کمرشیل شعرا اور عالمی مشاعرے

کمرشیل شعرا اور عالمی مشاعرے

 

انٹرنیشنل مشاعروں کا رواج اردو کی ترویج و اشاعت میں یقینا ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔مشرق سے مغرب تک اور عجم سے عرب تک آج اردو مشاعروں کا انعقاد جس خوبصورت پیمانے پر کیا جارہا ہے،اس کیلئے وہ تمام محبانِ اردو جو برصغیر سے نکل کر دنیا کے کونے کونے میں جا بسے ہیں، قابلِ مبارکباد ہیں کیونکہ اِن ملکوں میں ان کا قیام ہی در اصل ان عالمی مشاعروں کی پہچان کا سبب بنا ہے۔ ورنہ کون سوچ سکتا تھا کہ کسی عرب ملک میں کوئی عالمی مشاعرہ منعقدکیاجائے یا کسی انگریزی دبستان میں عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد ہو۔
ہندوستان کے شاہی درباروں میں سلطنتِ مغلیہ اور دیگر سلطنتوں میں مشاعرے دربار کا حصہ ہواکرتے تھے اور شعرا و ادبا ان کے مصاحبِ خاص میں شامل کئے جاتے تھے۔ محفلیں منعقد ہوتی تھیں اور شعرا کو انعام و اکرام سے نوازا جاتاتھا۔بہت کم ایسا ہوا کہ کوئی شاعر یا ادیب معتوب ہوا ہو۔یہ حقیقت صرف اردو کے ساتھ ہی وابستہ نہیں ہے بلکہ عربی اورفارسی کے علاوہ بعض دیگر زبانوں کا ادب بھی اس وصفِ خاص سے مزین رہا ہے۔
مشاعروں کی اپنی تاریخ ہے ۔چاہے وہ درباری مشاعرے ہوں یا عوامی ، ان مشاعروں میں تہذیب ،آداب اور زبان و بیان کے سلیقوں نے تربیت پائی اور عوام تک یہ جواہر انہی محفلوں کی بدولت پہنچے۔دربار سے وابستہ شعرا کا مقام ہمیشہ معاشرے میں درباروں کے قیام کے ساتھ منسلک رہا اور وہ درباروں کے اجڑنے تک انعامات ، القابات و خطابات سے نوازے جاتے رہے۔ جب دربار اجڑ گئے تو ان کا محاکمہ عوامی سطح پر نقادوں کے ہاتھوں میں آیا اورپھر ان کے قد و قامت کا صحیح تعین ہوا۔جو شعرا درباروں سے منسلک نہ رہے، عموماوہ ہمیشہ مفلوک الحال اور کمزور معیشت کا شکار رہے۔
آج کا دور بالکل مختلف ہے۔آج کا شاعر عموما کمزور معیشت کا شکار نہیں ہے ۔البتہ دربار کے بجائے ہمارے اس دور میں شعرا عالمی مشاعروں کی سیج کاحصہ بن کر انعامات پا رہے ہیں۔لفافہ سسٹم نے مشاعروں کی تہذیب کو اور اس کی روایتی قدروں کو پامال کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ لفافہ صرف اس ایک نشست کا زرِ شرکت ہوتاہے، جس کیلئے شاعر کو زحمت دی جاتی ہے۔ اگر منتظمین نے کہیں ان شعرا کی پذیرائی کے خیال سے ایک آدھ اور چھوٹی سی محفل ان کے مزید ایک دو روز قیام کے سبب سجا دی تو اس میں شرکت کیلئے الگ  اورٹائم صاف لفظوں میں بتا دیا جاتا ہے یعنی دوسرا لفافہ دینا ضروری ہو جاتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ منتظمین مشاعرہ شعرا کے انتخاب میں عموما مشاعرہ باز شعرا کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جن کے ریٹ فلمی اداکاروں کی طرح مقرر ہیں۔ وہ باقاعدہ بارگین کرکے اپنے ریٹ پر ہی مشاعروں میں شرکت فرماتے ہیں،ورنہ معذرت کرلیتے ہیں تاکہ انکی مارکٹ خراب نہ ہو۔