کسی شہر میں ایک تھا بادشاہ

حفیظ جالندھری


انتخاب: ڈاکٹر شہلا گوندل

ابا جان بھی بچوں کی کہانیاں سن کر ہنس رہےتھے اور چاہتے تھے کہ کسی طرح ہم بھی ایسے ہی ننھے بچے بن جائیں۔ نہ رہ سکے۔ بول ہی اٹھے۔ بھئی ہمیں بھی ایک کہانی یاد ہے۔ کہو تو سنا دیں!

’’آہاجی آہا۔ ابا جان کو بھی کہانی یاد ہے۔ ابا جان بھی کہانی سنائیں گے۔ سنائیے ابا جان۔ ابا جان سنائیے نا۔‘‘

ابا جان نے کہانی سنانی شروع کی:

کسی شہر میں ایک تھا بادشاہ

ہمارا تمہارا خدا بادشاہ

مگر بادشاہ تھا بہت ہی غریب

نہ آتا تھا کوئی بھی اس کے قریب

بادشاہ اور غریب۔ سب بچے سوچنے لگے کہ بادشاہ غریب بھی ہو سکتا ہے یا نہیں؟ شاید ہوتا ہو اگلے زمانے میں۔ ابا سنا رہے تھے:

کئے ایک دن جمع اس نے فقیر

کھلائی انہیں سونے چاندی کی کھیر

فقیروں کو پھر جیب میں رکھ لیا

امیروں وزیروں سے کہنے لگا

کہ آؤ چلو آج کھیلیں شکار

قلم اور کاغذ کی دیکھیں بہار

مگر ہے سمندر کا میدان تنگ

کرےکس طرح کوئی مچھر سے جنگ

تو چڑیا یہ بولی کہ اے بادشاہ

کروں گی میں اپنے چڑے کا بیاہ

مگر مچھ کو گھر میں بلاؤں گی میں

سمندر میں ہرگز نہ جاؤں گی میں

ابا جان نے ابھی اتنی ہی کہانی سنائی تھی کہ سب حیران ہو ہو کر ایک دوسرے کا مونہہ تکنے لگے۔ بھائی جان سے رہا نہ گیا ۔ کہنے لگے ’’یہ تو عجیب بے معنی کہانی ہے، جس کا سر نہ پیر۔‘‘

ابا جان بولے ’’کیوں بھئی کون سی مشکل بات ہے، جو تمہاری سمجھ میں نہیں آتی۔‘‘

منجھلے بھائی نے کہا ’’سمجھ میں توآتی ہے مگر پتہ نہیں چلتا۔‘‘ یہ سن کر سب ہنس پڑے ’’خوب بھئی خوب۔ سمجھ میں آتی ہے اور پتہ نہیں چلتا۔‘‘ آپا نے کہا ’’ابا جان بادشاہ غریب تھا۔ تو اس نے فقیروں کو بلا کر سونے چاندی کی کھیر کیسے کھلائی اور پھر ان کو جیب میں کیسے رکھ لیا۔ مزا یہ کہ بادشاہ کے پاس کوئی آتا بھی نہیں تھا۔ یہ امیر وزیر کہاں سے آ گئے۔ شکار میں قلم اور کاغذ کی بہار کا مطلب کیا ہے۔ اور پھر لطف یہ کہ سمندر کا میدان اور ایسا تنگ کہ وہاں مچھر سے جنگ نہیں ہو سکتی۔ پھر بیچ میں یہ بی چڑیا کہاں سے کود پڑیں جو اپنے چڑے کا بیاہ کرنے والی ہیں۔ مگر مچھ کو اپنے گھونسلے میں بلاتی ہیں اور سمندر میں نہیں جانا چاہتیں۔‘‘

ننھی بولی’’توبہ توبہ۔ آپا جان نے تو بکھیڑا نکال دیا۔ ایسی اچھی کہانی ابا جان کہہ رہے ہیں۔ میری سمجھ میں تو سب کچھ آتا ہے۔ سنائیے ابا جان پھر کیا ہوا۔‘‘

ابا جان نے کہا’’بس ننھی میری باتوں کو سمجھتی ہے۔ ہوا یہ کہ:

سنی بات چڑیا کی گھوڑے نے جب

وہ بولا یہ کیا کر رہی ہے غضب

مرے پاس دال اور آٹا نہیں

تمہیں دال آٹے کا گھاٹا نہیں

یہ سنتے ہی کرسی سے بنیا اٹھا

کیا وار اٹھتے ہی تلوار کا

وہیں ایک مکھی کا پر کٹ گیا

جلاہے کا ہاتھی پر رہٹ گیا

یہاں سب بچے اتنا ہنسے کہ ہنسی بند ہونے میں نہ آتی تھی لیکن بھائی جان نے پھر اعتراض کیا’’یہ کہانی تو کچھ اور جلول سی ہے‘‘ منجھلے بھائی نے کہا’’بھئی اب تو کچھ مزا آنے لگا تھا۔‘‘

ننھی نے کہا ’’خاک مزا آتا ہے۔ تم تو سب کہانی کو بیچ میں کاٹ دیتے ہوں۔ ہو۔ ہاں ابا جان جلاہے کا ہاتھی ڈر کر پرے ہٹ گیا ہوگا۔ تو پھر کیا ہوا۔‘‘

ابا نے کہا ’’ننھی اب بڑا تماشا ہوا کہ:

مچایا جو گیہوں کے انڈوں نے شور

’’کس کے انڈوں نے؟ گیہوں کے—تو کیا گیہوں کے بھی انڈے ہوتے ہیں؟‘‘

’’بھئی مجھے کیا معلوم۔ کہانی بنانے والے نے یہی لکھا ہے۔‘‘

’’یہ کہانی کس نے بنائی ہے؟‘‘

’’حفیظؔ صاحب نے۔‘‘

’’ابا اب میں سمجھا۔ اب میں سمجھا۔ آگے سنائیے ابا جان جی۔‘‘ ابا جان آگے بڑھے۔

مچایا جو گیہوں کے انڈوں نے شور

لگاناچنے سانپ کی دم پہ مور

کھڑا تھا وہیں پاس ہی ایک شیر

بہت سارے تھے اس کی جھولی میں بیر

کریلا بجانے لگا اٹھ کے بین

لئے شیر سے بیر چوہیا نے چھین

چوہیا نےشیر سے بیر چھین لئے۔ جی ہاں بڑی زبردست چوہیا تھی نا۔ اب بچوں کو معلوم ہوگیا تھا کہ ابا جان ہماری آزمانے کے لئے کہانی کہہ رہے ہیں۔ اماں جان بھی ہنستی ہوئی بولیں ’’اور تو خیر، یہ کریلے نے بین اچھی بجائی‘‘ ننھی بہت خفا ہو رہی تھی۔ سلسلہ ٹوٹتا تھا تو اس کو برا معلوم ہوتا تھا۔ ابا جی کہئے کہئے آگے کہئے۔ ابا جان نے کہا ’’بیٹی میں تو کہتا ہوں، یہ لوگ کہنے نہیں دیتے۔ ہاں میں کیا کہہ رہا تھا۔

لئے شیر سے بیر چوہیانے چھین

یہ دیکھا تو پھر بادشاہ نے کہا

اری پیاری چڑیا ادھر کو تو آ

وہ آئی تو مونچھوں سے پکڑا اسے

ہوا کی کمندوں میں جکڑا اسے

بھائی جان نے قہقہہ مارا ’’ہہ ہہ ہا ہا۔ لیجئے بادشاہ پھر آ گیا اور چڑیا بھی آ گئی۔ چڑیا بھی مونچھوں والی۔‘‘ منجھلے بولے ’’ابا جی یہ ہوا کہ کمندیں کیا ہوتی ہیں۔‘‘ ابا جان نے کہا’’بیٹے کتابوں میں اسی طرح لکھا ہے۔ کمند ہوا چچا سعدی لکھ گئے ہیں۔‘‘

آپا نے پوچھا۔’’ابا جی یہ سعدی کے نام کے ساتھ چچا کیوں لگا دیتے ہیں؟‘‘ مگر ننھی اب بہت بگڑ گئی تھی۔ اس نے جواب کا وقت نہ دیا اور بسورنے لگی ’’اوں اوں اوں۔ کہانی ختم کیجئے۔ واہ ساری کہانی خراب کردی۔‘‘ ابا جان نے اس طرح کہانی ختم کی:

غرض بادشاہ لاؤ لشکر کے ساتھ

چلا سیر کو ایک جھینگر کے ساتھ

مگر راہ میں چیونٹیاں آ گئیں

چنے جس قدر تھے وہ سب کھا گئیں

بڑی بھاری اب تو لڑائی ہوئی

لڑائی میں گھر کی صفائی ہوئی

اکیلا وہاں رہ گیا بادشاہ

ہمارا تمہارا خدا بادشاہ

اپنا تبصرہ بھیجیں