اسلام کی نظر میں ووٹ اور ووٹرز

اسلام کی نظر میں ووٹ اور ووٹرز

اسلام کی نظر میں ووٹ اور ووٹرز


علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی سجادہ نشین

مرکز اویسیاں نارووال

م6491308وبائل نمبر0300-

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل سلیم دی ہے ۔جس سے وہ اپنے اچھے اور برے کی تمیز کر سکتا ہے ۔اپنی رائے سے انسان اپنے من پسند حاکم منتخب کرتا بھی ہے اور ان کو ایوان اقتدار سے رخصت بھی کر سکتا ہے ۔اس رائے کو ہم ووٹ کا نام دیتے ہیں ۔ ووٹ ایک قسم کی گواہی ، سفارش اور وکالت ہے ۔ جس کے حق میںیہ گواہی ، سفارش یا وکالت ہوتی ہے وہ منتخب ہو کر اسمبلی یا پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہوتا ہے ۔اگر وہ اس ووٹ کے ذریعے کامیابی کے بعد اچھے کام کرتا ہے تو ووٹر کو اس کا اجر و ثواب ہو گا اور اگر برے کام کرتا ہے ، کسی کی حق تلفی کرتا ہے یا ملک و قوم کو عدم استحکام سے دو چار کرتا ہے تو اس کا گناہ ووٹر کے سر بھی آئے گا۔اسمبلی ،کونسل یا کسی دوسرے ادارے کے انتخابات میں اس شخص کو کس صورت میں امیدوار ہونا چاہئے ۔نیز کسی امیدوار کے حق میں ووٹر کو اپنا ووٹ کس طرح استعمال کرنا چاہیے؟ عام طور پر لوگ اس کو ذاتی اور نجی معاملہ سمجھتے ہیں ،حالانکہ یہ خالص دینی معاملہ ہے ۔ آج کی دنیا میں اسمبلیوں ،کونسلوں ،میونسپل وارڈوں اور دوسری مجالس اور جماعتوں کے انتخابات میں جمہوریت کے نام پر جو کھیل کھیلا جا رہا ہے کہ زور وزر اور غنڈہ گردی کے سارے طاغوتی وسائل کا استعمال کر کے یہ چند روزہ عارضی اعزاز حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے خطرناک نتائج ہر وقت آنکھوں کے سامنے ہیں اور ملک و ملت کے ہمدرد و سمجھدار انسان اپنے مقدور بھر اس کی اصلاح کی فکر میں بھی ہیں لیکن عام طور پر اس کو ایک ہار جیت کا کھیل اور خالص دنیاوی دھندہ سمجھ کر ووٹ لئے اور دیئے جاتے ہیں۔ پڑھے لکھے دیندار مسلمانوں کو بھی اس طرف توجہ نہیں ہوتی کہ یہ کھیل صرف ہماری دنیا کے نفع و نقصان اور آبادی یا بربادی تک نہیں رہتا بلکہ اس کے پیچھے کچھ معصیت اور گناہ و ثواب بھی ہے جس کے اثرات اس دنیا کے بعد بھی یا ہمارے گلے کا ہار عذاب جہنم بنیں گے ۔ یا پھر درجات جنت اور نجات آخرت کا سبب بنیں گے اور اگر چہ آج کل اس اکھاڑہ کے پہلوان اور اس میدان کے مرد ، عام طور پر وہی لوگ ہیں جو فکر آخرت اور خدا و رسول کی طاعت و معصیت سے مطلقاً آزاد ہیں اور اس حالت میں ان کے سامنے قرآن و حدیث کے احکام پیش کرنا ایک بے معنی معلوم ہوتا ہے ۔لیکن اسلام کا ایک یہ بھی معجزہ ہے کہ پوری جماعت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوتی ،ہر زمانہ اور ہر جگہ کچھ لوگ حق پرست بھی قائم رہتے ہیں جن کو اپنے ہر کام میں حلال و حرام کی فکر اور خدا و رسول اللہ ۖ کی رضا جوئی پیش نظر رہتی ہے ۔ نیز قرآن کریم کا یہ بھی ارشاد ہے یعنی آپ نصیحت کی بات کہتے ہیں کیونکہ نصیحت مسلمانوں کو نفع دیتی ہے ۔اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ انتخابات میں امیدواری اور ووٹ کی شرعی حیثیت اور ان کی اہمیت کو قرآن و سنت کی رو سے واضح کر دیا جائے شاید کچھ بندگان خدا کو تنبیہہ ہو اور کسی وقت یہ غلط کھیل صحیح بن جائے ۔ یہ جاننے سے پہلے کہ ووٹ کی اسلامی و شرعی حیثیت کیا ہے ؟ حسب ذیل ارشادات و ہدایات کا ذہن نشین ہونا ضروری ہے ۔جھوٹی گواہی:1 حضور اکرم ۖ نے جھوٹی شہادت اور گواہی کو شرک کے ساتھ ساتھ کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا۔(مشکوٰة شریف)2 بخاری شریف اور مسلم شریف کی ایک حدیث شریف میں جھوٹی گواہی کو اکبر کبائر فرمایا ہے ۔3 قرآن پاک میں ہے کہ جھوٹی بات کہنے سے دور رہو ۔ (الحج 30)گواہی چھپانا:قرآن پاک نے گواہی اور شہادت کو چھپانے اور ادائیگی نہ کرنے سے نہ صرف روکا اور منع فرمایا بلکہ ایسے آدمی کا دل (سیاہ اور ) گنہگار قرار دیا ہے ۔ ارشاد فرمایا :ولا تکتموا الشھادة ومن یکتمھا فانہ اثم قلبہ۔ترجمہ”تم گواہی کو نہ چھپائو اور جو شخص گواہی کو چھپائے اس کا دل گنہگار ہے ۔”(البقرہ 283)گواہی میںعدل و انصاف:گواہی و شہادت دیتے وقت ضروری ہے کہ عدل و انصاف کا دامن کسی حال میں بھی ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے ۔ اگر چہ وہ گواہی کسی قریبی رشتہ دار اور عزیز کے خلاف ہو ۔  ارشاد باری تعالیٰ ہے :”جب تم کوئی بات کہو تو انصاف کرو خواہ وہ شخص (جس کے خلاف بات کہی جارہی ہے )تمہارا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو ۔”(النساء 135) ارشادات و ہدایات کی روشنی میں دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ گواہی اور شہادت دینا فرض ہے اور گواہی و شہادت کو چھپانا اور ادائیگی نہ کرنا بہت بڑ ا جرم و گناہ ہے ۔ عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ گواہی ضرور دی جائے اور سچی گواہی اور شہادت دی جائے ۔ ذات پات اور کنبہ برادری و قرابت داری ذاتی تعلقات و دوستی کی پرواہ کئے بغیر اس کے فرض کو ادا کیا جائے ۔گواہی اور ووٹ:جس طرح جھوٹی گواہی دینا حرام و ناجائز ہے یا ذات برادری اور ذاتی تعلقات کے پیش نظر گواہی اور شہادت دینا ایک گنائو نا جرم ہے یا گواہی چھپانا اور ادائیگی سے گریز ایک اخلاقی اور روحانی بیماری ہے ۔بالکل اسی طرح ووٹ دیتے وقت بھی دیکھنا ضروری ہے کہ حق و صداقت اور امانت و دیانت اور اہلیت و صلاحیت کس طرف ہے ؟ کیونکہ ووٹ کی حیثیت و کیفیت بعینہ اگر شہادت والی نہ بھی ہو تو تا ہم اس کی حیثیت شہادت و گواہی اور شہادت پر قیاس کرنے میں کوئی امر مانع نظر نہیں آ رہا ۔لہٰذا جس فرد (اگر وہ آزاد کھڑا ہے ) میں جس جماعت و پارٹی (جبکہ امیدوار کسی جماعت کی طرف سے کھڑا ہو ) میں عمدہ عادات و اوصاف اور صالحیت و صلاحیت موجود ہو اس کو اپنا نمائندہ منتخب کرنا ضروری ہے اور اس کے مقابل نا اہل و جاہل اور بد کردار کرپٹ کے حق میں گواہی و شہادت نہ دینی چاہیے بلکہ اس کو مسترد کیا جانا چاہیے ۔ غرضیکہ ووٹر اپنی آخرت اور انجام کو دیکھ کر ووٹ دے محض رسمی مروت یا کسی طمع مروت اور خوف کی وجہ سے اپنے آپ کو اس وبال میں مبتلا نہ کرے ۔سفارش اور ووٹ:قرآن کریم نے اچھی سفارش کو اجر و ثواب قرار دیا ہے جبکہ بری سفارش کو جرم و گناہ قرار دیا ہے ۔فرمایا ترجمہ ” جو شخص اچھی سفارش کرتا ہے اس میں اس کو بھی حصہ ملتا ہے اور جو بری سفارش کرتا ہے تو اس کو برائی میں اس کا بھی حصہ ہوتا ہے ۔(النساء 85) ووٹ کی سفارش و شفاعت والی حیثیت و کیفیت بھی ہو سکتی ہے یعنی ووٹ گویا امیدوار کی نمائندگی کی سفارش کرتا ہے کہ اس کو نمائندہ اور اس کو رکن اسمبلی یا کونسل یا سینٹ بنایا جائے ۔ لہٰذا ووٹر سفارش کرنے سے پہلے یہ دیکھ لے کہ جس کے حق میں وہ سفارش کر رہا ہے وہ قابل و دیانت اور مخلوق خدا کے حقوق خدا کے حقوق صحیح طور پر ادا کر سکتا ہے ؟یا نا اہل و نالائق یا فاسق و فاجر یابد کردار یا ظالم جاگیردار وڈیرہ یا سود خور ملاوٹ کرنے والا تاجر و صنعت کار ہے ؟اگر ووٹر نے پہلی قسم کے آدمی کی سفارش کی تو وہ اجر و ثواب کا مستحق ہے اور اگر ووٹر نے دوسری قسم کے آدمی کی سفارش کی تو اس نے بہت برا کیا کہ کرپٹ و بد عنوان کو ظلم کرنے کیلئے مخلوق خدا پر مسلط کرنے میں ووٹرنے مدد و تعاون کیا ۔ حالانکہ تعاون نیکی اور تقویٰ کی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ گناہ و نا انصافی کی بنیاد پر۔ معلوم ہوا کہ ووٹرز حضرات کے ووٹوں سے کامیاب امیدوار اپنے پانچ سالہ دور میں جو نیک و بد عمل و کردار ادا کرے گا وہ ووٹرز بھی اس میں برابر کے حصہ دار اور شریک ہوں گے ۔ووٹ اور وکالت:ووٹ کی ایک تیسری شرعی اور اسلامی حیثیت وکالت کی بھی ہو سکتی ہے کہ ووٹر اس امیدوار کو اپنا نمائندہ اور وکیل بناتا ہے لیکن اگر یہ وکالت ووٹر کے کسی شخصی حق کے متعلق ہو تی ہے اور اس کا نفع و نقصان صرف اور صرف اس کی ذات تک محدود ہو تو اس کا یہ (ووٹر )خود ذمہ دار ہوتا ہے مگر یہاں ملک و ملت اور پوری قوم کے نفع و نقصان کا معاملہ و مسئلہ ہے ۔لہٰذا اگر کسی نا اہل و بد کردار اور کرپٹ کو وکیل بنایا گیا تو اس کی کرپشن اور قوم کے حقوق کو پامال کرنے کا گناہ بھی اس کی گردن پر ہو گا۔  ووٹ کی ایک قسم مشاورت بھی ہے لہٰذا اہل حق میں مشورہ دینا چاہیے ۔ ووٹ کی ایک نوعیت امانت والی بھی ہو سکتی ہے اور امانت تو اہل کے سپرد کرنا فرض ہے ۔ ووٹ کا ایک فقہی اعتبار فیصلہ و قضا ء کا بھی ہے اور فیصلہ و قضا کا مبنی برعدل و انصاف ہونا ضروری ہے ۔البتہ ناگزیر حالات میں کوئی جماعت اور پارٹی بائیکاٹ بھی کر سکتی ہے ایسے حالات میں کوئی حرج نہیں ہو گا ۔ پوری گفتگو کی تلخیص کچھ اس طرح سے ہے کہ :1 ووٹ کی حیثیت گواہی اور شہادت کی سی ہے اور جھوٹی گواہی دینا یا سچی گواہی دینے سے گریز کرنا یا اس پر کوئی اجرت و معاوضہ طے کرنا یا لینا شرعاً حرام ہے ۔