جد الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام

تحریر: پیر محمد افضل قادری
0300-9622887
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے تقریباََ 3337 سال بعد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے 2160 سال قبل عراق کے قدیم تاریخی شہر بابل کے نواح (توریت کے مطابق اُور، بعض نے کوثیٰ، الورقاء اور سوس و غیرہا بتایا ہے) میں ہوئی، اس وقت نمرود املیس کی دنیا بھر میں حکومت تھی۔ ہر طرف کفر و شرک کا دور دورہ تھا۔ آذر شاہی خاندان کا مقرب اور بت پرست، بت گر اور بت فروش تھا۔ لوگ نمرود کی پرستش کرتے تھے اس کے علاوہ چاند سورج ستاروں اور بتوں کی پوجا پاٹ بھی عام تھی
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے آزر سمیت دنیا بھر کے مشرکین و کفار کے خلاف علم جہاد بلند فرمایا۔ ایک مرتبہ کفار کے میلے کا دن تھا اور کفار نے بتوں کو خوب خوب سجا کر بت خانہ میں رکھا ہوا تھا۔ تو امام المجاہدین حضرت ابراہیم علیہ السلام بت خانہ میں تشریف لے گئے اور تمام بتوں کو ریزہ ریزہ کرکے کلہاڑا سب سے بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا تاکہ مشرکین بڑے بت کی طرف رجوع کریں اور ان پر بتوں کا عجز واضح ہو۔ آپ نے اپنے چچا، بت پرستوں، ستارہ پرستوں اور مطلق العنان بادشاہ نمرود کے ساتھ مناظرے کرکے بڑے بڑے انوکھے انداز میں استدلال کرکے عقیدہ توحید کی حقانیت واضح فرماکر مشرکین کو مبہوت کردیا۔ تفصیل کیلئے دیکھئے: سورة انبیائ، آیت نمبر 51 تا 72۔ سورہ انعام، آیت نمبر 74 تا 83۔ سورہ بقرہ، آیت نمبر 258۔ سورہ شعرائ، آیت نمبر 69 تا 89۔
بالآخر نمرود بادشاہ نے آتشکدہ تیار کرکے آپکو آگ میں جلانے کے احکام صادر کردیئے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: ”ہم نے فرمایا: اے آگ ہو جا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر۔”
چنانچہ وہ آتشکدہ آپ کیلئے گلزار بن گیا۔
اس کے بعد آپ نے حران، اردن، مصر، شام اور فلسطین ہجرت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑھاپے میں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور حضرت اسحق علیہ السلام عطا فرمائے جن کی اولاد سے بعد میں تمام انبیاء پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے بے شمار خدام اور لاتعداد مال مویشی کی صورت میں آپ کو بے پناہ دولت عطا فرمائی اور آپ نے بھی فیاضی اور مہمان نوازی کی حد کردی اور مکارم اخلاق کے اعلیٰ نمونے قائم کئے۔ آپ نے اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل کو خانہ کعبہ کے پاس آباد کیا جہاں اس وقت بے آب و گیاہ جنگل تھا۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے قبیلہ جرہم میں شادی کی اور مکہ مکرمہ شہر آباد ہوا۔ حضرت اسحق علیہ السلام کو فلسطین میں آباد کیا۔ جن کی اولاد سے ہزارھا انبیاء کرام مبعوث ہوئے اور پھر بالآخر نبی آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہۖ حضرت اسمٰعیل کی اولاد میں سے مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور آپ نے دین ابراہیمی کو بنیاد بنا کر عالمگیر دین اسلام کی تکمیل فرمائی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے 175 اور ایک روایت کے مطابق 200 سال عمر پائی اور فلسطین کے الخلیل نامی شہر کی ایک مکفیلہ نامی غار میں مدفون ہوئے۔ ڈاکٹر شوقی ابوالخلیل نے اطلس القرآن میں معجم البلدان کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے آپ کی قبر پر قبہ نما چھت تعمیر کی۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ قبور صالحین پر چھت اور قبے تعمیر کرنا سنت انبیاء ہے۔
