فجر کا وقت تھا۔ حضرت علیؓ ہاتھ میں لاٹھی لیے، تریسٹھ برس کی باوقار عمر میں مسجدِ کوفہ میں نماز پڑھانے کے لیے تشریف لا رہے تھے۔ راستے میں ہر دروازے پر دستک دیتے اور فرماتے:
“نماز کے لیے اٹھو، اللہ کو یاد کرو۔”
جب مسجدِ کوفہ میں داخل ہوئے تو ایک بدبخت نے زہر آلود خنجر سے آپ پر حملہ کر دیا۔ جیسے ہی خنجر لگا، حضرت علیؓ کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے:
“فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَة”
(ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا)
آپ کی داڑھی خون سے رنگین ہو گئی۔ حضرت علیؓ فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ بیماری میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا:
“اے علی! تم اس دن دنیا سے رخصت ہو گے جب تمہاری داڑھی خون سے رنگین ہو جائے گی۔”
حضرت علیؓ نے زخم لگنے کے بعد نیچے دیکھا اور داڑھی کو خون میں ڈوبا پایا تو فرمایا: “بس! میں کامیاب ہو گیا۔”
یہ وہ عظیم انسان تھا جس کی پوری زندگی دین کے لیے گزری—بچپن سے جوانی، جوانی سے بڑھاپا، اور آخر میں شہادت۔ آپ نے امام حسنؓ اور امام حسینؓ کو قریب بلا کر وصیت کی:
“بیٹا! حقیقی زندگی اسی کی ہے جو دین کے لیے جئے، اور حقیقی موت اسی کی ہے جو دین کے لیے مرے۔”
21 رمضان المبارک کی شام کو حضرت علی المرتضیٰؓ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ صحابہؓ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں کہرام مچ گیا، کوفہ کی گلیاں سنسان ہو گئیں، مکہ میں دعائیں مانگی گئیں۔ وہ سورج غروب ہوا جس کی روشنی قیامت تک باقی رہے گی۔
حضرت علیؓ ایمان، شجاعت، علم اور سخاوت کی علامت ہیں۔ آپ کثرت سے نماز و روزہ رکھتے، عبادت میں مشغول رہتے، ہر سال حج ادا کرتے۔ غربت کے باوجود سخاوت یہ تھی کہ کوئی سائل آپ کے در سے خالی نہ جاتا۔
ایک مرتبہ نماز میں تھے کہ ایک سائل آیا۔ آپؓ نے نماز کے دوران ہی اپنی انگوٹھی اتار کر سائل کی طرف پھینک دی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “علی نماز پڑھتے ہوئے بھی سخاوت کرتا ہے۔”
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: “میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔”
حضرت عمر فاروقؓ فرمایا کرتے تھے: “اگر علی نہ ہوتے تو ہم ہلاک ہو جاتے۔”
حضرت علیؓ شعبۂ علم، عدل، تقویٰ اور حکمت کے امام تھے۔ انہوں نے کبھی نشے، بدعملی یا دین سے بے توجہی کو برداشت نہیں کیا۔ ان کا فرمان ہے کہ اگر سمندر میں شراب کا ایک قطرہ گر جائے تو وہ ناقابلِ قبول ہو جاتا ہے۔
حضرت علیؓ نے اپنی جوانی نہیں دیکھی؛ دس برس کی عمر میں رسول اللہ ﷺ سے وابستہ ہو گئے۔ سب سے پہلے ایمان لائے، سب سے پہلے دین کی سربلندی کے لیے کھڑے ہوئے، اور آخر تک رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے۔
یہی حضرت علیؓ کی حیاتِ طیبہ کا خلاصہ ہے—
دین کے لیے جینا، حق کے لیے لڑنا، اور اللہ کی رضا میں جان قربان کرنا۔

Recent Comments