ڈاکٹریٹ کی ڈگری اور کم آمدن

ڈاکٹریٹ کی ڈگری اور کم آمدن

ناروے میں بسنے والے تارکین وطن کی دوگنی سے بھی ذیادہ تعداد ایسے افراد پر مشتمل ہے جو کہ اسی تعلیم کے مساوی نارویجنوں سے کم آمدن رکھتے ہیں۔بیشتر ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے تارکین وطن اپنی تعلیمی استعداد سے کم درجہ کی آسامیوں پر ملازمتیں کررہے ہیں۔یہ اعدادو شمار ایک نئی کمپنی نے ایک مقامی ملٹی کلچرل اخبار کے لیے ترتیب دیے  ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار گیارہ میںناروے آنے والے بیشتر تارکین وطن اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ان کی اکثریت کے پاس ماسٹرز کی ڈگری تھی۔جبکہ بہتر ہزار کے لگ بھگ افراد نے ڈاکٹریٹ کی تعلیم مکمل کی۔ان کی عمریں تینتیس اور پینسٹھ سال کے درمیان تھیں۔یہ پیشہ ورانہ میدان میں فعال افراد تھے۔ڈاکٹریٹ کے لیے یہ عمر ذیادہ تھی۔دوہزار گیارہ میں ہر تین میں سے دو ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل افراد غیر ملکی تھے جب کہ ہر تین میں سے دو افراد نے ٹیکینالوجی میں ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔ریاضی،سائینس،تحقیق اور ٹیکنالوجی کے مضامین میں تارکین وطن کے لیے خاص کشش تھی۔ڈی الیون جو کہ او ایم اوڈی تنظیم برائے عمومی تفرکہ کے سربراہ ہیں نے ان اعدادو شمار پر حیرانی کا اظہار نہیں کیا۔ان کے نزدیک یہ بات حیران کن نہیں۔انہوں نے کہا کہ میں اسے ایک طویل روائیتی سلوک سمجھتا ہوں۔حالیہ تجزیہ کے مطابق تارکین وطن کی قابل ذکر تعداد اعلیٰ تعلیم میں دلچسپی لے رہی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس گروپ کی آمدن بھی کم ہے۔جبکہ انہی کا ایک گروپ قابلیت سے نچلے درجے کی ملازمتیں کر رہا ہے۔ان کے مطابق اس بات کی کئی وجوہات ہیں۔اس سلسلے میں کئی مختلف رکاوٹیں ہیں۔سوشل نیٹ ورک کی کمی اور آجروں کا منفی رویہ بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ڈی الیون کے مطابق اس کا انحصار ملازمتوں کی منڈی پر بھی ہے۔ناروے میں ملازمت حاصل کرنا ان لوگوں کے لیے باعث کشش ہے جن لوگوں نے یہاں تعلیم حاصل کی اور جو بیرون ملک سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہیں۔اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ ملازمتیں کیسے دی جاتی ہیں۔اور تعلیم کیسے معیاری قرار دی جاتی ہے۔تعلیم چابی ہے مگر اسے گھمانے کے لیے سوراخ ضروری ہے۔داکتریٹ کی ڈگری کود بکود تنخواہ نہیں دے سکتی۔ناروے کا مستقبل خالیا لدماغوں کے مسائل سے دوچار ہو سکتا ہے اگر ڈاکتروں کو ٹیکسی کے علاوہ کوئی اور پیشہ نہ مل سکا۔اوسلو میں بائیں بازو کی پارٹی کے سیاستدان یاسین اراکیہ کے مطابق یہ خوشی کی بات ہے کہ تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔میرے نزدیک یہ ایک عملی معاشرتی میل جول کا نمونہ ہے۔جبکہ میں جانتا ہوں کہ تارکین وطن طب کی تعلیم حاصل کرنے میں بازی لے گئے ہیں۔ناروے میاس تعلیم یافتہ گروپ کی موجودگی باعث خوشی ہے۔اگر کسی کو اسکی تعلیم سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تو اسے مزید تعلیم حاصل کرنی چاہیے اور اپنا نیٹ ورک بنانا چاہیے۔اگر کسی کو غیر ملکی پس منظر کی وجہ سے مناسب ملازمت نہیں مل رہی تو یہ بالکل امتیازی سلوک ہیجو کہ ناقابل قبول ہے۔ہم سیاستدانوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں