پریشان بھائ 


رضیہ کاظمی 

منے بھائ میرے دور کے رشتہ دار ہیں ۔دوسرے شہر میں رہتے تھے اس لۓ کئ سال سے ملاقات نہیں ہوئ تھی۔ خبر ملی کہ انکا تبادلہ الہ آباد ہوگیا ہے۔ ایک دن راستے میں ملاقات ہو گئ۔کچھ الجھے الجھے سے دکھائ دۓ۔ میں نے پوچھا خیریت تو ہے۔ کہنے لگے ویسے تو سب خیریت ہے لیکن بہت پریشان ہوں ۔کیا بات ہے میں نے کہا “اگر مکان کی دقت ہو تو بتائیے ۔” بولے نہیں مکان کی دقت نہیں مکان تو آتے ہی مل گیا ۔بھئ پریشانی یہ ہے کہ لڑکی سیانی ہوگئ ہے ۔ کوئ ڈھنگ کا رشتہ نہیں آرہا ۔اسکی شادی کی فکر میں راتوں کو نیند نہیں آتی ۔”آپ کی پریشانی بجا ہے ” میں نے کہا۔کہنے لگے کوئ لڑکا نظر میں ہو تو بتائیے ۔ میں نے ایک لڑکے کا پتہ بتایا جو حسب نسب ٬ عمر ٬تعلیم ٬ ہر لحاظ سےانکی لڑکی کے لئے موزوں تھا ۔ ساتھ ہی برسر روزگار بھی تھا۔وہ لوگ بہت جلد لڑکے کی شادی کرنا چاہتے تھےاور کئ بار مجھ سے کوئ لڑکی بتانے کیلۓ کہہ چکے تھے۔ منےبھائ کچھ دن بعد ملے۔چھوٹتے ہی بولے ” آپنے افطار میں بلایا تھا مگر میں اپنی پریشانیوں میں ایسا گھرارہا کہ آنہ سکا۔میرے کان کھڑے ہوۓ”کیوں کیا لڑکے والے راضی نہیں ہوۓ۔”میں نے کہا۔ “نہیں وہ لوگ تو راضی ہیں ہم ہی وہاں نہیں کرنا چاہتے۔” کیوں آپ تو لڑکی کی شادی کیلئے پریشان تھے ۔آپ کو اتنا اچھا کماوٴ لڑکا مل رہاہے۔ اب کیا دقت ہے”۔ 
“بات یہ ہے کہ لڑکا کالاہے۔” 
“کمال کرتے ہیں منے بھائ۔ لڑکے کی شکل وصورت کہاں دیکھی جاتی ہے ۔پھر صورت بھی کچھ بری نہیں ۔ناک نقشہ اچھا خاصہ ہے ۔ ہاں رنگ ضرور دبتا ہے۔” 
منے بھائ بولے “ایک ہی تو لڑکی ہے اب یہ بھی تو نہیں اچھالگتا کہ کالا کلوٹا داماد گھر میں آۓ ۔” …….”جیسی آ پ کی مرضی “۔ میں نے بیزاری سے کہا۔……”دھیان رکھئے گا منے بھائ چلتے چلتے کہہ گئے۔ 
میرے ایک دوست کانپور سے الہ آباد آۓ تھے۔میں نے ان سے منے بھائ کی بیٹی کا ذکر کیا تو انھوں نےکہا ان کی نظرمیں ایک لڑکا ہے۔ وہ منے بھائ کا نام ٬پتہ وغیرہ نوٹ کرکے لے گئے اور وعدہ کرگئے کہ بات کو آگے بڑھائیں گے۔ 
مہینہ بھر بعد منے بھائ نظر آۓ تو مجھے اپنے دوست اور انکا وعدہ یاد آیا۔”منےبھائ کیاآ پ کے پاس سلیم خان کا خط آیا۔”…….”ہاں آیا تو تھا منے بھائ بجھے بجھے لہجے میں بولے ۔لڑکے والے بھی آئے تھے۔”……….”پھر کیا ہوا”۔ میں نے بےتابی سے پوچھا۔………”لڑکی انھیں پسند نہیں آئ ۔ انکا کہنا ہے کہ انھیں معمولی صورت کی لڑکی نہیں چاہئے۔انکا لڑکا دیکھنے میں اچھا ہے ۔بہو بھی خوبصورت ہونی چاہئے۔” 
انکا کہنا ٹھیک ہی ہے ۔میں نے سوچا چلو نہلے پہ دہلا پڑا۔ 
میرے ایک سالے ہوتے تھے جن کا لڑکا شادی کے قابل تھا۔ لڑکا پڑھا لکھا نوکری پیشہ تھااور کالا بھی نہیں تھا۔انسے بات کرکے معلوم ہواکہ انھیں بہت خوبصورت لڑکی نہیں چاہئے بلکہ پڑھی لکھی کام کاجو قسم کی لڑکی چاہئے۔میں نے منے بھائ سے انھیں ملایاتاکہ شادی کی بات چلے۔لیکن بات جب نہیں بنی تو منے بھائ سے دریافت کیا۔کہنے لگے”پتہ نہیں کیسے لوگ بیٹیوں کی شادیاں کرتے ہیں ۔میں توبھاگ دوڑ کرکرکے پریشان ہوگیا۔لڑکا تو آپ نے بہت اچھا بتایا۔مگر اس لڑکے کی ایک بہن ہے۔وہ لوگ بدلے کی شادی چاہتے ہیں۔”۔ 
“تو کیا غلط چاہتے ہیں ۔” میں نے کہا۔ہر آدمی بیٹی کی شادی کیلئے فکر مند رہتا ہے۔ پھر آپ کو کہیں نہ کہیں آخر بیٹے کی شادی تو کرنی ہی ہے۔ آخر لڑکا بھی جوان ہے۔نوکری سے بھی لگ گیا ہے۔ لڑکی سے بڑابھی ہے۔” 
” بدلہ کی شادی ٹھیک نہیں رہتی ۔اگرا نکی بیٹی کو میرے یہاں تکلیف ہوئ تو وہ میری بیٹی کو بھی تکلیف دیں گے۔اگر آپ یہ بدلہ کی شرط ہٹوادیتے تو میرا کام بن جاتا۔”…………ٹھیک ہے میں حتی الامکان کوشش کروں گا۔ ” میں نے کہا۔ مگر دل میں سوچ رہا تھا۔منے بھائ کیا سمجھتے ہیں۔صرف انھیں نے انسان کا ددھ پیا ہے۔باقی سب نے گدھی کا۔دراصل منے بھائ کو بدلہ پراعتراض نہیں تھابلکہ بہو بھاری جہیز والی چاہئے تھی جیسا کہ بعد کے حالات سے معلوم ہوا۔بیٹی کی شادی بدلے میں کرتے تو بہو بھی اتنا ہی جہیز لاتی جتنا بیٹی لے جاتی۔ 
کچھ دن بعد پتہ چلا کہ انھوں نے بیٹی کی شادی ایک آوارہ گھومنے والے بدحیثیت لڑکے سے اور بیٹے کی شادی ایک رشوت خور سرکاری افسر کی خوبصورت لڑکی سےکردی ہے ۔منے بھائ بہو کا جہیز اور خوبصورتی دیکھ کر پھولے نہیں سمارہے تھے۔ جبکہ میں دل ہی دل میں انکی بیٹی کی قسمت پر افسوس کر رہا تھا۔میں نے جتنے لڑکے بتاۓ تھے مجھے منے بھائ کا داماد ان سب سے بدتر نظر آرہاتھا۔نہ کوئ شخصیت (پرسنالٹی) نہ نوکری۔وہ بھی پتہ چلا کہ منے بھائ نے بڑی تکڑم سے پھنسایا تھا۔ دراصل جب منے بھائ نے اچھے بھلے پیغاموں کو نقص نکال کر ٹھکرادیا تو لڑکے والے چڑھ گۓ تھے۔ 
ایک دن سبزی منڈی میں ملے ۔ اسی طرح صودت پر بارہ بجے۔میں نے کہا”مبارک ہو منے بھائ۔بیٹی ٬بیٹا دونوں کی شادیاں ہوگئیں ۔ اب تو آپ حج کر آئیے بھابھی کے ساتھ۔” کہنے لگے حج کیا خاک کر آوٴں مجھے تو پریشانیوں نے گھیر رکھا ہے۔ میں نے کہا اب تو الله کے فضل سے بیٹی کی شادی بھی ہوگئ اب کیا ہے؟” بولے …. بہو بدمزاج ہے ۔گھر میں پٹتی نہیں۔ہر وقت چخ چخ مچی رہتی ہے۔ادھر لڑکی بیچاری پتہ نہیں کس حال میں ہے۔پرائمری اسکول میں نوکری کر رہی ہے۔ وہ لڑکا تو کچھ کرتا دھرتا نہیں۔میری لڑکی کی کمائ کھاتاہوگا۔جی میں تو آیا کہہ دوں یہ سب آپ کا ہی بویا ہوا ہے جو آپ لوگ کاٹ رہے ہیں ۔لیکن میں نے انھیں سمجھاتے ہوۓ کہا”بھائ بیٹی ٬ بیٹے کی شادی آپ پر فرض تھی ۔۔۔۔آپ نے کر دی۔ اب چین کی بنسی بجائیے اور کونے میں بیٹھ کر الله ۔۔الله ۔۔کرئے۔ساس بہو میں کھٹر پٹر تو ہر گھر میں ہوتی ہی رہتی ہے۔خوش قسمتی سے آپ سسر ہیں ۔ نہ ساس نہ بہو۔ایک کنارے بیٹھ کرتماشہ دیکھۓ ۔ پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔” 
کہنے لگے گھر میں رہ کر گھر کے معاملوں سے الگ تو رہا نہیں جاسکتا۔ میرے گھر میں چخ چخ مچے گی تو میں نہ پریشان ہوں گا تو کیا آپ ہوں گے؟ 
یہ صاف میرے اوپر چوٹ تھی کہ میں انکا رشتہ دار ہوکر بھی انکی پریشانی میں کیوں نہیں شریک ہورہا تھا۔میں نے کچھ جواب تو نہ دیا ۔مگر سچ بات یہ ہے کہ ان سے ملنے کے بعد اب کافی دیر تک میں بھی پریشان رہنے لگا تھا ۔ نہ معلوم کیوں ؟ 
پھر معلوم ہوا منے بھائ کے بہو بیٹے الگ مکان لے کر رہنے لگے ہیں ۔میں نے سوچا چلو اچھا ہوا ۔ منے بھائ کے گھر کی چخ چخ ختم ہوگئ ۔پھر معلوم ہوا داماد کو کسی ہوٹل میں کلرک کی نوکری مل گئ ہے۔چونکہ اسکے ماں باپ نہیں تھے۔ وہ دور کے ایک رشتہ دار کے گھر میں رہتا تھا۔جب ان رشتہ دار کا تبادلہ ہوا تو وہ بیوی کو لیکر منے بھائ کے گھر رہنے آگیا ۔یہ اور اچھا ہوا میں نے سوچا ۔بہو بیٹے کے چلے جانےسے بڑھاپے میں منے بھائ کو تکلیف ہوتی ۔ اب بیٹی داماد خدمت کریں گے۔ 
کچھ دن بعد ملے تو میں نے مسکرا کر کہا۔” منے بھائ اب تو آپ کی پریشانیاں ختم ہوگئیں۔ گھر کی چخ چخ ختم ہوگئ ۔داماد کو نوکری بھی مل گئ ۔” چیں بجبیں ہوکر بولے۔ ” لڑکا بہو جنھیں ساتھ میں رہنا چاہئے تھاالگ رہ رہے ہیں ۔داماد گھر جمائ بنا گھر میں پڑا ہے۔ پورے شہر میں میری ناک کٹ رہی ہے۔” …….. میں نے کہا جو نہیں رہناچاہتا اسےآپ زبردستی رکھ نہیں سکتے۔جو رہ رہا ہے اسے گھر سے بھگا نہیں سکتے ۔آپ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ بیٹے بہو چھوڑ کر چلے گۓ توالله نے ان کی جگہ خدمت کیلۓ بیٹی داماد کو بھیج دیا۔بیٹیاں تو ویسے بھی خدمت گزار ہوتی ہیں ۔” کہنے لگے یہی تو رونا ہےکہ میں جو چاہتا ہوں وہ کر نہیں سکتا۔ ویسا ہوتا نہیں ہے۔ اسی لۓ تو پریشان ہوں۔” 
میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں آپ گلے میں ایک تسبیح لٹکا لیجئے اور دن بھر پریشان ہوں ….پریشان ہوں …… کا وظیفہ پڑھۓ ۔شائد آپ کو کوئ راستہ مل جاۓ۔ مگر انکی بزرگی کا لحاظ کرکے کچھ نہیں بولا۔ اس دن بھی کافی دیر تک میرا موڈ خراب رہا۔ 
دوسرے دن صبح ناہید کہنے لگی ۔ آج گڈو کی فیس جمع کردیجئے گا۔میں نے کہا ٹھیک ہے رسید بک اور چیک بک نکال دو ۔لنچ کیلۓ جلدی اٹھ جا ٴوں گا۔فیس جمع کرتے ہوۓ لنچ کیلۓ گھر آٴونگا۔دفعتاََ مجھے یاد آیا۔ منے بھائ یونین بینک کی اسی شاخ میں کام کرتے ہیں جس میں مجھے فیس جمع کرنی ہے۔رہنے دو ناہید میں فیس نہیں جمع کر پاٴوں گا۔محلہ میں کئ بچے گڈ و کےَ ا سکول میں پڑھتے ہیں ۔کسی کے پاپا سے فیس جمع کرادینا”…..”کیوں کیا بات ہے ابھی توآپ نے جمع کرنے کہا تھا۔اب کیا ہو گیا ؟ناہید نے بھویں ٹیڑھی کرتے ہوۓ کہا ۔اب تمھیں کیا بتاٴوں ناہید۔ اسی بینک میں پریشان بھائ….میرا مطلب ہے منےبھائ کام کرتے ہیں۔اگر وہ مل گۓ تو اپنی پریشانیوں کا رونا رو رو کرمجھے بھی پریشان کردیں گے۔” 
” آپ پریشان نہ ہوں ۔میں مینج کرلونگی “۔ ناہید نےکہااور پھر کھلکھلا کر ہنس دی۔ 

عالیہ تقوی 


اپنا تبصرہ لکھیں