2 ووڑ ایک قسم کی سفارش ہے لہٰذا غلط آدمی کی سفارش کرنا (جبکہ دو سری طرف نیک و باکردار یا کم درجہ کا غلط امیدوار موجود ہو ) ایک گھنائو نا جرم ہی نہیں گناہ بھی ہے ۔3 ووٹ کی حیثیت وکالت کی بھی ہو سکتی ہے لہٰذا بہتر اور خوب سے خوب تر کے لئے وکالت کرنی چاہیے ۔ یا کم سے کم برے کے لئے وکالت کرنی چاہیے۔4 ووٹ ایک امانت اور فیصلہ ہے ۔رہا بائیکاٹ تو وہ حالات پر مبنی ہے ۔امیدوار کی اہلیت: کسی ممبری کے انتخابات کے لئے جو امیدوار کی حیثیت سے گھڑ ا ہو وہ گو یا پوری ملت کے سامنے دوچیزوں کا مدعی ہے ایک یہ کہ وہ اس کام کی قابلیت رکھتا ہے جس کا امیدوار ہے ۔دوسرے یہ کہ وہ دیانت و امانت داری سے اس کام کو انجام دے گا ۔ اب اگر واقعی وہ اپنے اس دعویٰ میں سچا ہے یعنی قابلیت بھی رکھتا ہے اور امانت و دیانت کے ساتھ قوم کی خدمت کے جذبہ سے اس میدان میں آیا تو اس کا یہ عمل کسی حد تک درست ہے اور بہتر طریقہ یہ تھا کہ کوئی شخص خود مدعی بن کر کھڑا نہ ہو بلکہ مسلمانوں کی کوئی جماعت اسکو اس کام کا اہل سمجھ کر نامزد کر دے اور جس شخص میں اس کام کی صلاحیت ہی نہیں وہ اگر امیدوار ہو کر کھڑا ہو تو یہ بات ہر گز مناسب نہیں بلکہ حقیقت میں وہ اہلیت ہی نہیں رکھتا ہے ۔ اس کا ممبری میں کامیاب ہونا ملک و ملت کے لئے خرابی کا سبب تو بعد میں بنے گا پہلے تو وہ خودپوری قوم کا  مجرم ہو کر عذاب جہنم کا مستحق بن جائیگا ۔اب ہر وہ شخص جو کسی مجلس کی ممبری کے لئے کھڑا ہوتا ہے اگر اس کو کچھ آخرت کی بھی فکر ہے تو اس میدان میں آنے سے پہلے خود اپنا جائزہ لے لے اور یہ سمجھ لے کہ اس ممبری سے پہلے تو اس کی ذمہ داری صرف اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال ہی تک محدود تھی لیکن کسی مجلس کی ممبری کے بعد جتنی خلق خدا کا تعلق اس مجلس سے وابستہ ہے ان سب کی ذمہ داری کا بوجھ اس کی گردن پر آتا ہے اور وہ دنیا و آخرت میں اس ذمہ داری کا جواب دہ ہے ۔ووٹرزکی ذمہ داری :جب یہ بات واضح ہو گئی کہ ووٹ کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟تو خود بخود ظاہر و ثابت ہو گیا کہ اگر ووٹر نے ووٹ کو جو شہادت و گواہی ہے، چھپا یا یا جھوٹ بولا یا معاوضہ لیا تو جرم و گناہ ہو گا۔ لہٰذا ووٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہادت و گواہی دے لیکن مستحق کے حق میں۔ وہ سفارش کرے لیکن نیک و باکردار کے حق میں وہ وکالت کرے لیکن ایسے امیدوار کی جس کے دل میں خوف خدا اور عشقِ رسول ۖہو وہ مشورہ دے امانت کی ادائیگی کرے اور فیصلہ سنائے لیکن اہل حق کے حق میں مشورہ اور اہل کو سپرد کی گئی امانت اور صاحب حق کے حق میں فیصلہ سنائے ۔  اللہ تعالیٰ ہمیں انتخابات میں قابل ترین ، دین دار ، محب وطن اور قوم کے خیر خواہ امیدوار کو ووٹ دینے کی توفی عطا فرمائے تاکہ پاکستان میں استحکام و ترقی اور نظام مصطفےٰ ۖ کی بہاریں نصیب ہوں ۔ آمین

اپنا تبصرہ لکھیں