بچوں کے حضورۖ

بچوں کے حضورۖ

عارف کسانہ  سویڈن

پیارے بچو ہمارے پیارے رسول حضرت محمد ۖ بچوں سے بہت زیادہ شفقت اور پیار کرتے تھے۔ آپ جب بچوں کے پاس سے گذرتے تو انہیں سلام کہتے۔ جب کبھی آپۖ مدینہ سے باہر جاتے اور واپسی پر بچے آپۖ کا استقبال کرتے تو رسولِ خدا بھی بچوںکو دیکھ کر بہت خوش ہوتے اور انہیں اپنے ساتھ سواری پر بٹھا لیتے۔ آپۖ کے صحابہ اکرام بھی بچوں کو پیار سے اپنی سواریوں پر بٹھا لیتے۔ بچے بھی آپۖ سے بہت پیار کرتے تھے اور جہاں آپ ہوتے تھے وہاں پہنچ جاتے تھے۔ آپۖ بچوں کو ہردفعہ کچھ کھانے کو ضرور دیتے، کبھی کھجوریں، کبھی تازہ پھل اور کبھی کچھ اور۔ پھر ایک ایک کو گود میں اٹھاتے اور پیار کرتے تھے۔ حضرت حسن اور حضرت حسین  حضورۖ کے نواسے تھے اور آپۖ دونوں سے بہت زیادہ پیار کرتے  اور اُن کا منہ چومتے اور دونوں کو اٹھا لیتے تھے ۔ آپۖ نے تمام مسلمانوں کو بھی تاکید کہ وہ بھی بچوں سے پیار کیا کریں۔ حضورۖ کے ایک صحابی حضرت انس بن مالک کا ایک چھوٹا بھائی تھا جس سے آپ ۖ بہت لاڈ کرتے تھے۔ ننھے صحابی کے پاس ایک بُلبل تھا جس وہ کھیلتا تھا۔ پھر جب وہ پرندہ مرگیا تو آپۖ جب بھی اُسے ملتے تو پوچھتے کہ تمھارے بُلبل کو کیا ہوا تھا۔ رسول اللہۖ ایک دفعہ وضو کررہے تھے اور ایک پانچ سالہ بچہ محمود بن ربیع آپۖ کی طرف آیا ۔ آپۖ نے بچے کی طرف توجہ کی اور اس سے دل لگی کرنے لگے۔             حضورۖ نے جب اللہ کے حکم سے اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا تو بچوں میں سے سب سے پہلے حضرت علی نے اسلام قبول کیا۔ رسول خداۖ اُن سے بہت پیار کرتے تھے اور اُن کی ساری تربیت بھی خود کی ۔ حضرت علی جب جوان ہوئے تو اپنی بیٹی حضرت فاطمہ سے اُن کی شادی کردی۔ حضرت فاطمہ جب بھی آپۖ سے ملنے کے لیے آتیں تو آپۖ کھڑے ہوکر انہیں ملتے اور اُن کی پیشانی چومتے۔اسامہ  حضورۖ کے بہت ہی پیارے صحابی حضرت زید بن حارثہ کے بیٹے تھے۔ اُن سے آپۖ کو بہت محبت تھی۔ ایک دفعہ ننھے اسامہ کو دروازے کی چوکھٹ کے ساتھ ٹھوکر لگنے سے ماتھے پر شدید چوٹ آگئی اور خون بہنے لگا۔ حضورۖ نے اُم المومنین حضرت عائشہ سے فرمایا کہ اسامہ کے چہرے سے خون صاف کردو۔ وہ کچھ مصروف تھیں اور دیر لگ گئی تو آپۖ نے خود ہی اُٹھ کر اسامہ کے چہرے کو خون سے صاف کیا اور انہیں پیار بھی کیا۔ایک دفعہ ایک صحابی خاتون حضرت اُم قیس  اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ آپۖ سے ملنے آئیںتو آپ ۖ نے بچے کو پیار کرنے کے لیے اپنی گود میں اُٹھا لیا۔ بچے نے آپۖ کے کپڑوں پر پیشاب کردیا  لیکن آپۖ نے غصہ یا ناگواری کا اظہار نہ کیا اورپانی سے اپنے کپڑے صاف کرلیے۔             آپۖ بچوں کو بالکل نہیں ڈانتے تھے بلکہ پیار سے سمجھاتے تھے۔ ایک دفعہ آپۖ نے دیکھا کہ ایک بچہ پتھر مار کر درخت سے کھجوریں گرا رہا ہے تو آپۖ نے اس کو نرمی سے سمجھایا کہ پتھر مار کر پھل گرانا اچھی بات نہیں۔ اُس بچے کی دوسری بار پھر آپۖ کے پاس شکایت آئی تو بھی آپۖ نے اُس کو نہیں جھڑکا ۔ بچے نے شرمندہ ہو کر خود ہی وہ عادت چھوڑ دی۔آپۖ نے یتیم بچوں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرنے کی سخت تاکید ہے ۔ یتیم اور بھوکے کو کھانا کھلانا بہت ثواب کا کام ہے۔ حضرت ابوہریرہ   نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ مسلمانوں کے گھروں میں بہتر وہ گھر ہے جس میں یتیم کی پرورش کی جائے اور اس کے ساتھ احسان کا سلوک کیا جائے اور بد تر گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ بُرا سلوک کیا جائے۔ایک دفعہ آپ مدینہ کی ایک گلی سے گذر رہے تھے کہ آپۖ نے دیکھا کہ گلی کی نکڑ پر کھڑا ایک لڑکا رو رہا تھا۔ اُس لڑکے کا نام بشر تھا۔ آپۖ اُس لڑکے کے پاس گئے اور دریافت کیا کہ وہ کیوں رو رہا ہے۔ لڑکے بتایا میرے والد ایک جنگ میں شہید ہوگئے ہیں  اب میرا خیال رکھنے والا کوئی نہیں ، اب کون مجھے کھلائے اور پلائے گا۔ حضورۖ جو خود بھی بچپن میں یتیم ہوگئے تھے لڑکے کی بات سُن کر اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بہت پیار کرتے ہوئے فرمایا کہ بیٹے ! کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ عائشہ   تمھاری ماں ہو  اور محمد رسول اللہۖ تمھارے باپ ہوں۔ یہ سُن کر وہ لڑکا بہت خوش ہوا۔ حضورۖ نے اُس لڑکے کی سرپرستی اختیار کرلی اور حضرت عائشہ   نے ماں کی طرح اُسے پیار کرنا شروع کردیا اور بشر اپنے باپ کا غم بھول گیا۔                رسول اللہۖ صرف مسلمان بچوں سے ہی نہیں بلکہ اُن بچوں سے بھی پیار کرتے تھے جو مسلمان نہیں بھی تھے۔ مدینہ میں ایک یہودی بچہ رہتا تھا آپۖ اُس سے شفقت کا سلوک کرتے تھے اور وہ بچہ بھی آپۖ سے بہت پیار کرتا تھا۔ ایک دفعہ وہ بیمار ہوگیا توآپۖ اُس کی عیادت کرنے اُس کے گھر گئے۔ اُس لڑکے نے جب دیکھا کہ رسول اللہۖ اُس کی بیمار پُرسی کرنے خود آئے ہیں تو وہ بہت خوش ہوا اور مسلمان ہونے کی خواہش کا ظہار کیا۔ اُس نے اپنے والد سے اجازت لے کر اسلام قبول کرلیا۔ مدینہ کے بچے آپۖ سے بہت پیار کرتے تھے۔ جہاں آپۖ بچوں سے پیار کرتے تھے وہاں بچوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ بھی بڑوں کی عزت کریں۔ آپۖ نے بچوں کو ضروری تاکید کی کہ وہ اپنے والدین کا احترام کریں اور انہیں اُف تک نہ کہیں اور نرمی سے بات کریں۔آپۖ نے یہ بھی تعلیم دی ہے کہ بڑوں کا ادب کیا جائے۔رسول اللہ ۖ کی یہ واضع ہدایت ہے کہ جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا اور ہمارے بڑوں کی عزت نہیں کرتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ ہم اپنے پیارے رسول پاک ۖ کے بتائے ہوئے راستے پر چلیںکیونکہ حضورۖ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق دے۔

 

اپنا تبصرہ بھیجیں