آپ کا نسب اس طرح ہے: ابراہیم علیہ السلام ابن تارخ ابن ناحور ابن شاروغ ابن ارغو ابن فالع ابن عابر ابن شالخ ابن ارفخشذ ابن سام ابن نوح علیہ السلام ابن لمک ابن متوشخ ابن ادریس علیہ السلام ابن یارد ابن مہلائیل ابن قینان ابن انوش ابن شیث علیہ السلام ابن آدم علیہ السلام۔ (تاریخ ابن عساکر)
قرآن میں ہے: ترجمہ: ”اور (اے محبوبۖ یاد کرو) جب ابراہیم نے اپنے باپ آذر سے کہا: کیا تم بتوں کو خدا بناتے ہو؟ بیشک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں۔”
اس آیت سے بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ مشرک آذر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا والد تھا لیکن تحقیق اور حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تارخ تھا اور وہ موحد (توحید پرست مسلمان) تھے اور مشرک آذر آپ کا چچا تھا۔ حافظ ابن کثیر دمشقی ”البدایہ و النہایہ’ جلد نمبر 1، صفحہ نمبر 142۔ پر لکھتے ہیں: ”جمھور علماء نسب بشمول حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سب اس پر متفق ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تارخ تھا، اور اہل کتاب بھی تارخ بتاتے ہیں” جبکہ حدیث نبوی بھی اس پر قوی دلیل ہے کہ نبی اکرمۖ نے فرمایا: ترجمہ: ” یعنی ہمیشہ سے مجھے پاک باپوں کی پشتوں سے پاک مائوں کے رحموں میں منتقل کیا گیا۔” (دلائل النبوة)
ظاہر ہے آذر مشرک تھا اور ” انما المشرکون نجس۔” کے تحت وہ نجس تھا لہٰذا وہ طاہرین میں سے نہ تھا جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد ماجد سمیت نبی اکرمۖ کے تمام آباء کرام حدیث کی رو سے طاہرین (پاکبازوں) میں سے تھے۔ رہا یہ سوال کہ آیت بالا” واذ قال ابراہیم لابیہ آذر” میں مشرک آذر کو حضرت ابراہیم کا اب (باپ) کہا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ کلام عرب میں اب (باپ) کا اطلاق والد کی طرح چچا پر بھی کیا جاتا ہے۔ سورة بقرہ کی آیت نمبر 133 میں حضرت اسمٰعیل کو اولاد یعقوب کا باپ فرمایا گیا حالانکہ وہ ان کے چچا تھے۔ اور حدیث پاک میں بھی ہے: ترجمہ:”میرے باپ (عباس) کو میرے پاس لائو” اس حدیث میں حضور نبی اکرمۖ نے اپنے چچا عباس کو اب (باپ) قرار دیا ہے۔ لہٰذا آیت مبارکہ میں لابیہ آذر سے بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چچا آذر مراد ہے۔
جد الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی سخت آزمائشوں سے عبارت ہے۔ آپ نے ہر امتحان میں اللہ تعالیٰ کی محبت و اطاعت کا حق ادا کردیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”فاتمہن۔” ترجمہ: ”آپ نے تمام کلمات (اوامر و نواہی) کو کماحقہ پورا کردیا۔” اب ہم ذیل میں آپکے امتحانات کا مختصر تذکرہ کرتے ہیں:
٭ آج ایک ارب سے زائد مسلمان کفار سے خائف ہیں، لیکن امام المجاہدین حضرت ابراہیم علیہ السلام تن تنہا اپنے خاندان پوری قوم اور مطلق العنان جابر بادشاہ نمرود کے مقابلے میں ڈٹ گئے اور ہر سطح پر کفر و شرک کی اعلانیہ مخالفت کی۔ کفار پر عقلی دلائل کے ساتھ بھی واضح فرمایا کہ یہ بت سننے، جواب دینے، دیکھنے اور اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یہ خدا کیسے ہوسکتے ہیں۔ آپ کے چچا آذر نے کہا:
ترجمہ: ”اے ابراہیم اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کرکے ہلاک کردوں گا۔”
حوالہ ”قرآن مجید” پارہ نمبر 16، سورہ مریم، آیت نمبر 46۔
نمرود نے آپکو زندہ جلانے کیلئے بہت بڑا آ تشکدہ تیار کرایا لیکن پھر بھی آپ کفر و شرک کے ابطال پر ڈٹے رہے۔
اسطرح آپنے امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور جہاد فی سبیل اللہ کے اوامر پر عمل کرنے کا حق ادا فرمایا جس سے مسلمانوں اور بالخصوص علماء و مشائخ کو درس لینا چاہئے!!!
٭ جب نمرود کے آ تشکدہ سے باہر تشریف لائے تو بابل سے ہجرت کرنے کا حکم ملا تو آپ نے اپنی بیوی حضرت سارہ اور اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کے ہمراہ حران ہجرت فرمائی، پھر حران سے شام چلے گئے پھر مصر چلے گئے، مصر سے واپس شام آئے اور پھر فلسطین میں اقامت پذیر ہوئے۔
٭ فلسطین میں طویل عرصہ دعائوں کے بعد 90 سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے ایک فرزند (حضرت اسمٰعیل علیہ السلام) عطا فرمائے۔ اس وقت خانہ کعبہ کی دیواریں طوفان نوح کی وجہ سے گر چکی تھیں اور بنیادیں مٹی کے اندر چھپ گئی تھیں۔ اس وقت مکہ مکرمہ کا شہر بھی نہیں تھا۔ یہ جگہ بے آب وادی کی صورت میں تھی (اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ اپنے بیٹے اسمٰعیل علیہ السلام) اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کو اس وادی میں چھوڑ کر واپس فلسطین آجائو۔
اس امتحان میں بڑی حکمت یہ تھی کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام بڑے ہوکر خانہ کعبہ کی تعمیر نو کریں گے اور مکہ مکرمہ شہر کی بنیاد رکھیں گے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور اپنی بیوی و بیٹے کو خانہ کعبہ کے پاس چھوڑ کر واپس فلسطین چلے گئے اور واپسی کے وقت یہ دعاء فرمائی: ترجمہ: ”اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں، تیرے رحمت والے گھر کے پاس، اے میرے رب اس لئے کہ وہ نماز قائم رکھیں، تو تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کردے اور انہیں کچھ پھل کھانے کو دے شاید وہ احسان مانیں۔” حوالہ ”قرآن مجید” پارہ نمبر 13، سورہ ابراہیم، آیت نمبر 37۔ جب پانی ختم ہوگیا تو حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے پانی کی تلاش کیلئے صفا و مروہ دو پہاڑیوں میں سات بار سعی کی تو آب زمزم کا چشمہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے قدموں کے نیچے سے ظاہر ہوا اور اللہ تعالیٰ کی بندی حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے قدموں کے نشانات صفا و مروہ کو ”شعائر اللہ” کا درجہ حاصل ہوا اور صفا و مروہ کے درمیان آپ کی سنت سعی کو حج و عمرہ میں ایک عبادت کا درجہ دے دیا گیا۔ حوالہ ”قرآن مجید” پارہ نمبر : 2، سورہ بقرہ، آیت نمبر 158۔
٭ جب حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سعی (چلنے اور کام کاج کرنے) کی عمر کو پہنچے تو خواب میں آپ کو ذبح کرتے دیکھا، چوں کہ پیغمبر کا خواب وحی کی ایک قسم ہے لہٰذا اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے منیٰ لے گئے، بیٹے کو حکم خدا سے آگاہ فرمایا۔ فرماں بردار بیٹے نے حکم خدا کی تعمیل پر مکمل رضا مندی کا اظہار فرمایا۔ چنانچہ آپ اپنے خوبصورت بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا کر ذبح کرنے لگے تو چھری نے کام نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے جنت سے ایک مینڈھا ذبح کیلئے نازل فرمایا۔ دیکھئے سورہ صافات آیت: 102 تا 110۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس یادگار قربانی کو بعد میں آنے والی امتوں میں مشروع فرمادیا۔ صحابہ کبار نے پوچھا یارسول اللہ! ان قربانیوں کی حقیقت کیا ہے تو آپۖ نے فرمایا: ”یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہیں۔ انہوں نے عرض کیا اس میں ہمارے لئے کیا ثواب ہے فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی کا ثواب۔”
٭ جب آپ کو بڑی عمر میں ختنہ کا حکم دیا گیا تو چوں کہ بالغ کیلئے شرم گاہ کو چھپانا فرض ہے لہٰذا آپ نے کسی سے ختنہ کرانے کی بجائے خود تیشے سے ختنہ کرلیا اور بلاتاخیر تعمیل فرمادی۔
٭ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ نے کلمات سے کوکب، قمر، شمس، نار، ذبح اسمٰعیل، ہجرت اور ختنہ کے امتحانات مراد لئے ہیں۔
٭ ابن جریر طبری نے اپنی سند سے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ کلمات سے مراد دس خصال و فطرت ہیں (١) کلی کرنا، (٢) ناک میں پانی ڈال کر ناک صاف کرنا، (٣)سر کی مانگ ، (٤) مونچھیں کٹانا، (٥) مسواک کرنا، (٦) ختنہ، (٧) زیر ناف بال اکھیڑنا (٨) ناخن کٹوانا، (٩، ١٠) ڈھیلوں کے بعد پانی سے استنجاء کرنا۔
٭ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں داڑھی بڑھانا اور بغل کے بال نوچنا بھی ہے۔
٭ اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک دوسری روایت میں ہے کہ کلمات سے مراد 30 چیزیں ہیں۔ 10 سورة برأت کی آیت نمبر 112 میں، 10 سورة احزاب کی آیت نمبر 35 میں اور 10 سورة مومنون کی آیات نمبر 1 تا 9 میں اور وہ یہ ہیں: (١) توبہ، (٢) عبادت، (٣) حمد، (٤) سیاحت، (٥)رکوع، (٦)سجدہ، (٧)اچھی باتوں کا حکم (٨)بری باتوں سے روکنا، (٩)حدود الٰہی کی نگہبانی، (١٠)ایمان والوں کو خوشخبری سنانا، (١١)اسلام (١٢)ایمان، (١٣)اطاعت، (١٤)صبر، (١٥)عاجزی، (١٦)صدقہ، (١٧)روزہ، (١٨)شرمگاہ کی حفاظت، (١٩)نظر کی حفاظت، (٢٠)ہر وقت ذکرِ خدا، (٢١)قیامت کی تصدیق، (٢٢)نماز میں حضور قلبی (٢٣)مستحبات کی پابندی، (٢٤)بیکار باتوں سے پرہیز، (٢٥)زکوٰة بخوشی ادا کرنا، (٢٦)بیوی اور لونڈی کے سوا اوروں سے شرمگاہ کی حفاظت کرنا، (٢٧)وعدہ پورا کرنا، (٢٨)امانت ادا کرنا، (٢٩)مذاق اور دل لگی سے پرہیز کرنا، (٣٠)سچی گواہی نہ چھپانا۔
٭ بعض مفسرین نے کہا کلمات سے مراد احکام حج ہیں۔ ان تمام اقوال میں تطبیق یہ ہے کہ کلمات سے مراد وہ تمام اوامر و نواہی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں