کہا ’’صادو! بھاگ مولا جٹ تیری طرف آ رہا ہے۔‘‘ سادہ لوح صادق نے گھبرا کر سینما ہال میں ہی دوڑ لگا دی۔ یہ دیکھ کر پورا سینما ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔

پھر وی سی آر نام کی ایک مشین ایجاد ہوئی۔ یہ وہ ایجاد ہے جس نے پوری نسل کو برباد کر ڈالا۔ نوجوان، بچے، بوڑھے اور خواتین سبھی وی سی آر کے شوقین نکلے۔ گائوں کے دو تین گھروں میں وی سی آر تھا۔ وہ ہفتہ میں ایک دو دن وی سی آر پر لوگوں کو فلم دکھاتے۔ پھر گائوں کے نوجوان محلے میں مختلف گھروں سے دس دس روپے اکٹھے کرنے لگے۔ وہ شہر سے کرائے پر وی سی آر لے آتے۔

چار پانچ نوجوانوں کا گروہ ہوتا۔ ایک نوجوان نے سر پہ ٹیلی ویژن، دوسرے نے وی سی آر اور تیسرے نے ویڈیو کیسٹوں کا شاپر اٹھایا ہوتا۔ وہ گائوں میں داخل ہوتے، کبھی پیدل، کبھی تانگے پر اور کبھی چارہ ڈھونڈنے والے گدھے پر!جب یہ قافلہ گائوں میں داخل ہوتا تو بچے نعروں سے ان کا استقبال کرتے۔ مخبر سارے گائوں میں خبر پھیلا دیتا کہ آج فلاں محلے میں فلم دیکھنے کا پروگرام ہے۔ شام کو پورا گائوں وہاں جمع ہو جاتا۔ چوک میں رکھ کے ٹی وی اور وی سی آر چلا دیا جاتا۔ چھوٹے بچے آگے زمین پر بیٹھ جاتے۔ بوڑھے اور نوجوان چارپائیوں اور خواتین چھتوں پر بیٹھ جاتیں۔ رات دو تین بجے تک یہ شغل جاری رہتا۔

موسم گرما خیریت سے گزر جاتا کیوں کہ فلم کا پروگرام چوک میں ہوتا اور کافی دنیا سما جاتی۔ سردیوںمیں البتہ مشکل پیش آتی۔ وی سی آر کا پروگرام کسی بیٹھک میں ہوتا۔ اس کمرے میں صرف مخصوص افراد ہی کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی جو آپس میں کرائے کے لیے رقم اکٹھی کرتے تھے۔ وہ آرام سے بیٹھک میں بیٹھ کر فلم دیکھتے۔ مفت خورے بچوں اور لڑکوںکا ہجوم بازار میں کھڑا رہتا اور اندر بیٹھے لوگوں کو طرح طرح سے تنگ کرتا۔ کبھی دروازہ بجایا جاتا۔ کبھی دروازوں اور کھڑکیوں پر پتھر برسائے جاتے۔ شرارت کر کے نوجوان بھاگ جاتے۔ جب کسی طرح سے دال نہ گلتی تو منچلے نوجوان گائوں کے ٹرانسفارمر سے چھیڑ خانی کرتے۔ گویا خود کھیلیں گے اور نہ ہی کھیلنے دیں گے۔

اس زمانے میں اکثر نوجوانوں کے ہاتھوں میں درسی کتب کی جگہ ویڈیو کیسٹ نظر آتے اور جوانوں اور بوڑھوں کی محفلوں میں فلمیں ہی زیر بحث رہتیں۔ ہر طرح کی پاکستانی و بھارتی فلمیں دیکھی جاتیں۔ بزرگ حضرات پنجابی فلموں کی فرمائش کرتے جب کہ نوجوان طبقہ مارکٹائی والی فلموں کو زیادہ پسند کرتا۔ لوگوں نے ڈائریاں بنا رکھی تھیں جن میں دیکھی گئی فلموں کے نام اداکاروں سمیت درج ہوتے۔

گائوں کے ایک بزرگ جب دوسروں کے گھر جاتے تو آتے ہی فلم ’دھی رانی‘ لگانے کی فرمائش کرتے۔ مرحوم کو فلم میں مشہور اداکارہ انجمن کا کردار ’’بلو‘‘ بڑا پسند تھا۔ آتے ہی کہتے کہ بلو والی فلم لگائو۔ رفتہ رفتہ گائوں کے منچلوں نے بابا جی کا نام ہی ’’بابا بلّو‘‘ رکھ دیا۔ یہ نام باقاعدہ ان کی چھیڑ بن گیا۔ لڑکے بالے جہاں بھی بابا جی کو دیکھتے، آوازے کستے اور بھاگ جاتے۔ مرحوم لاٹھی لے کر پیچھے بھاگتے۔

جلد ہی قریبی شہروں میں سیکڑوں کے حساب سے منی سینما گھر بن گئے۔ ان میں ہر طرح کی اخلاق سوز فلمیں دکھائی جاتیں اور کوئی پوچھنے والا اس وقت تھا نہ اب ہے۔ وی سی آر کے بعد سی ڈی اور ڈی وی ڈی کا چلن عام ہوا اور اسٹیج ڈراموں کی بہتات ہو گئی۔ اب ہر بندہ، کیا بوڑھا کیا جوان، جگتیں کرنے لگا۔ ہر نوجوان اپنی جگہ ایک بھانڈ بن بیٹھا۔ ذرا سی بھی آپ نے کوئی سنجیدہ بات کی، اس نے جُگتوں میں اڑا دی۔ پھر کیبل کا دور آ گیا۔

گائوں کے ایک مولوی صاحب اور چند صاحبان عقل کیبل کی مخالفت میں پیش پیش رہے۔ لیکن زیادہ تر لوگ اس کے حمایتی نکلے۔ انھوں نے یہ جواز پیش کیا کہ اب زمانہ بدل گیا ہے۔ شہروں میں ہر گھر میں کیبل موجود ہے۔ اس پر دنیا بھر کی خبریں سنی جاتی ہیں۔ مذہبی پروگرام پیش کیے جاتے ہیں۔ نعت اور قوالیوں کے پروگرام ہوتے ہیں۔ چناںچہ مخالفت کے باوجود لوگوں نے کیبل کے کنکشن لیے اور دو تین برس کے دوران ہر گھر میں کیبل داخل ہو گئی۔ اب ہر گھر میں سینما گھر موجود ہے۔ وہاںدنیا بھر کی فلمیں لگتی ہیں اور ناچ گانا ہوتا ہے۔ کہیں کہیں آٹے میں نمک برابر لوگ مذہبی پروگرام بھی دیکھ لیتے ہیں۔

کیبل کے بعد موبائل کا دور آ گیا۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، سینما اور وی سی آر سے مستفید ہونے کے لیے تو ہاتھ پائوں ہلانے پڑتے تھے، موبائل نے یہ مسئلہ بھی ختم کر ڈالا۔ اب ہر شخص کی جیب میں دنیا جہاں کی خبریں، فلمیں اور موسیقی سمائی ہوتی ہے۔ جب اور جہاں جی چاہا، جیب سے موبائل نکالا اور ہر چیز سے لطف اندوز ہونے لگے۔اس کی افادیت اپنی جگہ مگر غلط استعمال اخلاقیات کا جنازہ نکال رہا ہے۔

مہمان بھی میزبان کے گھر پہنچ کر اہل خانہ کی خیریت دریافت کرنے سے پہلے پوچھتا ہے ’’آپ کے گھر میں باریک پن والا چارجر ہے؟‘‘

؎آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

اپنا تبصرہ لکھیں