کورونا وائرس اور اسلام

انتخاب خدیجۃالکبریٰ
عامرہ احسان
amira.pk@gmail.com

چین میں حملہ آور کورونا وائرس نے سرا سیمگی پھیلا رکھی ہے۔برقی پیغاما ت میں بیماری، علامات،
احتیاطیں امڈی چلی آتی ہیں۔ گلوبل ولیج ہونے کی بنا پر جہاں اخلاقی، سیاسی، معاشی، معاشرتی بلائیں اور رحجانات گلوبل ہوتے ہیں وہاں وائرس بھی پیچھے نہیں رہتا۔ اسے کسی ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی، سرحدیں نہیں پہچانتا۔ جہاں اس کا حملہ المناک ہے وہاں عبر ت ناک بھی ہے۔ فلو ریڈا کے پا دری نے کورونا کو عذاب الٰہی قرار دیا۔ امریکی عوام کو خبردار کر تے ہو ئے امریکہ کی حق سے نفرت، خدا سے نفرت کی ناپاکی پر متنبہ کیا اور نافرمانی ترک کرنے کی ہدایت کی۔
کیونکہ ہما رے ہاں امر یکہ کا فرمایا ہوامستند ٹھہرایا جاتا ہے۔ہماری حکومت کے دوست ٹرمپ بھی کٹرعیسائی اور ان کی بیٹی یہودی ہے۔ سو آسمانی مذاہب ایسی آفا ت پر فطری طو ر پر رجوع الی اللہ کے قائل ہیں ہم خاتم الانبیاء کی امت کامل واکمل آسمانی ہدایت کی وارث اور محافظ ہیں۔چنانچہ جسم وروح کے حوالے سے مکمل تعلیمات ہمارے پاس ہیں۔مسلسل حالات و واقعات اسلام کی حقانیت، کاملیت اور پاکیزگی وفلا ح پر دلیل بنتے ہیں۔ ابتداءا” تو کورونا وائرس Batسوپ کا نتیجہ بتایا گیا۔
اس وقت Batسے ہم نے مراد کرکٹ کا بلا لیا اور گھبراگئے کہ یہ وائر س، بیٹ سوپ کا نتیجہ ہے جو بلے کی حکمرانی کے ہاتھوں پاکستان کا مقدر بنا۔ پھر پتہ چلا یہ تو چمگادڑ والا بیٹ ہے۔نیز لومڑی بھیڑیا سانپ مگر مچھ کتے بلیاں، جانور (درندے، حرام) کھا نے کا نتیجہ ہے۔ ضرورت صرف سورہ المائدہ پڑھ، سمجھ لینے کی ہے جس میں خوراک کی حلت وحرمت کے اصول ضوابط ارشاد فرما ئے ہیں۔ لیکن ملکی سطح پر قرآن ناخواندگی تشویشناک حد تک کمترین سطح پر ہے۔دنیاوی تعلیم کی سینکڑوں کتب میں غو طے لگانے والے،نہیں جانتے رب تعالی نے مجھ سے کلا م میں کیا احکامات صادر فرمائے، کیا بشارتیں دیں کیا تنبیہات فرمائیں، کیا تا ریخ پڑھائی۔
قرآن کلا م اللہ ہے جب آپ اسے اٹھاتے پڑھتے ہیں، رب کا ئنات براہ راست اپنے بندے سے مخاطب ہو کر تربیت، شفقت، انز ار، رہنمائی سبھی فرماتا ہے۔ قرآن کھولتے ہی آپ کوہ طور پر جا بیٹھتے ہیں!سبحان اللہ! نماز قرآن کیلئے بار بار وضو کرتے، تو کو رونا وائرس کی تشویش بھی بہہ جاتی ہے کیونکہ وضو اس کے خلا ف تحفظ کی پہلی دفاعی لائن ہے۔صفائی نصف ایمان ہے۔ کھا نے سے پہلے اور بعد ہا تھ دھونا بھی تخفظ ہے۔ دنیا بھر کے ترقی یافتہ تو بیت الخلاء میں بھی ٹشو پیپر پر قانع ہیں۔ سو بیماریاں تو پھیلیں گی۔
سور ہ المائدہ اصول یہ بیا ن کرتی ہے کہ ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں۔ مویشی قسم کے سب جانور حلال ہیں، نباتی غذا کھا نے والے۔
جب کہ درندے، حیو انی غذا کھانے والے،کچلیاں رکھنے والے جانوراور پر ندے بھی جو حیوانی غذا یا مردارخور ہوں حرام قرار دیئے ہیں۔
حاکم مطلق رب ہے سو حلت وحرمت کے تعین کے اصول رب تعالیٰ نے دیئے، تفاصیل نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہیں۔ یہ ہدایات کامل واکمل ہیں کیو نکہ تخلیق اللہ کی ہے۔’کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا‘حالانکہ وہ با ریک بین اور با خبر ہے‘۔ (الملک۔ 14)
جن جانوروں کے کھانے اور ان کے گو شت کی مارکیٹ وائر س کی جڑ بنیاد ہے، اللہ نے فطری طو ر پر ہمیں ان سے بچا کر پالا ہے۔
مو یشیوں کا ذبیحہ بھی اس طریقے پر سکھایا ہے جس سے خو ن (جو آلودگی کا با عث ہوتا ہے اور اسی لیے حرام ہے) کا سارا نکاس ہو جاتا ہے۔ یہ طریقہ سائنسی طور EEG) ٹسٹ( پر ثابت ہے کہ جا نور کیلئے بھی (بر قی جھٹکا کی نسبت) کم تکلیف دہ ہو تا ہے۔ پا کیزہ خوراک ہی پا کیزہ اطوار کا سبب بنتی ہے۔ مجمو عی طور پراحادیث میں بھی رزق حلال اہم ترین مو ضوعات میں سے ہے ۔رشوت، غصب شدہ ما ل ، وراثت کے احکا م کی خلا ف ورزی ، سود، شراب کی آمدنی،عدم ادائیگی زکوٰ ۃ نہ ہو۔ بھا ری ترین ما لی گناہ عوام النا س (بیت الما ل، قومی خزانہ) کے ما ل پر ہاتھ صاف کر نا ہے۔
خلفائے راشدین کو جس پر ہم نے لرزتے دیکھا۔
غرض انسانی صحت (جسمانی، روحانی، نفسیاتی، دما غی) کا سارا دارو مدار اکل حلال پر ہے!
دین صرف نما ز، مسجد، نکا ح،طلاق تک محدود نہیں بلکہ اسی سورۃ مبا رکہ کا یہ سبق پکا کر لیجئے: (کیو نکہ کوروناوائرس
سے حقیقی پنا ہ صر ف اللہ ہی دے سکتا ہے!)’
آج میں نے تمہا را دین تمہارے لئے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تما م کر دی ہے اور تمہا رے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے‘۔ (آیت3)
آخری حج کے موقع پر اسلام، ایک مکمل نظامِ زندگی، اللہ کی حاکمیت کو قائم کرتے ہوئے جزیرہ نمائے عرب میں لاگو ہو چکا تھا۔ اس کے 100 سال کے اندر اندر تین براعظموں پر اسلام کا جھنڈا لہرا رہا تھا تو اپنے فطری پاکیزہ اعلیٰ و برتر نظامِ زندگی کی بنا پر۔ (آج اس کی کمزوری کی وجہ ہم امتی ہیں، لذت ایمان سے نا آشنا، لاعلم) یہ وہ نعمت عظمیٰ ہے جو پہلے ہماری دنیاوی زندگی کو پرسکون، پاکیزہ عافیت کا گہوارہ بناتی ہے۔ فرد فرد کی تربیت کرتی، (حکمرانوں پر خشیتِ الٰہی کا لرزہ طاری کرتی ہے) اور بعد از موت بھی جنت کی پاکیزہ قیام گاہوں کا مژدہ سناتی ہے۔
یہ ہمہ نوع عذابوں میں پھنسی دنیا جس پر اگر ایک طرف ٹرمپ، مودی نما وائرس جان کے لاگو ہیں، آئی ایم ایف کی چکی میں انسان پیسے جا رہے ہیں تو دوسری طرف، آگ، طوفانوں، موسمی تھپیڑوں اور کورونا جیسے وائرس کا سامنا ہے۔ نجات حیات بخش دین، اسلام میں ہے (جس پر آج خود مسلمان ہی خزانے کے سانپ بنے بیٹھے ہیں۔) چینی مسلمانوں کو جبر کے کیمپوں میں بند کر کے جس قیامت سے گزارا جا رہا تھا، اس پر ہم نہ صرف خاموش رہے بحیثیت امت، بلکہ تائید تک کر دی۔ بس یہی جرم کورونا سے ڈراتا ہے۔ اللہ ہم پر رحم فرما دے۔ (آمین) بے زبان مظلوم ایغور مسلم آبادی کی آہوں کراہوں کا یہ نتیجہ ہے۔

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر۔
مرض کی درست تشخیص کے بغیر علاج ممکن نہیں۔ ہمیں توبۃ النصوح کی ضرورت ہے۔ ’اللہ کی پکڑ بہت شدید ہے‘ اللہ کی تنبیہ ہے۔ اللہ کے لشکر (جنود) ابابیلوں کی صورت، مینڈکوں، سرسریوں، جوؤں حقیر مچھر کی صورت بھی آئے، انسانی تکبر کی تحقیر کے لیے۔ سیلابوں، طوفانوں، زلزلوں کی صورت بھی عذاب بن کر اترے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں مہین ترین (نظرنہ آنے والے) سپربگ اور کورونا وائرس کی صورت چیلنج بن کر نازل ہوئے
پر دے کی اجازت نہ دینے والے، نقابوں کو جرم اورقابل جرمانہ لائق تعزیر گرداننے والی دنیا منہ چھپائے نقاب (ماسک) لگائے سرتاپا اوڑھے ڈھانپے پھرتی ہے۔ لامساس (مجھے نہ چھونا) کہتی مصافحے سے بھی بچتی پھرتی ہے، کورونا نہ آن ٹپکے! تاہم ہمیں اپنے ہاں افواہ سازی، خوف کی فضا کی درستی لازم ہے۔
یہ موسم تو پہلے ہی نزلہ زکام فلو اور عام نمونیے کا ہوا کرتا ہے۔ اب معصوم ستھری بکری مرغی کا گوشت کھانےو الے کی کھانسی، چھینک سے دہل جانے اور اس سے چھپتے پھرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
تینوں آخری قل بالخصوص سورۃ الفلق ہر نماز کے ساتھ پڑھ لیجیے۔ جو آپ کو تمام مخلوقات کے شر سے محفوظ رکھنے کا سامان ہے۔ (من شرما خلق) صبح شام کے اذکار ہیں ہی آپ کی ہمہ نوع حفاظت کے لیے۔ خوف پھیلانے کی بجائے دعائیں پھیلائیے۔ آیت الکرسی، بسم اللہ الذی لا یضر……الخ …… جس دعا بارے آپؐ نے فرمایا: ’جو شخص ہر صبح شام 3 مرتبہ یہ دعا پڑھے تو اسے کسی چیز سے نقصان نہ پہنچے گا‘۔ (ابو داؤد) سو کورونا کی کیا اوقات؟
اسی طرح نظر بد اور اللہ کی پناہ میں دینے کی دعا میں ہر زہریلی چیز سے تحفظ بھی شامل ہے۔ (بخاری، مسلم کی 2 دعائیں)

مزید سورۃ المومنون آیت93،94میں مذکور عذاب کی صورت میں اللہ سے پناہ مانگے جانے والی دعا۔
تحفظ کے لیے عملی حکم حدیث کی روسے یہ ہے کہ وبائی علاقے سے باہر نہ جاؤ اور اس علاقے کی طرف نہ جاؤ۔ بیماری محدود رہے گی۔ قرانطینی پابندی حکم شریعت ہے۔ (اس وقت دیا جب یورپ جاہل مطلق تھا)سو آج ہمہ نوع جہالتوں، اخلاقی گراوٹ کی بنا پر خود کردہ گناہوں کی پکڑ سے بچنے کا سامان صرف اسلام میں ہے۔ لیکن……
شاد باد اے مرگ
عیسیٰ آپ ہی بیمار ہے۔
ہمیں پہلے خود یقین کی منزل سر کرنی ہے۔
یقین پیدا کراے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے!
سو خوف کورونا کا نہیں، اپنے گناہوں کا زیادہ ضروری ہے جو کورونا سے زیادہ جان لیوا ہیں۔ رہی موت تو: ’کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر مر نہیں سکتا۔ موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے‘۔ (اٰل عمران۔ 145) فلسفۂ موت سمجھ لیا ہوتا تو کفر کے مقابل طالبان کی طرح ڈٹ جانے کا بے مثل حوصلہ ہوتا!
سیدنا علیؓ نے فرمایا تھا: میں اپنی زندگی کے 2 دنوں سے کیوں ڈروں؟ وہ دن، جب موت میرے مقدر میں نہیں تو اس کا کوئی ڈر مجھے نہیں۔ اور جس دن موت میرا مقدر ہو گئی، اس دن سے ڈرنے کا کوئی فائدہ نہیں! وہ آ کر رہے گی‘۔ (یہ خوب صورت اشعار حسن البناء نے پڑھے جب لوگ حکومت سے انہیں ڈراتے تھے!) امت کے لیے اپنے اعمال سے ڈرنے کا وقت ہے یہ۔ فلسطینیوں پر امن منصوبے کے نام سے قدس سے محرومی ہمارا مقدر ہونے کو ہے اور مسلمان بادشاہ اس کی تائید کر رہے ہیں۔ موتمر عالم اسلامی کا وفد پولینڈ گیا اور یہودی ہولو کاسٹ کی جگہ پر سعودی وفد نے با جماعت نوافل ادا کیے!
یک جہتی کے؟
صابرہ شتیلہ کے مقتلوں اور روہنگیا ہولوکاسٹ کے مقامات پر توبۃ النصوح کے لیے سجدہ ریز ہونے کی ضرورت تو کسی کا نصیب نہ ہوئی! یہ امت کے جسد واحد کو لاحق کورونا سے بدتر وائرس ہے۔
علاج اس کا وہی آب نشاط انگیز ہے ساقی!

اپنا تبصرہ لکھیں