پیغامِ قرآن کا لایا ہے ماہ صیام

راجہ محمد عتیق افسر
اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات ، قرطبہ یونیورسٹی پشاور
03005930098، attiqueafsar@yahoo.com
ماہ شعبان جلوہ افروز ہے اور ماہ رمضان کی آمد آمد ہے ۔ کوچہ و بازار میں رمضان المبارک کی آمد کے حوالے سے گفت و شنید ہو رہی ہے اور تقریباً ہر خاص و عام کسی نہ کسی حوالے سے رمضان المبارک کی آمد کی تیاریاں کر رہا ہے ۔رمضان المبارک قرآن پاک کے نزول کا مہینہ ہے اور اسی میں لیلۃ القدر جیسی مبارک رات بھی ہے جس میں کی گئی عبادت ہزار ماہ کی عبادت سے بہتر ہے ۔مسلم دنیا کے لیے رمضان المبارک ایک مقدس مہینہ ہے اور تمام ماہ فرض روزہ رکھنے کی وجہ سے نیکیوں کی جانب رجحان بڑھ جاتا ہے اسی لیے اس مہینے کو نیکیوں کا موسم بہار بھی کہا جاتا ہے ۔دیگر بلاد اسلامیہ کی طرح پاکستان میں بھی رمضان المبارک سے عقیدت کی وجہ سے اس ماہ کو خاص اہمیت دی جاتی ہے ۔ہر طبقے کے لوگ اس کا پر جوش استقبال کرتے ہیں ۔ماہ رمضان میں نیکیوں کا بڑھ جانا ایک فطری عمل ہے اسی لیے اس ماہ لوگ عبادات ، تلاوت قرآن ، ذکر و اذکار اور صدقہ و خیرات کی بہتات کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ جہاں ماہ رمضان میں نیکیوں کا گلستان آباد ہو جاتا ہے وہیں دوسری جانب گزشتہ کچھ عرصے سے ہمارے میڈیا نے اس ماہ کاتقدس اور روزے کا اصل مقصد دھندلا کر رکھ دیا ہے ۔ ٹی وی چینلز دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رمضان المبارک کوئی غذائی تہوار ہے جس میں لوگ انواع و اقسام کے کھابوں سے لطف اندوز ہوتے اور ایک دوسرے سے مسابقت کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔حالانکہ رمضان المبارک میں روزے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان اللہ کے حکم کے مطابق بھوک اور پیاس برداشت کر کے اور نوافل و خیرات کی کثرت کے ذریعے ، سال کے باقی ایام میں بھی اسی طرح اللہ کے احکام کی پیروی کی مشق کریں ۔رمضان المبارک چونکہ نزول قرآن کا مہینہ ہے اور اس ماہ امت مسلمہ کا قرآن کی تلاوت کی طرف رجحان بڑھ جاتا ہے اس لیے رمضان المبارک تقوے کی منزل کے حصول کے لیے اس بات کا متقاضی ہے کہ قرآن پاک کی تعلیمات کو سمجھ کر صحیح روح کے ساتھ عمل کیا جائے تاکہ وہ انسان تیار ہو سکیں جو رب العز ت کو مطلوب ہیں ۔اللہ تعالٰی کا فرمان ہے :
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۭ وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ ۭ يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ۡ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰي مَا ھَدٰىكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ١٨٥؁
رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے ، اُس پر لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہویا سفر پر ہو ، تو وہ دُوسرے دنوں میں تعداد پوری کرے۔ سورۃ البقرۃ آیت 185
قرآن کریم فرقان حمید ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے بہترین خدوخال کے ساتھ نہایت عمدگی کے ساتھ مٹی اور پانی جیسی بے جان اشیا سے تخلیق فرمایا اور اس میں جان ڈالی۔ اللہ نے انسان کو عقل ، شعور اور علم سے نوازا اور اسے دنیا میں اپنا نائب بنا کر دیگر تمام مخلوقات پر فوقیت عطا کی ۔ دنیا کے تمام انسان اپنی تخلیق کے لحاظ سے یکسان اور مساوی ہیں اگر ان میں کوئی فضیلت رکھتا ہے تو اس کا معیار صرف اور صرف تقوی اور پرہیزگاری ہے ۔ اس تقوی اور پرہیزگاری کی بنیاد پر قرآن انسانوں کو تین گروہوں میں تقسیم کرتا ہے اور ان تین گروہوں کے لیے اس کی تعلیمات مختلف ہیں ۔ پہلا گروہ مومنین کا ہے ہے جو اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر ایمان لائے اوراس کی تعلیمات کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کر دے اور بغیر کسی حیل و حجت کے ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو ۔دوسرا گروہ کفار کا ہے جو پہلے گروہ کے بالکل برعکس اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا انکار کرے یا ان کی تعلیمات پر عمل درآمد سے انکاری ہو جائے ۔ جبکہ تیسرا گروہ منافقین کا ہے جو اعتقادی کمزوری کی وجہ سے ظاہر میں تو ایمان کا دعوی ٰ کرے لیکن عملا ً وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کا باغی ہو ۔حضرت انسان کے تینوں گروہوں کو بلا تفریق مخاطب کر تے ہوئے قرآن پاک کا حکم ہے کہ تمام بندگیاں ترک کر کے بندگی کو اس ذات کے لیے خاص کر دو جس نے تمام مخلوقات کو پیدا فرمایا۔
اہل ایمان وہ طبقہ ہے جسے قرآن کریم کامیاب انسان قرار دیتا ہے ۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کو نبا دیکھے مانا اور اس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں پہ نہ صرف ایمان لائے بلکہ انکی پیروی کی اور ان پہ نازل ہونے والی کتب اور احکامات پہ سختی سے عمل پیرا رہے اور کفار کی طرف سے پہنچائی جانے والی تکالیف کے باوجود حق پہ قائم رہے اور دوسروں کو بھی اسی راہ کی جانب بلاتے رہے ۔ان لوگوں کے لیے اللہ نے دنیا میں بھی عزت کا وعدہ کیا ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے جنت میں انعا و اکرام کا وعدہ کیا ہے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔
اللہ رب العزت دلیل انفس اور دلیل آفاق کے ذریعے کفار سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کے اللہ کی ذات واحد اور یکتا ہے ، وہی خالق اور وہی رب ہے اور اس کا نہ ذات میں کوئی شریک ہے نہ اس کی خدائی میں کوئی شریک ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ اس کی صفات میں کوئی شریک ہے ۔وہ نہ تو کسی سے پیدا ہوا ہے اور نہ کوئی دوسرا اس سے پیدا ہوا ہے ، وہ کسی کا محتاج نہیں اور نہ کسی کے آگے جوابدہ ہے بلکہ وہ تمام علم کا احاطہ کرنے والا مدبر اور خالق اور روز جزا کا مالک ہے ۔لہذا اسی پہ ایمان لاؤ اور اسکے بھیجے ہوئے پیغمبروں خاص کر نبی ﷺ کی اطاعت کرو ۔اگر ایسا نہیں کرتے تو پھر دین حق کے راستے میں مزاحم نہ ہوں اور اگر ایسا کریں گے تو دنیا میں بھی روا ہوں گے اور آخرت میں ان کے لیے درد ناک عذاب تیار ہے ۔
منافقین سے رب العزت مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ وہ اپنے نفاق سے اللہ کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ ایسا کر کے وہ خود کو ہی دھوکا دیتے ہیں انہیں بار بار حکم دیا جاتا ہے کہ دین میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ اپنی ن پسند تعلیمات پر عملدرامد کرنا اور دیگر کو چھوڑ دینا اللہ کو قبول نہیں ۔ یہ لوگ اپنے نفاق کی بدولت دنیاوی فوائد تو حاصل کر لیں گے لیکن آخرت میں ان کا مقام کفار کے ساتھ جہنم میں ہوگا بلکہ یہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں رکھے جائیں گے جہاں ان کے لیے ہمیشہ رہنے والا دردناک عذاب ہوگا ۔
مذکورہ بالا دونوں طبقات اگرچہ اکثریت میں ہیں لیکن اللہ کا فرمان ہے کہ یہ اکثریت شعور ، علم اور تدبر نہیں رکھتی ۔ ان کی ہدایت کے لیے اللہ نے رول بھیجے اور آخر میں اللہ رب العزت نے نبی ﷺ کو آخری رسول بنا کر بھیجا اور جو لوگ ان پر ایمان لائے انہیں امت مسلمہ قرار دیا۔ متقین اور صالحین کے اس طبقے کے لیے قرآن کو ہدایت بنا کر بھیجا گیا ہے جو مکمل ضابطہ حیات ہے اور زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی فراہم کرتاہے ۔
قرآن پاک کا منشا ہے کہ لوگ اللہ رب العزت کو بطور واحد خالق اور رب تسلیم کریں اور اس کی ذات و صفات میں کسی کو شریک نہ کریں ، اسکے علاوہ فرشتوں پر ، اللہ کی نازل کردہ کتب پر ، اسکے رسولوں پر ، آخرت کے دن پر ، تقدیر پر اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر پختہ یقین رکھیں ۔اسی لیے وہ ان امور پر مسلسل ہاددہانی کراتا ہے ۔ ان کے مقابل کفر، شرک ، فرشتوں میں تفریق یا انہیں خدا کی بیٹیاں کہنے، نازل کردہ کتب کا یا ان کے احکامات کا انکارکرنے یا ان میں شک کرنے ، رسولوں کا انکار کرنے یا ان میں تفریق کرنے ، آخرت کو جھٹلانے یا اس سے غافل ہونے اور روز جزا کے حساب سے غافل ہونے کی مکمل نفی کرتا ہے ۔ اس ضمن میں ان اعمال سے بھی روکتا ہے جو ایمان بالغیب میں نقص کا باعث ہوں ۔
ایمان لانے والوں سے قرآن مطالبہ کرتا ہے کہ وہ نماز قائم کریں ۔ دن میں پانچ وقت کی نماز فرض کر دی گئی ہے اور اس سے غفلت برتنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے ۔نماز کے قائم کرنے کا حکم ہے جو بظاہر تو پانچ وقت کی نمازوں کو خشوع اور خضوع سے ادا کرنے کا عمل ہے لیکن فی الحقیقت یہ امام اوراس کے پیچھے صفیں باندھے مقتدیوں سے بھی بڑھ کر قوموں کی امامت تک کا ایک نظام تربیت ہے ۔ اسی طرح زکوۃ فرض کر دی گئی ہے اور نماز کے ساتھ ساتھ اس کی ادائیگی کا حکم ہے ۔ ہر مالدار پر زکوۃ فرض کر دی گئی ہے جس کے ذریعے فقراء، مساکین ، یتامی ٰ، اللہ کی راہ میں نکلے افراد(مجاہدین،طلبہ دین ، مبلغین )، زکوۃ جمع کرنے والے عملے کے افراد، مسافر، دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے افراد کی تالیف قلب اور غلامی یا قرض سےمیں مبتلاء مسلمانوں کی امداد کی جائے ۔یہ بھی بظاہر تو مالی صدقہ یا خیرات نظر آنے والی عبادت ہے لیکن بنظر غائر دیکھیں تو یہ اپنی تفصیلات میں ایک معاشی نظام ہے ۔
اسی طرح رمضان کے روزے فرض کر دیے گئے ہیں اور ان کے رکھنے کی تاکید کی گئی ہے ۔روزے کا مقصد تقویٰ اور پرہیزگاری بتایا گیا ہے ۔ حقیقت میں اس طریقہ عبادت کے ذریعے واضح کر دیا گیا ہے کہ ترک دنیا کا دین سے صرف اتنا تعلق ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق کسی بھی چیز کو ترک کیا جائے اور اسی کے حکم کے مطابق ان سے استفادہ کیا جائے ۔ روزے میں اگر کھانا پینا متروک ہوتا ہے تو ایک معین وقت کے لیے ہوتا ہے اور وقت کے اختتام کے ساتھ ہی افطار کا حکم ہے اور اس میں جلدی کرنے والے کو فضیلت دی گئی ہے ۔ گویا روزے میں بھوک اور پیاس کو کوئی ہمیت حاصل نہیں بلکہ اللہ کے حکم کی تعمیل اصل ہدف ہے ۔
اسی طرح حج کو فرض کیا گیا ہے اور صاحب استطاعت افراد کو حج کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ بیت اللہ کو مرکز امت قرار دے کے امت کی یکجہتی کا ایک مرکز مقرر کر دیا گیا ہے ۔امت پر حج اور زیارت کعبہ فرض قرار دے کر اس کی مرکزیت کو پختہ کر دیا گیا ہے ۔ زیارت کعبہ کے ذریعے امت کو درس دیا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے اور تفرقہ سے اجتناب کیا جائے ۔دوسری جانب امت کو تاریخی طور پر مرکز توحید پر لا کر واضح کیا جاتا ہے کہ انسان نے دنیا پر قدم رکھنے کے بعد جو سب سے پہلی عمارت تعمیر کی تھی وہ بیت اللہ شریف کی عمارت تھی ۔اس کے ذریعے انسان کے اندر براہیمی نظر پیدا کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے مقصد تخلیق سے آگاہ رہیں ۔
دین اسلام چونکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس لیے محض عقائد اور چند بدنی و مالی وظائف پہ اکتفا نہیں کرتا بلکہ عمل صالح کا بھی تقاضا کرتا ہے ۔ عمل صالح سے مراد یہ ہے کہ انسان کا ہر قلبی ، زبانی و بدنی عمل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہو ۔مسلمان پر واضح کر دیا گیا ہے کہ وہ اور اس طرح کے دیگر تمام انسان ایک آدم علیہ السلام سے پیدا کیے گئے ہیں جو مٹی سے تخلیق کیے گئے تھے ۔ لہذا انسان کو عاجزی و انکساری کے ساتھ اس دنیا میں رہنا چاہیے اور غرور و تکبر سے خود کو بچانا چاہیے ۔ تمام انسان برابر ہیں کسی کو کسی پر فوقیت حاصل نہیں ۔ لہذا اپنی قوم نسل اور رنگ پہ تفاخر کسی صورت میں جائز نہیں ۔ اس بنیاد پر کسی کی تحقیر و تذلیل حرام کر دی گئی ہے ۔ تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا گیا ہے اور ایک دوسرے سے اخوت کا درس دیا گیا ہے ۔ اس بھائی چارے کا تقاضا ہے کہ دلوں میں ایک دوسرے سے محبت رکھی جائے اور امداد باہمی کی فضا قائم کی جائے ۔نفاق، حسد ، بغض ، کینہ ، غرور و تکبر، بخل ، سستی ،بزدلی ,نفرت و حقارت جیسے قلبی اعمال کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔یہیں پہ اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ زبان کے ذریعے ان کے اظہار سے بھی روکا گیا ہے ۔ ہمیشہ صاف ، سیدھی اور مبنی بر حق بات کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔سچ بولنے کا حکم ہے ، عہد و پیمان پہ قائم رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور دوسروں کی عیب پوشی کا حکم دیا گیا ہے ۔اسکے مقابل جھوٹ، عہد شکنی ،غیبت، طعنہ زنی، چغل خوری ، گالی گلوچ ، نفرت انگیز گفتگو ، دوسروں کی تذلیل جیسے رذائل اخلاق سے منع کر دیا گیا ہے ۔ ایک مسلمان کی جان ، اسکا مال اور اسکی عزت دوسرے پر حرام کر دی گئی ہے ۔ ان اعمال سے منع کر دیا گیا ہے جو کسی کا جانی مالی نقصان پہنچائیں یا کسی کی عزت و آبرو کو نقصان پہنچائیں ۔
حیاء کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور اور ایک پاکیزہ اور حیادار معاشرہ قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ مسلمان مردوں اور عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور پردے کا حکم دیا گیا ہے ۔ محارم کی تفصیل بتا دی ہے اور عورتوں اور مردوں کے اختلاط کو ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔پاکدامنی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور زنا ، فحاشی و عریانی کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ایسے تمام اعمال جو بے حیائی کا موجب بنتے ہوں انہیں بھی حرام قرار دیا گیا ہے ۔ حیاء انسانی غریزہ ہے اگر انسان کی عقل سلیم قائم رہے تو وہ اسے باحیا ء رکھتی ہے کیونکہ عقل سلیم نیکی اور بدی میں تمیز کرتی ہے ۔ وہ تمام چیزیں جو عقل پہ پردہ ڈالتی ہیں انہیں بھی حرام قرار دیا گیا ہے ۔ جادو ٹونہ اور شعبدہ بازی ، علم نجوم اور نشے کو حرام فرمایا گیا ہے اور ان اعمال کی سخت مذمت کی گئی ہے ۔ نشہ خواہ شراب کا ہو یا دیگر نشہ آور اشیاء کا انہیں حرام قرار دے دیا گیا ہے ۔اقتدار کا نشہ، دولت کا نشہ اور لغو کام کا نشہ بھی انسان کو راہ راست سے گمراہ کرتا ہے لہذا افرط و تفریط سے گریز اور لغویات سے اجتناب کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
اسلام نے رہبانیت کا کوئی تصور موجود نہیں ۔ اسلام کسب ِحلال کو فرض قرار دیتا ہے ۔ اسلام ہر فرد کو اپنے زیر سایہ افراد کی ذمہ دار ی سونپتا ہے اور اسے اس بارے میں جوابدہ بھی قرار دیتا ہے ۔ لہذا ہر فرد کو کسب حلال کی ترغیب دی گئی ہے ۔ ۔ مال کو انسانی ضرورت کے تحت بطور امانت اسکے حوالے کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے وہ اپنی بشری ضرورتوں کو پورا کرے لیکن ساتھ ساتھ اس مال میں دوسروں کے حقوق رکھ دیے گئے ہیں جن کی ادائیگی صاحب مال پر فرض ہے جیسے کفالت اولاد، بیوی کا نفقہ ، ماں باپ کے حقوق ، رشتہ داروں کی معاونت اور فقراء و مساکین کی معاونت وغیرہ ۔ مال کمانے کے لیے حلال اور حرام ذرائع وضاحت سے بیان کر دیے گئے ہیں اور انسان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ صرف حلال ذرائع سے مال حاصل کرے ۔ دولت کمانے کے مواقع مہیا کیے گئے ہیں اور زراعت ، صنعت و حرفت اور تجارت کو جائز قرار دیا گیا ہے جبکہ چوری، ڈاکا ، غصب ، رشوت، جوا ، حرام اشیا کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔حلال طریقے سے حاصل کی گئی دولت کو بھی جمع کر کے رکھنے ، اسے گنتے رہنے اور اس پر تفا خر کو منع فرمایا ہے اور ایسے اضافی مال کی محبت میں مبتلاء ہونے سے بچانے کے لیے زکوۃ ، عشر ، فطرانہ ، قربانی اور دیگر صدقات واجب کر دیے ہیں جبکہ انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب جابجادی گئی ہے تاہم خرچ کرنے میں اعتدال کو ملحوظ رکھا گیا ہے ۔اسلام ارتکاز زر کے بجائے گردش زر کا قائل ہے لہذا وہ دولت کو امیروں سے وصول کر کے معاشرے کے ضرورت مند افراد تک پہنچاتا ہے ۔ اسی ضمن میں وہ وہ وراثت کا قانون پیش کرتا ہے اور انسان کے مرنے کے بعد بھی اسکے ورثاء میں مال کو منصفانہ طریقے سے تقسیم کرتا ہے ۔
معاشرے کو راہ راست پہ رکھنے کے لیے معاشرتی نظام بھی ترتیب دیا گیا ہے ۔ جہاں ایک مرد کو اپنے گھر کا کفیل بنا کر اس پہ ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں ۔والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے ۔ رشتہ داروں اور اقارب سے صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ہے ۔بیویوں سے اچھے برتاؤ کا حکم ہے ۔ بیویوں کے مہر اور نفقہ کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے اور طلاق کی صورت میں اچھے طریقے سے رخصت کرنے کا حکم ہے ۔اولاد خاص کر بیٹیوں کے حقوق دیے گئے ہیں ۔ بیٹیوں کو عار کی وجہ سے اور بیٹوں کو افلاس کی وجہ سے قتل کرنے کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔نیکی و فلاح کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔اسی طرح غلاموں اور ملازموں کے ساتھ نیک برتاؤ کا حکم دیا گیا ہے ۔اسلام انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دلانے کی ترغیب دیتا ہے اسی لیے غلام آزاد کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے اور قرض جیسی زنجیروں میں جکڑے انسان کو آزاد کرانے ککے لیے ابھارتا ہے ۔
اجتماعی طور پر نظام عدل قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ معاشرے کے افراد کے حقوق کسی صورت میں متاثر نہ ہوں۔اور لوگ اللہ کی حدوں سے تجاوز نہ کریں ۔اور جو لوگ اللہ کی حدود سے تجاوز کریں ان کے لیے سزائیں تجویز کی گئی ہیں ۔قصاص کو فرض کر دیا گیا ہے تاکہ قاتل کو اس کے جرم کے عوض قتل کیا جائے ۔اور ہر خون کے بدلے خون کے حساب سے قصاص لیا جائے ۔ یہ اس لیے کہ لوگ حرمت نفس کو پامال نہ کریں اور بے گناہ کسی کو قتل نہ کریں ۔ چوری کرنے والے کے ہاتھ کاٹنے اور ڈاکا زنی کے مرتکب افراد کے ہاتھ اور ٹانگ کاٹنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ لوگوں کے مال محفوظ رہیں ۔زنا کے لیے سو کوڑے اور سنگساری کی سزا رکھی گئی ہے تاکہ لوگ فحاشی کی طرف نہ جائیں اور نسب محفوظ ہوں ۔تہمت لگانے والے کو اسی کوڑے کی سزا مقر کی گئی ہے تاکہ لوگوں کی عزت نفس مجروح نہ ہو ۔مرتد لے لیے موت کی سزا مقرر کی گئی ہے تاکہ لوگ اللہ کے دین کو مذاق نہ بنائیں ۔شراب نوشی پر کوڑوں کی سزا مقرر کی گئی ہے تاکہ عقل کو محفوظ رکھا جائے ۔اسکے علاوہ دیگر جرائم کے حوالے سے اولوالامر کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ حالات کے مطابق ان جرائم کے لیے فیصلہ کریں ۔سزا دینے سے پہلے شہادت لازم کی گئی ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور گواہوں اور فیصلہ کرنے والوں کے لیے لازم ہے کہ وہ عادل ہوں ۔یہ واضح رہے کہ سزا اور جزا کا مالک اللہ کی ذات ہے اور اس کے لیے ایک دن مقرر ہے ۔ دنیا کی یہ سزا اور جزا ء حتمی نہیں جو اس سے بچ گیا وہ آخرت میں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔
بیان کردہ تمام نظاموں کو چلانابغیر ریاست اور اقتدار کے ممکن نہیں ۔ نظام کو چلانے کے لیے ایک حکومت کے قیام کو لازم قرار دیا گیا ہے جو مسلمانوں کی باہمی شوری کے ذریعے اجتماعی امور کو طے کرنے کی پابند ہو ۔امامت کے لیے اہلیت تقوی ، علم ، دیانت داری اور نیکی میں سبقت کو قرار دیا گیا ہے ۔ ریاست کا فرض ہو گا کہ وہ اقتدار کو اللہ کی امانت سمجھتے ہوئے بندگان خدا کی فلاح اور ان کی اصلاح کے لیے استعمال کرے ۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو عام کرے اور ایسا ماحول فراہم کرے جس میں لوگ اللہ کے احکام کی بجا آوری کر سکیں ۔ اگر کوئی قوت اس نظام کی راہ میں مزاحم ہو تو جہاد کا علم بلند کے کے اس کے عزائم کو پارہ پارہ کر دے ۔ لوگوں کو جان ، مال اور عزت کا تحفظ دے اور ان کے صدقات کو صحیح جگہ خرچ کرے ۔ یہاں یہ نکتہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ امت مسلمہ کو جہاں اللہ اور اس کے رسول کا مطیع ہونے کا حکم ہے وہیں پر اپنے امام کی اطاعت کا بھی حکم ہے ۔
قرآن پاک نے امت مسلمہ کو امت وسط کا خطاب دیا اور اس امت کو ذمہ داری سونپی کہ وہ تمام انسانوں کو نیکی اور بھلائی کی طرف بلائیں انہیں نیکی کا حکم دیں اور انہیں برائی سے روکیں ۔ اس فریضے کو انجام دینے کے لیے اللہ نے حکم دیا ہے امت علم حاصل کرے اور یہ بھی واضح کر دیا کہ علم والے اور جاہل کبھی برابر نہیں ہو سکتے یہی علم ہے جس کے ذریعے ایک انسان اپنے رب کو پہچانتا ہے اور نیکی اور بدی میں فرق کر سکتا ہے ۔ضروری ہے کہ اس امت کا ایک طبقہ تفقہ فی الدین حاصل کرے اور علم کو عام کرے ، امت کا ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو خیر کی دعوت لے کر دوسروں تک جائے اور انہیں نیکی کا حکم سنائے اور برائی سے روکے ۔ ایک گروہ ایسا بھی تیار ہونا چاہیے جو کفار کے ساتھ جنگ کرے اور جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے دین کو غالب کرنے کی سعی کرے۔ نیکی و پارسائی کا عمل اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اسے دوسرے انسانوں تک پہنچانے اور پوری دنیا مین پھیلانے کی جدو جہد نہ کر لی جائے ۔ایک فرد اپنی ذات میں تو پارسا ہو لیکن دوسروں کو نیکی کی طرف نہ بلائے اور برائی سے نہ روکے تو اس کی پارسائی اس کے کسی کام نہیں آئے گی جیسا کہ سابقہ امتوں میں ہوا کہ ایسے نیک اور پارسا لوگ بھی عذاب الہی کا شکار ہوئے جو امر بالمعروف و نہی عن المنکر نہیں کرتے تھے ۔اگر نیکی کی بات مسلمانوں کے درمیان کی جائے تو اسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کہا جاتا ہے جبکہ یہی بات اکر غیر مسلموں سے کی جائے تو اسے دعوت و تبلیغ کہتے ہیں ۔ ۔
ایمان لانے اور ارکان اسلام کو اختیار کر لینے کے بعد دین اس پر استقامت کا تقاضا کرتا ہے ۔ باطل کو ہر گز یہ گوارہ نہیں کہ اسلام کا یہ شجر پھلے پھولے لہذا وہ ہر جانب سے حملہ کر کے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا لہذا اللہ نے جنت کے عوض مومنین سے ان کی جانیں اور مال خرید لیے ہیں ۔مسلمانوں پر جہاد فرض کر دیا گیا ہے تاکہ وہ ان لوگوں سے لڑ سکیں جو ان کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اگر مسلمان کمزور ہوں اور جہاد کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو انہیں دین پر استقامت دکھانے کا حکم دیا گیا ہے اور دین کو دشمنان دین سے محفوظ رکھنے کے لیے ہجرت کو فرض کیا گیا ہے ۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ دنیا کا ہر خطہ مسلمان کا وطن ہے اور وہ امت کا حصہ ہے لہذا دین کو قوم وطن پر ترجیح دی جائے اور دین کی حفاظت کے لیےقوم وطن کو قربان کر دیا جائے ۔ وسائل کی دستیابی کی صورت میں کفار کا مردانہ وار مقابلہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ اسلامی ریاست کے مطیع ہو جائیں ۔ یہاں یہ نکتہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ امت مسلمہ کو جہاں اللہ اور اس کے رسول کا مطیع ہونے کا حکم ہے وہیں پر اپنے امام کی اطاعت کا بھی حکم ہے ۔ اس فریضے کو انجام دینے کے لیے لازم ہے کہ مومنین عمل صالح کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں مشکلات میں صبر سے کام لیں اور دین کے غلبے کے لیے کسی ایسے راستے کا انتخاب نہ کریں جو دین سے متصادم ہو
الغرض قرآن کریم انسانوں کی ہدایت کے لیے ایک بحر بیکراں ہے جو اپنے اندر غوطہ زن افراد کو گوہر نایاب سے نوازتا ہے ۔ اپنی سطح تک آنے والوں کی پیاس بجھاتا ہے اور اس سے دوری اختیار کرنے والوں کی طرف بھی ابر کرم بھیجتا ہے جو رحمت کی مینہ برساتے ہیں ۔ اب ہے کوئی جو اس جود و کرم سے مستفید ہو ۔ اگر اس سمندر میں غوطہ زن ہوا جائے تو کئی کئی جلدوں پہ مبنی تفاسیر لکھی جاسکتی ہیں لیکن اگر اس تمام تر گفتگو کو سمیٹا جائے تو خود قرآن پاک کی تین آیات اس کا احاطہ کر دیتی ہیں
وَالْعَصْرِ Ǻ۝ۙاِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ Ą۝ۙاِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ڏ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ Ǽ۝ۧ
اور زمانے کی قسم انسان خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ، نیک اعمال کرتے رہے ، حق بات کی نصیحت کرتے رہے اور آپس میں صبر کی نصیحت کرتے رہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ماہ رمضان میں قرآن عظیم الشان کی تعلیمات سے صحیح معنوں میں استفادہ کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

س

اپنا تبصرہ بھیجیں