Category: شاعری

  • یہ کس طرح کے وجود سے آج مل رہی ہوں

    یہ کس طرح کے وجود سے آج مل رہی ہوں

    کلام : شعاعِ نور یہ کس طرح کے وجود سے آج مل رہی ہوں ٹھٹھرتے منظر میں برف کی سل وجود میرا نہ کوئی حدت نہ کوئی شدت نہ کوئی آہٹ نہ کوئی دستک یہ بے خبر سا وجود میرا وہ کیسے لمحے کی ابتدا تھی یہ کیسے لمحے کی انتہا تھی کیا میری تقدیر…

  • یہ سال بھی آخر بیت گیا

    یہ سال بھی آخر بیت گیا

    یہ سال بھی آخر بیت گیا کلام : عباس خان یہ سال بھی آخر بیت گیا کچھ ٹیسیں ، کچھ یادیں ، کچھ خواب لئے چند کلیاں ، کچھ گلاب لئے کچھ آنکھیں پُر آب لئے کچھ اُجلے دن ، کچھ کالی راتیں کچھ سچے دُکھ ، کچھ جھوٹی باتیں کچھ تپتی رُتیں ، کچھ…

  • سقراط

    سقراط

    سقراطکلام : راحیل خالد میں نے اہلِ خرد کے تراشے ہوئے سب خداؤں کے آگے جنوں کے صحیفے کی آیات پڑھ دیں تو جھوٹے خداؤں کے ہر ایک بے فیض اندھے مجاور نے بھی کفر کا مجھ پہ فتوہ لگایا یہ اجداد کی فکر کے آئینے میں خدا کو بھی کوئی اکائی سمجھ کر عقائد…

  • اب دکھائیں گے کچھ امکانات رقص

    اب دکھائیں گے کچھ امکانات رقص

    غزل افتخار راغبؔ دوحہ قطر اب دکھائیں گے کچھ امکانات رقص بند کر رقّاصۂ خدشات رقص روشنی کے ساتھ آئی روشنی کیوں نہیں کرتے حسیں ذرّات رقص اک گھڑی کی منتظر تھی زندگی اک گھڑی کرتی رہی دن رات رقص تجھ سے دل نالاں نہیں طاؤسِ غم اچھا لگتا ہے بسا اوقات رقص ایک ساعت…

  • تیرے چھونے سے کہاں برف پگھل جا ئے گی

    تیرے چھونے سے کہاں برف پگھل جا ئے گی

    تیرے چھونے سے کہاں برف پگھل جا ئے گی کلام : شعاع نور انتخاب: ڈاکٹر شہلا گوندل عمر رفتہ کے حسیں دور کی معصوم کلی تیری خواہش تھی کوئی نظم لکھوں تجھ پر بھی جس کو پڑھ کر تری آنکھوں میں ستارےاتریں وصل کے رنگ میں مبہم سے اشارے اتریں عمر رفتہ کے حسیں دور…

  • رنج

    رنج

    کلام : ‏نینا ملک رُوحِ مَن! ‏میری محبت ‏مجھے عقیدت سے تکنے والے ‏مجھے ہمیشہ سمجھنے والے ‏میری وحشت زدہ طبیعت سے دل کی بستی بسانے والے ‏میرے شکستہ حروف سن کر نیا تخیل بسانے والے ‏میرے وجود کے سبھی اسرارو رموز سمجھنے والے عظیم عاشق۔۔۔ ‏میں اذیت میں جل چکی ہوں۔۔۔ ‏میرے شعورِ حیات…

  • درویش

    درویش

    درویش کلام : ‏راحیل نظام     اندر ھُو کا شور ہے باہر، آوازوں کا کال ‏میں پنچھی آزاد ہوں اور یہ، نگری مایہ جال ‏آنکھوں میں ماضی مستقبل، پیشانی میں حال ‏چھوڑ مِری لغزش کو بھائی! اپنا آپ سنبھال   ‏او مٹّی پانی آگ ہوا چل ، اپنا رستہ ناپ ‏میں آپ ہوں عنصر…

  • خاک سے اٹھایا ہے

    خاک سے اٹھایا ہے

    کلام : شعاع نور انتخاب : ڈاکٹر شہلا گوندل خاک سے اٹھایا ہے خاک سے بنایا ہے پر سوال باقی ہے قوتوں کا بٹوارہ عدل کے تقاضوں کے ماتحت نہیں رکھا طشت میں پڑی خلعت ہر کسی کے حصے میں کیوں کبھی نہیں آتی کیوں نہیں برابر ہم کس طرح کی ہے تقسیم ٹوٹتے یقیں…

  • ہوا

    ہوا

    غزل شاعر : افتخار راغبؔ دوحہ، قطر شاخِ باطل پہ پھل رہی ہے ہَوا رنگِ وحشت بدل رہی ہے ہَوا بھید کھلنے میں ہو نہ جائے دیر مہرباں ہے کہ چھَل رہی ہے ہَوا روح بے چین اور بدن بے فکر حبس ہے اور چل رہی ہے ہَوا حوصلے کن کے کوہ قامت ہیں کن…

  • ندامت

    ندامت

    ندامت شاعرہ: شعاع نور ندامت ہے ہر اک اس فعل پہ مرشد جہاں جذبات نفسانی کی ایسی حکمرانی ہے کہ نور فطرتی تک اب رسائی ہونہیں سکتی یہ میرا ذہن ناقص کس طرح جانے وہ ادنی رمز اور تیرے اشارے سب انا الموجود کی آواز گو اندر سے آتی ہے مگر بے بس سماعت کو…