ایک کثیر المقاصد تنظیم

ایک کثیر المقاصد تنظیم


رپورٹ ،احسان شیخ
قطع نظر اس کے کہ دنیا نے ایک گلوبل ویلیج کی صورت اختیار کر لی ہے دنیا میں موجود چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے ایک نئی صورت اختیار کر لی ہے۔دنیا میں موجود اختلافات نے جنگوں،اندرونی اختلافات اور دیگر اختلافات کی بناء پر لوگوں کو دوسری جگہوں پر ہجرت کرنے پہ مجبور کر دیا ہے۔اس عمل میں وہ نئی جگہ پر منتقل ہوتے وقت اپنے ساتھ  نظریات اقدار اور طریقء ہائے زندگی بھی لے کر جاتے ہیں۔نئی جگہ نئے لوگ اور طریقہ ء زندگی اکثر اوقات مقامی کمیونٹی اور ان کے درمیان  اختلافات اور خلیج کو جنم دیتے ہیں۔جس کے نتیجے میں علاقائی ترقیاتی عمل متاثر ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔ایک دوسرے کے قریب رہنے کے باوجود باہمی سمجھ کے فقدان کے نتیجے میں لوگ ان سے دور ہو جاتے ہیں۔یہ صورتحال معاشرے کے لیے نئے چیلنجز کا پیش خیمہ  ثابت ہوتی ہے۔
معاشرہ کو ان چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے نیک نیتی سے جرآت مندانہ  اورایسے عوامل کے پروردہ ہو کر ایسے راستے اختیار کرتے ہیںجن کے ذریعے وہ بلا امتیاز رنگ و نسل اور قومیت امن ومحبت کا پیغام دیںتاکہ معاشرے میں مختلف نظریات رکھنے والوں میں ہم آہنگی اور باہمی
سمجھ کا ماحول پیدا کر کے وہ موجودہ اور آئندہ نسلوں کو اس بات کی ترغیب دے سکیں کہ سب نے مل جل کر اجتماعی طور پر معاشرے کی قدروں کو بروئے کار لانا ہے۔
Mangfold Huset  بھی ناروے میں ایک ایسی ہی تنظیم ہے۔اس تنظیم کو ترکی پس منظر کے حامل تارکین وطن نے  2006
میں تشکیل دیا۔  اس تنظیم کے صدر Kurtulus Yucel  نے دوران گفتگو بتایا کہ یہ ایک کثیر امقاصد رضاکارانہ تنظیم ہے۔جس کو ناروے میں ترک کاروباری حلقوں کی سرپرستی حاصل ہے انہوں نے بتایا کہ ہم  چندقریبی دوستوں نے اپنے طور سے یہ طے کیا کہ نارویجن معاشرے کو ایک مربوط معاشرہ بنانے کے لیے ہمیںایسا راستہ اختیار کرنا چاہیے جس میں ذیادہ سے ذیادہ لوگ بلا تمیز مذہب یا قومیت کے بات چیت اورڈائیلاگ کے ذریعے آپس میں باہمی سمجھ اور ہم آہنگی پیدا کر سکیں۔تاکہ ایک کثیر الثقافتی معاشرہ قائم کرنے میں مدد ہو سکے۔چنانچہ ہم نے ایک غیر رسمی پراجیکٹ کی بنیاد رکھی جس میں ہمیں خاطرخواہ کامیابی حاصل ہوئی۔بعد ازاں 2006  میںہم نے اس پراجیکٹ کو رسمی شکل دی اور اسکا نام   Mangfold Huset رکھا جس کا مطلب کثیر المقاصد  ادارہ ہے۔اس دارہ کو حتمی شکل دیتے ہوئے اوسلو میں کارل یو ہان گاتا میں جگہ کرائے پر لی۔اور اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا۔
اس سلسلے میں ناروے میں موجود ترک برادری نے ہمارے ساتھ خاطر خواہ تعاون کیا۔الحمد اللہ آج ہم مختلف سرگرمیوںکو احسن طریقے سے سر انجام دے رہے ہیں۔  تنظیم کے صدر نے  بتایا کہ اس تنظیم کا مقصد   “En verden 1 dialog”یعنی ڈائیلاگ کی دنیاہے۔اس کے ذریعے ہم تینوں ابرہیمی مذاہب یعنی عیسائیت مسلمانیت اور یہودیوں کے درمیان تعلقات پیدا کر کے انہیں بڑھاوا دینا چاہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم نارویجن حکومت سے کسی قسم کی امداد نہیں لیتے ۔جبکہ ہماری ترک برادری ہمیں اس کے اخراجات کے لیے فنڈز مہیاء کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نارویجن معاشرے میں رہنے والے تمام افراد سے بلا امتیاز ڈائیلاگ کے ذریعے رابطہ کرنا چاہتے ہیں۔ہم ایک ایسا مضبوط نیٹ ورک بناناچاہتے ہیں جس میں دنیا کے مختلف معاشروں سے آنے والے  لوگ مل کر باہمی سمجھ پیاراور محبت کا ایک ایسا ماحول پیدا کر سکیں جس کے نتیجے میں ایک مضبوط و مربوط معاشرہ تشکیل پا سکے۔


Mangfold Huset   کی ایک متحرک خاتون  Syrap yaldiz   نے اپنے  خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ کسی بھی معاشرے کے ترقیاتی عمل میں حصہ لیتے وقت ہمیں اپنے  ماحول سے شناسائی اور اس کے ا رد گرد رہنے والوں سے جان پہچان ضروری ہے۔تاکہ ہم میں دو طرفہ سمجھ اور اتفاق رائے پیدا ہو سکے۔لہٰذا تعلقات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ہمیں ان لوگوں سے روابط رکھنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے میڈیا نے یہاں کے لوگوں کو روبوٹوں کا دماغ بنا دیا ہے۔لہٰذا ان سے خود کو متعارف کروا کے ہمیں خود کو منوانے کی ضرورت ہے۔اس کے لیے ہمیں پہل کرنا پڑے گی۔ہمیں اس روائیت کو پانا پڑے گا  جس کے مطابق ہمارے پاک نبی ۖ خود دوسروں کو سلام کرنے میں پہل کرتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے خواتین کا ایک کلب بنایا ہے جس میں ہفتہ وار میٹنگ میں ضرورت کے مطابق پروگرام ترتیب دیا جاتا ہے۔جس میں سیمیناروں کا اہتمام ،غیر رسمی ملاقاتیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہم مختلف موضوعات پر گفتگو کرنے کے لیے معاشرے میں رہنے والے اجنبی لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ہمارے نزدیک ایسی سرگرمیاں مربوط معاشرہ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
Mangfoldige Huset  کے تحت ہونے والی مختلف سرگرمیوں کی تفصیل یہ ہے۔
ڈاکٹرز انجینیر اور مختلف اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے درمیان ڈائیلاگ اور میٹنگز
،میڈیا اور صحافیوں کے درمیا ن ڈائیلاگ
مختلف کلبوں کی تنظیم
خواتین کا کلب
اسٹوڈنٹس کا کلب
اساتذہ کا کلب
انٹر نیشنل ڈائیلاگ
ڈاکٹرز کلب
مزید تفصیلات کے لیے رابطہ
Kurtulus yousel
فون  نمبر
0047. 407201798
تنظیم کا منشور
آئیے آگے بڑہیں اور تنظیم میں شامل ہو کر اس کے مقاصد کو حاصل کریں اور معاشرے کے ترقیاتی عمل کا حصہ بنیں۔یاد رکھیں یہ ترقی کرتی ہوئی دنیا باہمی تعلقات کے فقدان کے نتیجے میں تعصب کا شکار ہو کر دنیا کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔پاکستان ایران شام اور دیگر اقوام میں انتشار اور ظلم کے خلاف اجتماعی امن کے لیے ذہنی امن کی ضرورت ہے اور باہمی سمجھ اخلاص صدق نیت اور عمل ہی دنیا میں ایک دوسرے کو قریب لا کر تباہی سے بچا سکتے ہیں۔وعلیکم السلام
احسان شیخ ناروے



اپنا تبصرہ لکھیں