کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ ِسحر گاہی

موثر اور کامیاب بزم کا انعقاد

 حصہ دوم

راجہ محمد عتیق افسر
اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات ،قرطبہ یونیورسٹی پشاور
03005930098, attiqueafsar@yahoo.com

سکول کی بزم کو کامیاب اور موثر بنانے کے لیے مندرجہ ذیل اقدام کی ضرورت ہے :
موثر منصوبہ بندی
بزم کے مقاصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ اس کی بھرپور منصوبہ بندی کی جائے ۔ اسے نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں سے جوڑا جائے اور اس کے ثمرات سے مستفید ہوا جائے ۔ بغیر منصوبہ بندی کے منعقدہ بزم ایک رسمی کارروائی کے سوا کچھ نہیں ۔پورے سال کی منصوبہ بندی اور تیاری سے ہی اس کے ثمرات سمیٹے جا سکتے ہیں ۔
بہترین نصاب سازی
ایک کامیاب بزم کے لیے ضروری ہے کہ اس کی سرگرمیوں کے لیے ایک نصاب تیار کر لیا جائے ۔ ہر ماہ کے لیے موضوعات اور روزانہ کی سرگرمیوں کا تعین کر لیا جائے ۔ خصوصی ایام کے حوالے سے سرگرمیوں کو طے کر لیا جائے ۔ اور اس کی بھرپور تیاری کی جائے ۔
بہترین مربی و منتظمین
سکول انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بزم کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا انتظام ان افراد کے حوالے کرے جو اس حوالے سے تربیت یافتہ ہوں ، وہ قابلیت رکھتے ہوں اور وہ مقاصد کے حصول کے لیے پر عزم ہوں ۔ان کے اندر زبان و بیان کی صلاحیت ہو اور وہ عملی طور پر اقدار کو طلبہ تک پہنچانے کے لیے کمربستہ ہوں ۔
دینی تعلیات سے وابستگی
اخلاقیات کا وجود دین سے ہے لہذا بزم کو دین کا آئینہ دار ہونا چاہیے ۔ دینی تعلیمات کو بزم کے نصاب کا حصہ بنایا جائے اور انہیں عملی شکل میں طلبہ تک پہنچایا جائے تاکہ وہ مستقبل میں معاشرے کا بہترین فرد ثابت ہو سکیں ۔
علاقائی اور قومی تمدن سے ہم آہنگی
پاکستان ایک زرعی ملک ہے ۔ اس کی زیادہ تر آبادی دیہات میں رہتی ہے ۔ بزم کو اس تمدن کا خیال رکھ کر منعقد کرنا چاہیے ۔ تاکہ ہماری تہذیب کا عکس اس پہ نمایاں ہو۔ فصلوں کی بیجائی اور کٹائی کے موقع پر طلبہ کو اس کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اس وقع پر اپنے والدین کا ہاتھ بٹا سکیں ۔ زراعت کی اہمیت کو واضح کیا جائے تاکہ یہ طلبہ مستقبل میں ملکی زراعت کی ترقی کا سبب بن سکیں ۔اسی طرح بہار اور دیگر موسموں کے حوالے سے علاقائی سرگریوں کو بھی اجاگر کیا جائے ۔ البتہ وہ رسومات اور سرگرمیاں جو دین کی تعلیمات سے متصادم ہو ں ان کے مضرات سے طلبہ کو آگاہ کرایا جائے اور اس کی روک تھام کے لیے انہیں تیار کیا جائے ۔
بزم بطور ایک عملی سرگری
بزم کو نظری سے بڑھ کر علی سرگرمی بنایا جائے ۔ اخلاقی زوال کا شکار ہماری قوم اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کی عملی تربیت کی جائے ۔ اقوام عالم کی دوڑ میں ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں ان کے برابر آنے کے لیے سست روی کو ترک کر کے ہمیں دوڑ لگانا ہو گی ۔چند منٹ کی بزم کو محض دروس اور کہانیوں اور اشتکال پہ موقوف نہ کیا جائے بلکہ عملی طور پر طلبہ سے اقدار کا مظاہرہ کرایا جائے ۔ مثلاً صفائی کی اہمیت پر بات تو کر دی جاتی ہے اس کی اہمیت بھی واضح ہو جاتی ہے لیکن طلبہ صفائی کی توقع صفائی والے عملے سے کرتے ہیں ۔ اس کے بجائے ایسا چلن اپنایا جائے کہ طلبہ و اساتذہ اپنے سکول اور کمرہ جماعت کی صفائی خود کریں ۔ اسی طرح یہ اقدار پڑھائی تو جاتی ہے کہ تمام انسان برابر ہیں لیکن کلاس فور کے ملازمین کے ساتھ روا سلوک اور برتاؤ کچھ اور ہی عملی تصویر پیش کرتا ہے ۔ اساتذہ وطلبہ کو یہ باور کرایاجائے کہ یہ عملہ ان کے ساتھ تعاون کے لیے رکھا گیا ہے اور ان کا بھی اسی طرح احترام کیا جائے جیسے عا م شہری کا کیا جانا چاہیے ۔ اگر مالی کہہ کر پکارا جاتا ہے تو شاید یہ تحقیر پہ مبنی معلوم ہو لیکن اسی کو باغبان صاحب کہہ کر پکارا جائے تو اسے بھی عزت محسوس ہو گی اور شاید یہ اونچ نیچ کا فرق بھی ختم ہو۔ اسی طرح قطار بنانے کے عمل کو طلبہ کی عادت بنایاجائے تاکہ سکول سے باہر جا کر بھی وہ اس اخلاقی قدر کی خلاف ورزی نہ کریں ۔ اسی طرح دیگر اقدار کو بھی عملی شکل میں طلبہ میں منتقل کیا جائے ۔
علاقائی اور قومی زبان
اب دیکھنے میں آرہا ہے کہ بزم میں غیرملکی زبان میں تربیت دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ ان طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو استبدادی زبان میں میں کھانسنے اور چھینکنے کی استعداد رکھتا ہو ۔ اس تصور کو بدل کر بزم کو قومی تقاضے کے مطابق اپنی قومی اور علاقائی زبان میں منعقد کیا جائے تاکہ یہ طلبہ کے قلب پہ نقش ہو کر ثمر آور ہو سکے ۔ بصورت دیگر ہماری یہ سرگرمی طوطے پڑھانے کے سوا کچھ نہیں ہوگی ۔ ہم اب بھی محض کتابوں کے ناشر پیدا کر رہے ہیں ۔ استاد کتاب سے دیکھ کر بورڈ پہ لکھ دیتا ہے اور بورڈ سے نقل کر کے طلبہ اپنی کاپیوں پہ لکھ دیتے ہیں ۔ اساتذہ سوالات کی شکل میں کاغذ پہ لکھ دیتے ہیں اور طلبہ انہی سوالات کے جوابات کاغذ پہ نقل کر دیتے ہیں ۔ اگر بزم کے پلیٹفارم کو اپنی قومی زبان اور علاقائی زبانوں کے تحت استعمال کیا جائے تو اس نقال قوم کو ایک باصلاحیت تعمیری اور تخلیقی قوم میں ڈھالا جا سکتا ہے ۔
اسرہ جات کی سطح پہ بزم کا انتظام
سکولوں میں گروپ تشکیل دیے جاتے ہیں ۔ انہیں اسرہ (ہاؤس ) کہا جاتا ہے ۔ اس کا نگران ایک معلْم ہوتا ہے اور ہر جماعت سے طلبہ اس کی نگرانی میں مختلف ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں ۔ یہ اسرہ جات ایک دوسرے سے مقابلے میں ہوتے ہیں ۔ اگر بزم کا انصرا م بھی اسی بنیاد پہ کر دیا جائے اور روزانہ کی بنیاد پہ بزم کا انعقاد اسرہ جات کی سطح پہ طے کر دیا جائے تو یہ بھی بزم کو مزید ثمر آور بنا سکتا ہے ۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ اسرے کا نگران استاد اپنے اسرہ کے طلبہ کے ساتھ مشاورت کر کے بزم کو منعقد کرے گا اس طرح طلبہ اس بزم کے شرکاء ہی نہیں رہیں گے بلکہ اس کےمنتظمین بن جائیں گے ۔ اس سے ان کی انتظامی صلاحیت میں نکھار پیدا ہوگا۔اسی طرح مقابلے کے رجحان کی وجہ سے ہر اسرہ بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے بزم کے انعقاد کو بہتر سے بہتر بنانے کی سعی کرے گا اور بزم زیادہ موثر اور نتیجہ خیز ثابت ہو گی ۔
بزم کی سرگرمیوں کی تشہیر
اگر سکول انتظامیہ یہ بندوبست کر لے کہ سکول کے طلبہ روز ایک اخبار نکال کر نوٹس بورڈ پہ آویزاں کریں ۔بزم کی سرگرمیوں اور دن بھر کی سرگرمیوں کو اس اخبار کا حصہ بنایا جائے تو یہ طلبہ کے اندر موجود تحریر (Writing)اور مواصلت (Communication)کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوگا اور بزم کی سرگرمیوں کو ریکارڈ کا حصہ بنانے میں بھی معاون ثابت ہو گا۔
سابق طلبہ کی شمولیت
بزم کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سکول کے سابق طلبہ کو بزم میں بلایا جائے اور ان کی زندگی کے تجربات سے طلبہ کو مستفید کرایا جائے ۔ اسی طرح علاقے کے کامیاب لوگوں کو بزم میں شریک کرا کر ان کے تجربات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔ یہ افراد مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعلق ہو سکتے ہیں ۔
رہنمائے معاش /کیرئیر کونسلنگ
بزم میں فارغ ہونے والے طلبہ کے لیے رہنمائے معاش( کیرئیر کونسلنگ )کی نشت بھی رکھی جا سکتی ہے ۔ اس سے طلبہ میں مستقبل میں اپنے لیے روزگار کی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی اور ان میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ ان کا تعلیمی ادارہ انہیں پاؤں پہ گھڑا کرنے کے لیے تیار کر رہا ہے ۔
بزم بطور ایک مجلس انتخاب
سکول میں موجود بزم ادب ، سکول کے مجلے کی مجلس ادارت اور دیگر طلبہ سوسائٹیوں کا انتخاب اگر بزم میں کیا جائے تو یہ طلبہ کے لیے سیاسی قیادت کے انتخاب کے لیے ایک تربیتی عمل بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ طلبہ سکول میں ہی طریقہ انتخاب سے واقف ہو

جائیں تو جمہوری نظام میں وہ ایک مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔

جاری ہے۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں