کون بنے گا قائد اعظم

کون بنے گا قائد اعظم

تحریر شازیہ عندلیب

 

 

آپ بڑے ہو کر کیا بنیں گے؟ جی میں داکٹر بنوں گا۔کبھی جواب ملتا ہے میں کرکٹر بنوں گا۔کبھی یہ جواب بھی ملتا ہے کہ میں بڑا ہو کر عامر خان یا امیتباھ بچن بنوں گا۔مگر کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں بڑا ہو کر قائد اعظم بنوں گا۔بیشتر ذہین پاکستانی بچوں کو انڈین گانے بمع ناچ کے ازبر ہیں مگر فرمان الہیٰ یا فرمان قائد یاد نہیں۔پاکستان کا ہر لائق بچہ بڑا آدمی بننا چاہتا ہے ۔بیشتر بن بھی جاتے ہیں۔پھر وہ خدمت بھی کرتے ہیں مگر اپنی  قوم کی نہیںبلکہ  اپنے خاندان کی ،اپنے بیوی بچوں کی اپنے دوست احباب کی ۔جب ان لوگوں نے منزل پا لی تو بوقت ضرورت جائے ضرورت سے فرار ہونے والوں میں یہی دعوے دار سب سے آگے تھے۔ورنہ اتنے ڈھیر سارے خدمت گاروں اور خادم اعلیٰ جیسی ہستیوں کی موجودگی میں بھی وطن عزیز کے عوام کی حالت ز ار دیدنی ہے۔اسلیے کہ ہم لوگ عملی کام کے بجائے زبانی کلامی دعووں پر ذیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔یہی سلوک ہم قائد ملت کے ساتھ بھی کرتے ہیں۔ہماری پوری قوم قائد کے اقوال دہراتی رہتی ہے مگر ان پر عمل نہیں کرتی۔قائد اعظم محض ایک لیڈر اور بانی ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ان کے اندر ایک دور اندیش ،ذہین و فطین اور  معاملہ فہم ذہن تھا۔ان کے دل میں ایمان کی شمع روشن تھی جس کی روشنی اندھیروں میں انکی ہی نہیں پوری قوم کی رہنماائی کرتی رہی۔آج ہمارے بیشتر لیڈروں کے دلوں میں لالچ و طمع کی شمع روشن ہے جسے انکے بدن کی ناقص چربی کا تیل میسر ہے جو لالچ و ہوس سے پر ہے۔محض قائد اعظم کے اقوال دہرانے سے انکی تصویر لٹکانے سے اور انکا یوم پیدائش منانے سے قائد اعظم کی عظیم خدمت کا حق ادا نہیں ہوتا۔بلکہ قائد اعظم کا پاکستان بنانے کا عظیم قابل فخر کارنامہ ہماری اس قوم کے بچے بچے پر قرض ہے۔ہم چاہے جہاں بھی رہیں پاکستان ہماری پہچان ہے۔ یہ پہچان ہمیں قائد اعظم نے دی ہے۔یہ قرض کیسے ادا ہو یہ قرض قائد کے اقوال پر عمل کرنے سے ادا ہوتا ہے۔ جس پر اداروں اسکے ارکان کو اور بچوں کوعمل کروانا چاہیے۔اگر کوئی بھی ادارہ قائد اعظم کے اقوال کی روشنی میں چلایا جائے تو ہمیں مستقبل میں قائد اعظم جیسے اٹل ارادوں والے افرد مل سکتے ہیں۔قائد اعظم پر کتابیں اور مضامین لکھنے والے لکھاریوں سے یہ گزارش ہے کہ وہ اس پہلو پر بھی اپنی رائے دیں کہ قائد اعظم کے اقوال پر اپنی قوم کو کیسے عمل کروایا جائے کیونکہ ہماری قوم میں عمل کا بہت فقدان ہے۔ایک رائے یہ بھی ہے کہ ایک پڑہی لکھی محب وطن مان اپنے بچے کی اسٹڈی ٹیبل پر ہر ہفتے قائد اعظم کا ایک قول رکھ دے اپنے بچے کو اسکا مطلب سمجھائے اس پر عمل کروائے پھر ایک ہفتے کے بعد چیک کرے کہ بچے نے کتنا عمل کیااگر نتائج ساٹھ فیصد سے ذیادہ ہوں تو پھر اس بات کا مکان ہے کہ یہ عادت بن جائے گی۔اب اگلا قول منتخب کریں ۔اور اس پر عمل کروائیں اگر یہ عمل بار بار دہرایا جائے تو ہمیں جلد ہی قائد اعظم جیسے اوصاف کی حامل شخسیتیں مل سکیں گی ۔یہ چھوٹا سا تجربہ تین چار ماہ تک دہرائیں اگر آپ کے بچے میں کوئی مثبت تبدیلی آتی ہے تو سمجھیں کہ آپ نے قائد اعظم کا یک فیصد قرض اتارنے کی کوشش کی ہے، اور آپ کے بچے نے بڑا آدمی بننے کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھ دیا ہے۔اگر ایک بچہ اپنا کردار قرآن و سنت کے ساتھ اقوال قائد کی روشنی میںڈھالے تو پھر اس کے سنہری مستقبل کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں چھین سکتی۔ ایسے لوگوں کی تو اللہ اسکی قدرت اور فرشتے خود حفاظت کرتے ہیں۔قائد اعظم کو ئی عالم کوئی پیر ولی نہیں تھے  وہ ایک عام انسان تھے لیکن انکا دل ایمان کی روشنی سے منور تھا۔آج کئی ناعاقبت اندیش لوگ قاعد اعظم کی زات پر نقطہ چینی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انکے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہیں کمزور عقیدہ مسلمان قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ لوگ دروغ گو جھوٹے اور فتنہ پرور ہیں۔وہ پاکستان اور پاکستانی قوم کے دشمن ہیں۔انکی باتوں پر یقین کرنے والے محب  وطن پا کستا  نی نہیں ہو سکتے۔ قاعد اعظم اس صدی کی عظیم شخصیت تھے۔قائد اعظم کی شخصیت کا ایک مختصر تقابلی جائزہ پیش ہے جو انکی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔قائد اعظم کا تعلق ایک تاجر گھرانے سے تھا۔ہمارے بیشتر انبیاء اور اولیائوں کا خاندانی پیشہ تجارت تھا۔انہوں نے علم حاصل کیا ور ایک لائق بیرسٹر بنے۔علم انبیاء کی میراث ہے۔انہوں نے انگریزی جیسی غیر قوم کی زبان سیکھی۔غیر قوم کی زبان سیکھنا سنت ہے۔۔انہوں نے دوقومی نظریہ پیش کیا ۔جسکا واضع مطلب تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔اس سے انحراف کا نتیجہ آج ہم دیکھ رہے ہیں۔۔ قائد اعظم نے ہندو ذہنیت کا نقشہ دو ٹوک الفاظ میں یو ں کھینچ دیا۔ نہرو جی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں اور جو دل میں رکھتے ہیں وہ  زبان سے کہتے نہیں۔انہوں نے انگریزوں کو چودہ نکات کا فارمولہ پیش کیا جس نے بر صغیر کی تاریخ میں معجزہ کر دیا۔اور انگریز انکے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔
پاکستان ستائیس رمضان کی مبارک تاریخ کو معرض وجود میں آیا جب قرآن حکیم مکمل ہوا۔پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے محرکات پر شک کرنے والا کبھی محب وطن پاکستانی نہیں ہو سکتا۔جب انسان کا دل اللہ اور اس کے رسول کی محبت سے معمور ہو جاتا ہے تو پھر اس کے ارادوں کو راستے کی مشکلات متنزل نہیں کر سکتیں۔ایسے انسان کے راستے میں پہاڑوں جنگلوں،صحرائوں اور سمندروں جیسی  رکاوٹیں بھی ہیچ ہوتی ہیں۔پھر یہ سب سمٹ کر انسان کو راستہ دے دیتے ہیں اور منزل مل جاتی ہے جیسے دریائے نیل نے موسیٰ کو راستہ دے دیا اور فرعون کو اور اسکی قوم کو ڈبو دیا۔بقول علامہ اقبال دشت تو دشت ہیں صحراء بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نےآج ہماری ڈوبتی ہوئی قوم کو قائد اعظم کے سنہری اقوال پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستانی دنیا میں جہاں بھی ہوں وہ اپنے بچوں کو اور خود کو اقوال قائد پہ عمل کروائیں۔اس لیے کہ ہمیں پاکستان نے پہچان دی ہے اور پاکستان ہمیں قاعداعظم نے دیا ہے لاکھوں مسلمانوں نے پاکستان کے لیے جان دی ہے ۔اگر پاکستان نہ ہوتا تو آج ہم دنیا میں اک قوم بے نام و نشان کی طرح جی رہے ہوتے۔ہم سب کو اپنے وطن کی بقاء کے لیے کچھ کرنا ہو گا۔آج ہمیں اپنی قوم کا بیڑہ پار لگانے کے لیے ایک اور قائد اعظم کی ضرورت ہے ۔کون بنے گا قائد اعظم؟؟؟

4 تبصرے “کون بنے گا قائد اعظم

  1. buhat khub……shazia Quaid_i-Azam banay ka liya siraf or siraf struggle, apna ap per parosa or lakan jahiya or as a nation ya sub kuch hum bohol juka hain…..

  2. Ji Romana aAp thik kehti hain magar kisi na kisi ko to yad krana ho ga yai sab chahai wo Aap hon mai ya koi or ho.
    is moka par apki khoobsoorat tehrir ki kami mahsoos ho rahi hai.apki tehrir ka intzar rhai ga.
    shazia

اپنا تبصرہ بھیجیں