❖ حضرت زینبؑ کا خطبہ دربارِ ابنِ زیاد میں:
امام حسینؑ کی شہادت کے بعد جب قافلۂ اہلِ بیت کوفہ پہنچا اور ابنِ زیاد کے دربار میں پیش کیا گیا تو حضرت زینبؑ بنت علیؑ نے وہاں ایک جلالت و شجاعت سے بھرپور خطبہ دیا۔ ان کے الفاظ دشمنوں کے غرور کو چکنا چور کرنے والے تھے۔
الفاظ حضرت زینبؑ (خلاصہ):
“الحمد للہ رب العالمین، وصلى اللہ على رسولہ وآلہ اجمعین۔
اے ابن زیاد! کیا تُو یہ سمجھتا ہے کہ تُو نے ہمیں قتل کر کے ہمیں ذلیل کر دیا؟
نہیں! واللہ! تُو نے ہمیں عزت دی، اور تُو نے خود کو رسوا کیا۔
ہم وہ خاندان ہیں جنہیں اللہ نے نبوت سے سرفراز کیا ہے،
اور تُو ایک آزاد کردہ غلام کی اولاد ہے۔
تُو ہمیں کس منہ سے ملامت کرتا ہے؟
ہم نے اللہ کے راستے میں قربانی دی ہے،
اور ہم اس پر فخر کرتے ہیں۔”
ابن زیاد نے حضرت زینبؑ سے کہا:
“کیسا محسوس کیا تم نے اپنے بھائی اور خاندان کی موت کا؟”
حضرت زینبؑ نے فرمایا:
“ما رأيتُ إلا جميلا” (میں نے سوائے خوبصورتی کے کچھ نہیں دیکھا)
یہ جواب تاریخ کا سب سے باوقار اور روح پرور جملہ بن گیا۔
❖ امام زین العابدینؑ کا خطبہ:
کوفہ میں، اور بعد ازاں شام میں، امام سجادؑ (علی بن حسینؑ) نے ایک بصیرت افروز خطبہ دیا۔ اگرچہ آپ شدید بیمار تھے، لیکن ان کے الفاظ میں عزم اور جلال تھا۔
خطبے کا خلاصہ:
“اے لوگو! میں علی بن حسین ہوں،
میں وہ ہوں جس کے باپ کو بغیر کسی جرم کے قتل کیا گیا،
میں نبی کا نواسہ ہوں،
مجھ سے تمہیں کیا دشمنی تھی؟
کیا تم جانتے ہو کہ تم نے کس ہستی کو شہید کیا ہے؟
تم نے رسولؐ کے جگر گوشے کو قتل کیا ہے۔
اے لوگو! تم پر افسوس!”
✦ کوفہ میں داخلے کا منظر
جب اسیرانِ کربلا کو کوفہ کے بازاروں میں لایا گیا، تو لوگوں نے ابتدا میں خوشی منائی، کیونکہ ان پر جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا تھا کہ یہ خارجی ہیں۔ لیکن جیسے ہی حضرت زینبؑ اور امام سجادؑ کے خطبات سامنے آئے، کوفہ کی فضا بدلنے لگی۔
❖ اہلِ کوفہ کی خواتین کی آہ و بکا:
کئی خواتین نے جب اہلِ بیت کی بے پردگی دیکھی تو رو پڑیں، بعض نے رونے کے ساتھ ساتھ اپنے سر پیٹنا شروع کیا۔ ایک عورت نے کہا:
“اے لوگو! کیا یہی وہ لوگ نہیں جن کی محبت کا ہمیں قرآن میں حکم دیا گیا تھا؟”
✦ قافلے کا شام تک کا سفر
❖ کوفہ سے شام کا سفر – قید و اذیت
اسیران کو کوفہ سے شام لے جایا گیا۔ یہ سفر تقریباً 600 کلومیٹر طویل تھا۔ سفر کئی دنوں پر محیط تھا، اور اس دوران اہلِ بیت کو سخت ترین صعوبتوں سے گزرنا پڑا۔
❖ رسیوں میں جکڑنا:
اہلِ بیت کی خواتین کے ہاتھ اور بچوں کو رسیوں میں باندھ دیا گیا۔ بعض روایات کے مطابق امام زین العابدینؑ کی گردن میں لوہے کا طوق ڈال دیا گیا تھا۔ نیزے پر امام حسینؑ کا سرِ مبارک سب سے آگے تھا، اور دشمن اس کی توہین کرتے جا رہے تھے۔
❖ راستے میں مومنین:
راستے میں بعض مومنین نے اہلِ بیت کی حالت دیکھ کر پانی اور کپڑے دیے، لیکن یزیدی سپاہیوں نے روک دیا۔ حضرت زینبؑ نے کئی مقامات پر لوگوں سے مخاطب ہو کر اپنا تعارف کرایا۔
✦ ہر شہید کی زندگی اور ان کے اقوال
❖ حضرت علی اکبرؑ:
-
عمر: تقریباً 18-20 سال
-
قول: “ابا جان! ہم حق پر ہیں نا؟ تو پھر ہمیں موت کا خوف نہیں۔”
❖ حضرت علی اصغرؑ:
-
چھ ماہ کا شیرخوار، جن کی پیاس کی فریاد تیر سے دبائی گئی۔
❖ حضرت قاسمؑ بن حسنؑ:
-
قول: “چچا! موت میرے لیے شہد سے زیادہ میٹھی ہے، اگر آپ اجازت دیں۔”
❖ حضرت عباسؑ:
-
قول: “اگرچہ میرے بازو کٹ گئے، مگر میں پانی نہیں پیوں گا جب تک میرا بھائی حسین پیاسا ہے۔”
❖ حضرت مسلم بن عوسجہ:
-
پہلا شہید صحابی، جنہوں نے کہا: “یا حسین! اگر مجھے سو بار مارا جائے تو بھی میں آپ کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔”
❖ حضرت حبیب بن مظاہر:
-
امام علیؑ کے شاگرد، جنہوں نے کہا: “میری جان بھی جائے، میرے بیٹے بھی جائیں، پھر بھی دین کے بدلے میں کچھ نہیں۔”
✦ حضرت سکینہؑ کا کردار اور جذباتی کیفیت
حضرت سکینہؑ امام حسینؑ کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی تھیں۔ ان کی عمر تقریباً 4 سال تھی۔ کربلا میں ان کی معصوم فریادیں آج بھی دل ہلا دیتی ہیں۔
❖ واقعہ علی اصغرؑ کے بعد:
جب حضرت علی اصغرؑ کو شہید کر دیا گیا تو حضرت سکینہؑ نے ماں کے گود میں بے تاب ہو کر کہا:
“بابا! کیا اب بھی علی اصغرؑ کو پانی نہیں ملے گا؟”
❖ امام حسینؑ کی شہادت کے بعد:
حضرت سکینہؑ بار بار بابا کے لاشے پر جاتی رہیں، اور کہتی رہیں:
“بابا! اٹھیں نا! دشمن خیمے جلا رہے ہیں…”
❖ قید کے دوران:
شام کے قید خانے میں حضرت سکینہؑ کو امام حسینؑ کا سر مبارک دیا گیا۔ وہ سر کو گود میں رکھ کر روتی رہیں، اور اسی روتے ہوئے انتقال کر گئیں۔

Recent Comments