ڈنمارک : بیروزگار، بیروزگاری الانس کے حق سے محروم ہونے کے قریب ہیں

 

ڈنمارک:   بیروزگار، بیروزگاری الانس کے حق سے محروم ہونے کے قریب ہیں
رپورٹ :  نصر ملک  ۔  کوپن  ہیگن
بیروزگاری الانس کے دورانئیے کو نصف کرکے دو سال کر دیئے جانے کے نتیجے میں   بیزورگار، جولائی سنہ دو ہزار بارہ میں، مالی لحاظ سے انتہائی مشکل ترین حالات سے دو چار ہو سکتے ہیں ہاں، اگر نئی حکومت اس کا کوئی حل تلاش کر لے تو یہ الگ بات ہوگی ۔
حالیہ انتخابات کے بعد، سوشل ڈیموکریٹ پارٹی حکومت سازی کے دوران، اب تک، بیروزگاری الانس کے دورانئیے کو دو سال سے بڑھا دینے کے لیے دوسری اتحادی پارٹیوں اور خاص کر ریڈیکل اور انھد لسٹن سے مذاکرات کر رہی ہے اور بیشک نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن ریڈیکل پارٹی کے اب تک کے رویے کو سامنے رکھتے ہوئے  کہا جا سکتا ہے کہ سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کے لیے اس  اخروٹ   کو توڑنا آسان نہیں اور متذکرہ بالا بیروزگاروں کی آمدن کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہے گا ۔
اگلے موسم گرما میں  بیروزگار تب اپنی آمدن یعنی بیروزگاری الانس سے محروم ہو جائیں گے جب، بیروزگاری الانس کے دورانیئے کو چار سال سے کم کر کے  دو سال  تک  محدود کر دینے والا ضابطہ نافذ العمل ہو جائے گا ۔
انتخابات کے دوران ، جہاں  سوشل ڈیموکریٹ اور ایس ایف پارٹیاں  عارضی طور پر بیروزگاری الانس کے دورانئیے کو اس کے پہلے عرصے کی مدت پر واپس لانے کا عندیہ دیتی رہی ہیں وہاں ریڈیکل پارٹی نے تب بھی اور اب تو کھل کر کہہ دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں سابق حکومت کے ساتھ کیے گئے اپنے سمجھوتے سے پیچھے نہیں ہٹے گی یعنی جولائی سنہ دو ہزار بارہ سے بیروزگاری الانس کا دورانیہ صرف دو سال ہی ہو گا ۔
اب حکومت سازی کے مراحل کے دوران یہی معاملہ، سوشل ڈیموکریٹ اور اس ایف کو ایک طرف اور ریڈیکل پارٹی کو دوسری جانب کھینچے ہوئے ہے ۔ اور بیچ میں انھد لسٹن، تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے مصداق انتظار کر رہی ہے کہ وہ اپنا تیر کب چلائے ۔
بیروزگاری الانس کے دورانئیے کو چار سال سے کم کرکے دو سال تک کر دیئے جانے والا سمجھوتہ ، بیروزگاری الانس کے نظام میں اصلاحات کے نام پر جون سنہ دو ہزار دس میں طے پایا تھا اور اس میں تب کی حکومتی پارٹیوں، وینسٹرا و کنزرویٹوو کے ساتھ ساتھ، غیر ملکیوں مخالف ڈینش پیپلز پارٹی اور ریدکل وینسٹرا بھی اس میں شامل تھیں ۔ انھد لسٹن اس سمجھوتے بارے مذاکرات میں شامل ہی نہیں تھی ۔
اب اگرچہ ایک بڑی حد تک انھد لسٹن پارٹی اس سمجھوتے کی وجہ سے سخت متاثر ہونے والے بیروزگاروں کی مدد کے لیے اس سمجھوتے کو نرم بنانے یعنی بیروزگاری الانس کے دورانئیے کو دو سال سے بڑھا کر اس کی پہلی مدت پر لانے یا کم سے کم اسے ایک سال مزید بڑھا دینے کے لیے آمادہ دکھائی دیتی ہے ، ریڈیکل پارٹی اپنے مقف پر اب تک جوں کی توں ڈٹی ہوئی ہے اور سیاسی مبصرین متفق ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ اب انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے سوشل ڈیموکریٹ حکومتی پارٹی بڑی الجھن میں ہے اور ریڈیکل کے ساتھ اسے اس معاملے پر بڑی بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ سوشل ڈیموکریٹ کوئی بھاری قیمت دینے پر تیار تو ہو لیکن ریڈیکل اسے قبول ہی نہ کرے ۔ ان دونوں میں سے کیا ہو گا، اس کا فیصلہ تو ایک دو دن میں سامنے آ جائے گا لیکن اگر بیروزگاری الانس کے دورانئیے کو بڑھایا نہ گیا تو یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار رہے گی کہ جولائی سنہ دو ہزار بارہ کے بعد بیروزگاری الانس کے حق سے محروم ہو جانے والے   افراد کی آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہو گا اور اگر ان کے پاس پہلے سے بچائے ہوئے کوئی پیسے نہیں ہوں گے تو انہیں اپنے  مکانات کا کرایہ ادا کرنا تو درکنار روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا بھی نا ممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور ہو جائے گا ۔
بیروگاری الانس کے دوانئیے میں اضافہ ہو گا یا نہیں اور کیا ا سں  میں کوئی لچک پیدا کی جا سکے گی ، اس کا انحصار اب زیادہ تر ریڈیکل پارٹی کے رویے پر ہے۔ اب دیکھا یہ باقی ہے کہ کیا ریڈیکل اپنے سخت مقف پر ڈٹی رہتی ہے یا پھر اڑتیس ہزار پانچ سو کے قریب بیروزگاروں کی مدد  کے لیے کچھ نرمی دکھاتی اور بیروزگاری الانس کے دروانئیے کو آگے بڑھا دینے پر آمادہ ہو جاتی ہے ۔ ایک بات تو خود ریڈیکل بھی بخوبی جانتی ہے کہ آج روزگار ملنا کتنا مشکل بلکہ نا ممکن ہے اور اس صورت حال میں بیروزگاروں سے ان کے منہ کا لقمہ چھین لینا کسی بھی طرح سے منصفانہ اقدام نہیں کہلا سکتا

اپنا تبصرہ بھیجیں