دادا ہمارے کہا کرتے تھے کہ جو اچھی غذا نہیں کھاتا ، اس کو بری دوا لینا پڑتی ہے۔ وہ خود علاج بالغذا کے ایسے اعلی مؤید تھے کہ ہر بیماری کا علاج صرف غذا سے کرنے میں یقین رکھتے۔ شاید ہی کبھی ڈاکٹر کے پاس گئے ہوں۔ ان کے کچھ دوست یار ڈاکٹر تھے، ان کے پاس صرف سگریٹ پینے جایا کرتے۔ ایک آدھ دفعہ اگر انجیکشن لگوانے چلے بھی گئے تو پہلوانی (یعنی باڈی بلڈنگ) کے زعم میں مسلز ( پٹھے) یوں اکڑا لیتے کہ ڈاکٹر کی چبھوئی سوئی اندر نہ جا سکے، پھر ایسے قصے سب کو سناتے۔
دادی اماں کا ایک بار ایکسیڈنٹ ہوا، ان کی پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں تو دادا نے گھر میں ہی علاج کیا تھا۔
میں نے حیرت سے دادی اماں سے پوچھا:
کیسے کیا تھا؟
کہنے لگیں، بڑے کا قیمہ، چانپ اور پٹھ کی یخنی اور دیسی مرغ کا شوربہ۔
میں پھر حیران: دادی اماں، اس سے پسلیاں کیسے جڑ سکتی ہیں؟
خیر، انہوں نے بتایا کہ کچھ مرہم بھی گھر ہی بنائے، لیکن زور سارا کھانے سے علاج پر تھا۔
ان کا اپنا پیشہ سپاہ گری تھا، پنجاب پولیس میں تھے۔ البتہ دہلی میں محلہ حکیماں کے قربت کا اثر یہ تھا کہ پولیس والے کم اور حکیم زیادہ بن چکے تھے۔
دیسی مرغا ہمارے گھر میں ایک وقت تو روٹین میں ہی بنا کرتا تھا، پھر جنک فوڈ یعنی سلیس اردو میں “کباڑ کھانا” اور برائلر کے آنے اور بچوں کے اسے پسند کرنے کے بعد، کباڑ کھانے کی ایسی بھرمار ہوئی کہ دیسی مرغا ہمارے دسترخوان سے آہستہ آہستہ غائب ہوتا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمیں احساس ہوا کہ ہماری ہڈیوں کو مضبوطی اور جسم کو طاقت کی ضرورت ہے سو توانا و تندرست و اصیل دیسی مرغا ڈھونڈنے کا جنون پیدا ہوا۔
ہم نے کہیں سے نسلی چوزے خریدے اور خود مرغیاں پال لیں۔ گھر کرائے کا تھا نیچے ہم اور اوپر مالکِ مکان رہتے تھے۔ چھ عدد مرغیاں اور ایک بدقماش سا مرغا، آخری چیخ رات کو بارہ ایک بجے مارتے تھے اور پہلی چیخ صبح چار بجے، تو یوں کل ملا کے ہمیں صرف دو سے تین گھنٹے سونے کے نصیب ہوتے تھے۔ اور اس سے پہلے کہ مالکِ مکان ہمیں گھر سے نکال دیتے، ہم نے ایک ایک کر کے مرغیوں کو اُن کے ڈربے سے نکالا، آدھی مالکِ مکان کو پیش کیں اور آدھی ہم نے کھا لیں۔
اس کے بعد مصری یا ہائبرڈ قسم کے مرغے ، جو دیسی کہہ کر بیچے جاتے ہیں، اس پر پیسے ضائع کئے لیکن اس کی جینیاتی ساخت اور ذہنی اُپچ سے غیر مطمئن ہونے کی وجہ سے ان سے زیادہ عرصہ نبھا نہ ہو سکا ۔
ہمارا خیال ہے کہ مرغا وہی ہونا چاہیے جو کیڑے، دانہ دنکا ، ڈھونڈ کر چگنے والا ہو ، اپنی مرضی کی زندگی گزارتا ہو، مرضی کے مطابق ٹھونگیں بھی مارتا ہو، جری اور جرار صفت ہو ،
دو چار مرغوں کا
opinion leader
بھی ہو اور برا وقت آنے پ تھوڑا بہت سہی، لیکن اُڑ کر ، بھاگ کر جان بچا سکے۔
ہمارے گھر کے پیچھے برائلر مرغی بیچنے والے قصائی سے ان موضوعات پر بات چیت ہوتی ہے، اس بھلے مانس نے ایسی ہی کسی گفتگو کے دوران، پنجرے میں کھلے دروازے کے سامنے ڈھیر، روئی کے گالوں جیسی سفید مرغیوں کی طرف اشارہ کرکے کہا: باجی، جو خود چل کر اپنی جان نہیں بچا سکتی، وہ آپ کی جان کیا بنائے گی؟
یہ کہہ کر اس نے پنجرے میں بیٹھی ایک محوِ خرام اور سست ترین مرغی کو جھپٹ کر اس پر تکبیر پڑھی۔ اس مرغی میں نہ زندگی کی رمق تھی، نہ زندہ رہنے کا شوق، نہ بچاؤ کا کوئی گُر۔ جیسی بددلی سے وہ زندہ تھی، اسی بددلی سے وہ مذبح خانے والی چمنی میں کٹی گردن کے بل الٹی لٹک گئی۔
دل اچاٹ سا ہو گیا۔
سوچا، اپنا بھی پروٹین کے نام پر ایسی جذبات، مزاحمت اور غیرت سے خالی مرغی کھا کر یہی حال ہو چکا ہے۔
دفتر جاتے ہیں، کام کرتے ہیں، گھر آتے ہیں، برائلر مرغی کھاتے ہیں، کتاب پڑھتے ہیں، فیس بک ریل دیکھ کر سو جاتے ہیں۔ دوست، بچے، ماں باپ ، میاں، باس – کسی کی بات پر کوئی رد عمل نہیں دیتے۔ زندگی میں مزاحمت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی، آہستہ آہستہ اختلاف رائے بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔
جو دن کہتا ہے اسے کہتے ہیں دن ہے، جو رات کہتا ہے اسے کہتے ہیں تُو بھی ٹھیک ہے۔
تف ہے ایسی زندگی پر۔
ایسے زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے۔
یاک ( گلگت بلتستان میں پایا جانے والا پہاڑی بیل) کا گوشت کھا کر کولیسٹرول بڑھنے کا خدشہ نہ ہو تو ہم بھی روز اس کے پارچے کھا کر سینگ اگا لیں۔
وائے حسرت!
ایسے میں ہمارے جیٹھ صاحب کے توسط سے ہماری ملاقات مرغی کی ایک قسم،
cockerel
کاکرل” سے ہوئی۔”
سنا ہے پنجاب میں انہیں پٹھے کہتے ہیں۔
الُّو کے نہیں، مرغی کے پٹھے۔
پہلے شاید یہ زیادہ کھائے جاتے تھے، لیکن اب شہروں میں یہ قسم نایاب ہے۔ جن گھروں میں شوقین ہوتے ہیں، صرف وہی انہیں رکھتے ہیں ، یعنی جن کا ذہن اور دن ہماری طرح سارا دن دیسی ، آرگینک کھانے ڈھونڈنے میں صرف ہوتا ہے۔
کاکرل دراصل وہ کم عمر، نوجوان نر مرغ ہوتا ہے جو بلوغت کی دہلیز پر کھڑا بانگیں دے کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس کی بانگ مرغے کی طرح پختہ کار ہوتی ہے نہ نظر، تجربہ صفر ، جوش سے بھرا ہوا، چونکہ اوّل جوانی کا زور اسے نچلا نہیں بیٹھنے دیتا، سو اکثر جارحانہ اور مزاحمتی رویہ اپناتا ہے۔ اپنا تو ایمان ہے کہ حلال جانور کی مزاحمت بڑھنے سے پہلے ہی کاٹ کر کھا لینا چاہیے، بعد میں کلغی نکل آئے تو کم بخت ہاتھ نہیں آتا۔
یوں ہماری تلاش ختم ہوئی اور سردیوں میں اس خاص نسل کے نو عمر مرغ کا انتظار رہنے لگا۔
اب جب کاکرل یا پٹھے گھر میں آ جائیں تو گویا عید کا سماں ہوتا ہے۔ اگر مصالحوں کا پورا مجموعہ میسر ہو تو انہیں سو رنگ سے باندھا جاتا ہے۔
سردی شروع ہونے سے اب تک چھ مزاحمتی کھا چکے ہیں، لیکن پھر بھی دل میں مزاحمت کا شعلہ نہیں بھڑک رہا۔ اب کی بار ذاتی زمین پر بڑا سا ڈربہ بنوائیں گے، ساتھ اپنے لئے چھوٹا سا گھر بھی بنوا لیں گے تاکہ اپنی نگرانی میں اصلی مزاحمتی مرغ کی پرورش کر سکیں اور وقت آنے پر اس کا شوربہ پی سکیں کہ اچھی غذا ہی ہمیں بری دوا سے بچائے گی
تحریر
قرت العین حیدر

اف اف کیا تحریر ہے قرت العین صاحبہ کی انتخاب کرنے والے کو داد دینی چاہیے۔
آجکل ایسی تحریریں نایاب ہیں۔