کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ ِسحر گاہی

(تعلیمی اداروں کی ایک تابندہ روایت سکول اسمبلی سے متعلق چند سطور)
راجہ محمد عتیق افسر
اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات ،قرطبہ یونیورسٹی پشاور
03005930098, attiqueafsar@yahoo.com

بزم کے فوائدماعیت کا ایک حصہ تصور کرتے ہیں۔
پابندی ٔ وقت ، مخصوص لباس، خاص طرز کی حجامت، ناخنوں کی کٹائی، جوتوں پہ پالش اور


بزم سحر کے مندرجہ ذیل فوائد ہیں :

بزم طلبہ کے درمیان ایک اتحاد کا ذریعہ ہے ۔ طلبہ سکول کو ایک تنظیم اور خود کو اساجتصفائی ستھرائی طلبہ میں یکسانیت اور یک رنگی پیدا کرتے ہیں ۔ اسمبلی کے دوران ان کی پڑتال سے نظم و ضبط مستحکم ہوتا ہے اور طلبہ کو ہر کام وقت پر کرنے کی عادت ڈالتی ہے ۔
یہ طلبہ کے لیے منبہ فکر کا کام کرتی ہے اور اس کے تجربات سے طلبہ کی ذوق میں وسعت اور گہرائی پیدا ہوتی ہے ۔
یہ طلبہ کی کامیابیوں کی تشہیر اور ان کا صلہ دینے کے لیے ایک مناسب موقع و محل ہے ۔
سیکھنے کے لیے استماع، قرات ، تحریر اور کلام ضروری ہیں ۔بزم ان چاروں صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہے ۔ خاص کر استماع کی صلاحیت پیدا کرتی ہے ۔
طلبہ کو بات کرتے وقت سخت تنقید کا سامنہ بھی کرنا پڑ سکتا ہے اس طرح کے ماحول میں طلبہ میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور وہ مشکل صورتحال سے نبرد آزما ہونے کی تربیت حاصل کرتے ہیں ۔
قوی ایام کی تقاریب کے انعقاد سے قومی یکہتی پروان چڑھتی ہے اور طلبہ کے ذہنی آفاق میں وسعت پیدا ہوتی ہے ۔
طلبہ اس بزم میں شرکت کے لیے آتے اور جاتے وقت نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہیں ، قطار میں آتے ہیں قطار میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ ایک ساتھ حرکات کرتے ہیں ۔ یہ نظم و ضبط ان کو زندگی بھر کے لیے ایک پٹری پہ چلنے کے قابل بناتا ہے ۔
یہ طلبہ کے مابین محبت ، باہمی تعاون ، باہمی احترام اور دیگر اقدار کی عملی تربیت حاصل کرتے ہیں ۔
کہانی، روداد اور دروس کے ذریعے وہ دیگر انسانوں کے تجربات سے سبق سیکھتے ہیں اور ان کے شعور میں اضافہ ہوتا ہے ۔
بزم سحر کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ یہ انہائی اہم نوعیت کی سرگرمی ہے اسے عام سی سرگرمی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے ۔ ادارے کے معیار کو بلند کرنے اور معاشرے میں اس کا مقام بنانے میں اسمبلی کا اہم کردار ہے لہذا اس پہ خصوصی توجہ مبذول کرنا چاہیے ۔ تعلیم صرف درسی کتب تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ تربیت کی متقاضی ہے ۔ بزم ہمیں طلبہ کی تطہیر افکار اور تعمیر سیرت کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ان مواقع سے استفادہ کرتے ہوئے طلبہ کو آداب زندگی ، معاشرتی صلاحیتوں اور خود اعتمادی سے مزین کیا جا سکتا ہے جن کے بل بوتے پر وہ مستقبل میں اپنی عملی زندگی کو سنوار سکتے ہیں ۔اسکے علاوہ یہ اساتذہ و طلبہ دونوں کے لیے ایک تربیت گاہ کا کام کرتی ہے اور ان کے تجربے میں اضافے کا سبب بنتی ہے ۔ اگر تعلیمی ادارے اور پالیسی ساز ادارے بزم سحر کو توجہ کا مرکز بنائیں اور صحیح روح کے ساتھ اس کا انعقاد یقینی بنائیں تو یہ بعید نہیں کہ ہم ایسی قوم تشکیل پائیں جس کا خواب علامہ اقبال ؒ اور قائد اؑظم ؒ نے دیکھا تھا۔دین اور دنیا میں بلندی و کامیابی ان ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو صبح خیزی اور صبح کی دعا کی ریاضت کرتے ہیں۔بقول اقبال ؒ
عطار ہو ، رومی ہو راضی ہو غزالی ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحر گاہی

اپنا تبصرہ بھیجیں