منور رانا نے اچھا کیا جواردو اکادمی سے اِستعفے دیدیا

NadeemSiddiqi

ابھی بہت دن نہیں ہوئے جب ہم نے یہ سنا تھا کہ ہمارے عزیز ِ مکرم اور مشہور شاعر منور رانا اتر پردیش اردو اکادمی کے صدر بنا دِیے گئے ہیں احسا س جاگا اورخوشی ہوئی کہ ہم میںسے کسی کواکادمی کا ذمے دار بنایا گیا ہے۔ پھر دوسرے دِن یہ بھی خبر ملی کہ ایک دوسرے مشہور شاعر نواز دیوبندی کو اتر پردیش اردو اکادمی کا چیئرمین بنایا گیا ہے۔ ہم متذبذب ہوئے کہ کیا پہلی خبر غلط تھی مگر پتہ چلا کہ دونوں خبر درست ہیں۔ جس پر ہمارے ذہن میں سوال اٹھا کہ کیاصدر اور چیئرمین کے عہدے میں کوئی فرق ہوتا ہے؟ پتہ چلا کہ عہدے میں کوئی فرق ہوتا ہے یا نہیں مگر یہ صحیح ہے کہ اتر پردیش اردو اکادمی کاچیئرمین نواز دیوبندی کو اور منور رانا کو صدر بنایا گیا ہے اور یہ بھی اطلاع دی گئی کہ صدر اکادمی،چیئرمین ہی کے ماتحت ہوگا۔ یہ سنتے ہیں ماتھا ٹھنکا تھا مگر ہم نے اس سے منہ پھیرتے ہوئے فون پر نواز دیوبندی کو مبارک باد دی تو منور رانا کو ایس ایم ایس کیا کہ اتر پردیش اردو اکادمی کو منور رانا مبارک ہوں۔ غالبا فروری کا یہ واقعہ ہے، یعنی بہ مشکل تین ماہ گزرے ہوںگے کہ دو تین دِن قبل خبر آئی کہ منور رانا اتر پردیش اردو اکادمی سے دست بردار ہوگئے۔ ہمارے کان کھڑے ہوئے،ہم نے منور رانا سے فون پر بات کی تو انہوں نے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اردو اکادمی میں مجھے کام کرنے کی سہولت اور تعاون نہیں مل رہا تھا۔ لکھنو کے اخبارات میں اس خبر کی تفصیل میں یہ بھی لکھا گیا کہ منور رانا نے اردو اکادمی کے صدر کا عہدہ سنبھالتے ہی تابڑ توڑ اعلانات کی جھڑی لگا دی تھی۔ اخباری اطلاع کے مطابق اس وقت یہ آواز بھی اٹھی تھی کہ ابھی چی ر مین نے اپنے عہدے کا چارج نہیں لیا اور مجلسِ عاملہ کی تشکیل بھی نہیں ہوئی ہے تو وہ(منور رانا) اعلانات کیوں اور کیسے کر رہے ہیں۔ لیکن انہی کے ساتھ ساتھ منور رانا نے یہ بھی اس وقت کہا تھا کہ اگر میں اردو کی ترقی اور بقا کیلئے اور شعرا و ادبا کیلئے کچھ نہ کر سکا تو اپنے عہدے سے استعفے دیدوں گا۔ اور ماہ رواں کے آخری عشرے میں انہوں نے صدر اردو اکادمی کے عہدے سے بالآخرمستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ چونکہ منور رانا اردو مشاعروں میں اپنی شاعری کے خصوص کے سبب ایک ممتاز حیثیت کے حامل ہیں عوام میں انہیں خاصی مقبولیت حاصل ہے لہذا یہ خبر میڈیا والوں نے آن کے آن پھیلا دِی۔ منور رانا کے استعفے کی خبر جب ہم پڑھ رہے تھے تو اسی میں ایک جگہ گنپت سہائے پی سی جی کالج سلطانپور کی صدر شعبہ اردو ڈاکٹر زیبا محمود کا بھی ایک بیان پڑھا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ منوررانا ایک جہاں دیدہ، تجربے کار اور بے خوف شخصیت کا نام ہے،میں سمجھتی ہوں کہ انہیں یہ عہدہ قبول کرنے سے پہلے صدر اردو اکادمی کے اختیارات اور دائرہ کار کاعلم یقینی طور پر رہا ہوگا۔ انھیں سمجھنا چاہئے کہ(مذکورہ) عہدہ ،گلدستہ نہیں بلکہ کانٹوں کا تاج ہوتا ہے، جب ایک بار انہوں نے تاج پہن ہی لیا تھا تو اپنی ذمے داریوں سے نباہ بھی کرنا چاہئے تھا۔
محترمہ زیبا محمود کے اس بیان کا کوئی پس منظر ہو سکتا ہے ؟ لہذا اس سے ہٹ کر ہم نے منور رانا کے استعفے سے متعلق آج سینئر صحافی حفیظ نعمانی کا بھی ایک مضمون پڑھا ،جس میں اتر پردیش اردو اکادمی کی اِجمالی تاریخ بھی سامنے آگئی ہے کہ اکادمی مذکور کی یہ اساسی روایت ہے کہجب اردو والوں کے ہزاروں مطالبوں کے بعد یہ اکادمی بنائی گئی تھی تواس کی صدربیگم حامدہ حبیب اللہ نامزد ہوئیں اور چیر مین آنند نرائن ملا اورسکریٹری صباح الدین عمر بنائے گئے تھے۔ ہم اردو والے روایت کے بڑے پاسدار ہیں، اکادمی مذکور میںصدر اور چیئرمین کے یہ عہدے اسی روایت کی ایک کڑی ہیں۔
جو لوگ یاد داشت کے دھنی ہیں انھیں ضرور یاد ہوگا کہ ابھی چند برس قبل اردو کے ممتاز ترین نقاد و ادیب شمس الرحمان فاروقی بھی اسی اردو اکادمی کے عہدہ جلیلہ پر فائز ہوئے تھے۔ انکے بارے میں یہ بھی روایت کی جاتی ہے کہ انہوں نے اکادمی مذکور کے اراکین سے کہا تھا کہ جن اراکین کے بچے اردو نہیں پڑھتے انھیں اکادمی سے علاحدہ ہو جانا چاہئے۔ اس کے بعد کچھ ایسی صورت حال بنی یا بنائی گئی کہ شمس الرحمان فاروقی اکادمی سے خود الگ ہو گئے ۔ در اصل ملک بھر میں اردو اکادمیز کے قیام کے مقاصد جو کچھ بھی بیان کئے جاتے ہیں وہ اپنی جگہ، مگر سچ یہ ہے کہ اکثر ریاستوں کی اکادمی مقامی سیاسی لوگوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنی رہتی ہیں ، اردو کے حقوق یا اس کی ترقی کے کتنے منصوبے کامیاب ہوئے ان سب سے قطع نظر، سیاسی لوگوں کے کارکنوں یا ان کے گرگوں کو اکادمی ہی میں کہیں نہ کہیں کسی طور کھپایا جاتا ہے ۔ ظاہر ہے اردو کا معمولی سا مدرس، ایک عام سا شاعرو ادیب یا ہم جیسے اخبارچی اپنے آ پکو ماہراردو سے کسی طرح کم نہیں سمجھتے۔ ہم جیسے اخبارچی اور مشاعرہ مار قسم کے لوگ اقلیتی امور کے وزیر تک پہنچ گئے اور اپنی بیس سالہ اخباری یا مشاعروں کی کارکردگی کا رونا رو لیا تو وزیر باتدبیر کو رحم آہی جائے گا ،سو یہ عجب نہیں ہوگا کہ ہم کل اردو اکادمی کے سکریٹری یا صدر بنا دِیے جائیں۔ یوپی میں جو کچھ ہوا وہ آپ کے سامنے ہے اب مہاراشٹر ساہتیہ اکادمی والے بھی ہشیار ہوجائیں کہ اس برس کے اختتام تک یہاں بھی نئی سرکار کے وجود میں آتے ہی اکادمی کی تشکیل نو ہو گی ہی یاد آتا ہے کہ جب شیو سینا بر سر اقتدار تھی تو مہاراشٹر اردو اکا دمی کے عہدہ جلیلہ پر ایک ایسا شخص بٹھایا گیا تھا کہ جس کی اردو، خاندیشی بولی سے آلودہ ہی نہیں تھی بلکہ ایک واقعہ یہ بھی مشہور ہے کہ بعض مرحوم ادبا و شعرا کے سلسلے میں ایک تعزیتی نشست برپا ہونی تھی تو اس کا مشورہ تھا کہ عصمت چغتائی کو بھی ہم مہمانِ خصوصی کے طور پر تعزیتی نشست میں بلائیں گے۔
بھائی منور رانا! آپ اچھے شعر کہہ رہے ہیں، اچھی نثر لکھ رہے ہیں یہی اردو کی اصل خدمت ہے۔ یہ اردو اکادمی وغیرہ سیاسی ادارے ہیں۔ آپ کا اِن سے کیا لینا دینا ،اللہ آپ کو خوب نواز رہا ہے اس کا شکر کیجیے، آپ کی صحت بھی آپ سے کچھ تقاضا کر رہی ہے دیکھئے آپ بھولنے بھی لگے ہیں، آپ ہی نے کہا تھا نا کہ:
حکومت منہ بھرائی کے ہنر سے خوب واقف ہے یہ ہر کتے کے آگے شاہی ٹکڑا ڈال دیتی ہے۔
اچھا کیا آپ نے استعفے دیدیا ورنہ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ کوئی اسکینڈل بنا کر آپ کو جانے پر مجبورکر دیا جاتا، اور ہاں آپ نے ایس پی کے ٹکٹ پر پارلیمانی الیکشن نہیں لڑا، یہ

اپنا تبصرہ لکھیں