یہاں منجھے ہوئے ناظمینِ مشاعرہ کے بارے میں وضاحت کرنی بھی ضروری ہے کہ ان کااپنا ایک گروپ ہوتا ہے ،وہ اس گروپ کو ہی پروموٹ کرتے ہیں۔ اگرکوئی نیا شاعر کسی واسطہ یا کسی اور ذریعے سے مشاعرے میں شامل ہوجائے تو محترم ناظم مشاعرہ کی نظرِ عنایت سے وہ محروم رہتاہے اور مشاعرے میں اسے جس طرح سے پیش کرتے ہیں،وہ اسکی حوصلہ شکنی کیلئے کافی ہوتاہے۔اس سسٹم کے سبب اچھا
شعرکہنے والے شعرا کو صرف اسلئے مدعو نہیں کیا جاتا کہ وہ کلام پیش کرنے کیلئے اداکاری ، فلمی ترنم اور داد طلب کرنے کے پیشہ ورانہ طور طریقوں سے آراستہ نہیں ہوتے ،جو ا ن عالمی مشاعروں میں مطلوب ہوتے ہیں ۔ بعض ناظمینِ مشاعرہ آئندہ مشاعروں کی بکنگ کے پیش نظر منتظمین مشاعرہ کی تعریف میں اس قدر رطب اللسان رہتے ہیں کہ دوران مشاعرہ سامعین کو بھی اس کا احساس ہونے لگتا ہے۔چیخنا چلانا اور سامعین سے کہہ کہہ کر داد لینا بھی ان شعرا کے ایک گروپ کا وصفِ خاص ہے، جنھیں کمرشل شاعر کہنا چاہئے کہ
کرتے ہیں صبح شام جو نیلام شاعری
ان کی روش سے ہو گئی بدنام شاعری
مشاعروں کا انعقاد عموما غیر منافع بخش تنظیموں کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ اگر مشاعرہ کروانے والا بھی کمرشل ہو تو پھر سونے پہ سہاگہ۔ شعرا اور منتظم کے درمیان رسہ کشی کچھ زیادہ ہی دیکھنے میں آتی ہے ۔ اگر منتظمین شعرا کوذریعہ بنا کر اپنی جیبیں بھررہے ہوں تو اس صورت میں شعرا کا سطح سے اتر جاناممکن ہے کہ واجبی بن جائے۔ بعض منستظمین کا کہنا ہے کہ اگر مطلوبہ یا روایتی معیار کو پیش نظر رکھ کرعالمی مشاعرے منعقد کئے جائیں تو جو ادارے مشاعروں کی آمدنی سے کوئی خاص خیراتی کام کرنا چاہتے ہوں انہیں اایسے مشاعروں سے کچھ بچے گا ہی نہیں بلکہ مالی نقصان کا بھی اندیشہ ہے۔ ایسے اداروں اور افراد سے میری درخواست ہے کہ وہ مشاعرے ہی کیوں منعقد کریں بے شک مذکورہ فنگاروں کو شرکت کی دعوت دیں جن کے نام سے جمِ غفیر آدھکتا ہو مگر اسے مشاعرے کے بجائے کسی ڈرامے کا نام دیں یا کوئی اور پرفارمینس شو کے عنوان سے معنون کریں۔
یاد رہے کہ بہت محترم شعرا بھی ان عالمی مشاعروں میں شرکت فرماتے ہیں اور انھیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ انھیں کیا دیا جارہا ہے۔ وہ لفظوں کی سوداگری نہیں کرتے۔ انھیں اپنا وقار اوراپنا علمی وادبی قدہمیشہ عزیزہوتا ہے۔بہرحال اپنا گھر بار چھوڑ کر آنے پر قیام و طعام کی میزبانی کے ساتھ سفر کے اخراجات اور جو ہدئیے و تحائف دئے جائیں،انھیں قبول کرناان کاحق ہوتا ہے اور وہ یہی کرتے ہیں۔ ان کے گھربھی سونے کی اینٹوں کے نہیں ہوتے ۔وہ بھی ہماری ہی بستیوں میں بستے ہیں ۔
مہتاب قدر
Mahtab Qadr

میں جہاں بھی رہوں سفر میں ہوں
میرا  اصلی   وطن   مدینہ    ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں