ڈالر کا جادو

ڈالر کا جادو


عابدہ رحمانی
میں ایر کینیڈا کی فلائیٹ سے لگوارڈیا ائر پورٹ پہنچی یہاں سے مجھے جان ایف کینیڈی ایر پورٹ سے اگلی پرواز لینی تھی سامان کافی تھا اسلئے شٹل لینامشکل لگ رہا تھافیصلہ کیا کہ ٹیکسی کر لیتی ہوں لدھی پھند ی باہر نکل کر کیب کی لاین میں لگ گئی یلو کیب گزرتی جارہی تھیں اور مسافر بیٹھ رہے تھے اب جو چہرہ مجھے نظر آیا تو مجھے اپنی ہموطنی کی جھلک نظر آئی میں نے اسے لینا چاہا اور کیب روک دی گئی اسنے اتر کر مجھے سلام کیا تو میرا شک یقین میں بدل گیا سامان رکھنے کے بعد میں کار میں بیٹھی اسنے خود ہی اردو میں پوچھ لیا” میم آپ جے ایف کے جارہی ہیں” جی بالکل” میں نے اسے ایر لاین کا بتایا”جی وہ ٹرمینل تھری سے جائیگی” تقریبا ڈیڑھ گھنٹے کا راستہ ہے اور اسوقت رش آر بھی ہے کیا اپکے پاس  کافی وقت ہے ؟ جی جی ابھی تو کافی وقت ہے “میں ذرا لئے دئے رہنا چاہ رہی تھی لیکن وہ باتیں کرنیکے موڈ میں تھاآخر کو مجھ سے بھی صبر نہ ہوا “آپ کیا پاکستان سے ہیں ” جی میں لاہور سے “کب سے ٹیکسی چلا رہے ہیں؟ تقریبا 5 سال ہوگئے ہیں یہی ایر پورٹ کیراستوں پر چلاتا ہوں-” اچھی آمدنی ہوجاتی ہے ؟– جی اللہ کا شکرہے تھوڑا بہت اپنے گزارے کے لئے رکھ کر باقی گھر بھیج دیتا ہوں ” گھر” میں نے حیرانی سے پوچھا کیا فیملی یہاں نہیں ہے ؟ نہیں جی وہ لاہور میں ہیں ، میں سٹیزن ہوجان تو انکے لئے درخواست دونگا اور اب جو منیر صاحب سے بات چیت شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ انکے والد بہت پہلے امریکہ آئے تھے اور پھر والد کے ذریعے انہیں گرین کارڈ ملا- تو یہ بھی چلے آئے ذرا خاموشی کے بعد میں نے پوچھا کچھ تعلیم وغیرہ حاصل  کی؟ اس بات پر منیر صاحب کچھ جھینپے اور گویا ہوئے ” جی میں میڈیکل ڈاکٹر ہوں” تو یہ ٹیکسی ؟ یہاں کے لائسنس کا امتحان پاس نہیں کرسکا تو یہ ٹیکسی چلاکر گزر بسر کرتا ہوں جی اچھی آمدنی ہو جاتی ہے” – کیا ایک ڈاکٹر کے برابر ؟ نہیں جی اتنی تو نہیں جب ہی تو بیوی بچوں کو پاکستان میں رکھا ہوا ہے وہ سمجھتے ہیں ابو وہاں میڈیکل پریکٹیشنر ہیں آپ تو جانتی ہیں محنت کرنے میں کوئی عیب نہیں ہے – دس سال تک میو ہسپتال میں ایم او تھا -کہاں سے پڑھاہے؟ میں ذرا تصدیق کرنا چاہ رہی تھی جی نشتر سے ؟ اور اگر کوئی ساتھی دوست مل جائے تو ؟ بس جی کیا کریں مل بھی جاتے ہیں آپکو پتہ ہے آپکو یہاں کافی ڈاکٹر انجینئر کیب اور لیمو ڈرائیور مل جائینگے-” ہاں شروع شروع میں تو میں نے سناہے کہ اکثر لوگ قدم جمانے کیلئے کرتے ہیں لیکن پانچ سال ہوگئے آپکو؟” “بس جی امتحانوں پر بہت پیسے برباد ہوگئے میری قسمت میں پاس کرنا نہیں لکھا تھا اب ہائی جین کے کچھ کورس کر رہاہوں -” تو پاکستان واپس کیوں نہیں جاتے وہان آپ میڈیکل آفیسر تھے یہ تو پیشے کی تذلیل ہے” – جی یہان جو میں کماتا ہوں ٹپ وغیرہ ملاکر پاکستانی حساب سے ڈھائی تین لاکھ بن جاتے ہیں آپکو تو پتہ ہے وہاں ایک ایماندار ایم او کی کیا تنخواہ ہے؟میری منزل آگئی تھی – میں کارٹ نکال لائی تو منیر نے سامان رکھا کرایہ دیکر میں نے اسے پانچ ڈالر کی ٹپ دی” تھینک یو میم اپکا سفر خوشگوار ہو” اسنے انگریزی میں کہا اور مین اپنے اس پاکستانی سابقہ میڈیکل آفیسر کا منہ دیکھتی رہ گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں