ہاں میری میرے ﷲ سے وہ پہلی ملاقات تھی

از قلم : رمشہ اکرم

تنہا تھا دل میرا

اندھیری سی وہ رات تھی

ہاں میری میرے ﷲ سے وہ پہلی ملاقات تھی

آنسو بھی تھے آنکھوں میں

کہنے کو باتیں ہزار تھیں

ہاں میری میرے ﷲ سے وہ پہلی ملاقات تھی

امید تھی تھکی ہوئی

غموں کی بھرمار تھی

ہاں میری میرے ﷲ سے وہ پہلی ملاقات تھی

خالی تھے ہاتھ میرے

گناہوں سے نڈھال تھی

ہاں میری میرے ﷲ سے وہ پہلی ملاقات تھی

لگتا تھا مجھے یوں

ناراضگی بےشمار تھی

مگر تیار تھا وہ دینے کو

بس میں ہی بدگمان تھی

ہاں میری میرے ﷲ سے وہ پہلی ملاقات تھی

ہاں میری میرے ﷲ سے وہ پہلی ملاقات تھی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں