پاکستان کی کم سن ترین کہانی کارہ فاطمہ زہرا ہاشمی سے ایک ملاقات






رپورٹ :انیلہ محمود
بچے کسی بھی ملک و قوم کا نہ صرف مستقبل ہوتے ہیں بلکہ یہ اس ملک کا فخر اور شناخت بھی ہوتے ہیں۔پاکستان کی سرزمین ایسے قابل فخر پاکستانیوں سے بھری ہوئی ہے جنھوں نے اپنے کردار اور کام سے پاکستان کا نام روشن کیا۔ان قابل فخر پاکستانیوں کی فہرست میں ایک نام فاطمہ زہرا ہاشمی کا ہے۔چشمہ بیراج میانوالی سے تعلق رکھنے والی فاطمہ زہرا ہاشمی پانچویں کلاس کی طالبہ ہیں۔وہ پہلی پاکستانی بچی ہیں جنھوں نے ساڑھے نو سال کی عمر میں شارٹ اسٹوریز کی کتاب ”کیا نام ہے؟”لکھی ہے۔اس کتاب میں دس کہانیاں شامل ہیں۔فاطمہ زہرا کا تعلق ایک ادبی گھرانے سے ہے۔ان کے والد انگلش لٹریچر کے پروفیسر ہیں۔نانا جان شاعر ہیں جبکہ خالہ ادبی جریدہ کی مدیرہ ہیں۔فاطمہ کہانی کارہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی نعت خواں اور مقررہ بھی ہیں۔
گذشتہ دنوںفاطمہ سے ہونے والی بات چیت قارئین کی نذر۔۔۔
اتنی کم عمری میںآپ کو لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
میں ایک ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں،یہ کلاس ون کی بات ہے جب مجھے لکھنا پڑھنا آیا تو میرے بابا نے شیخ سعدی ،قرانی کہانیاں لا کے دیں۔کلاس ون سے ہی میں نے بچوں کے میگزین تعلیم و تربیت اور پھول پڑھنا شروع کیے۔ میں ڈیلی نیوز پیپرز میں بچوں کا صفحہ بھی باقاعدگی سے پڑھتی ہوں۔شروع میں ،میں نے جو کہانیاں لکھیں وہ بچوں کی مختلف ویب سائیٹس پر شائع ہوئیں۔پھر جب لکھنا کچھ بہتر ہوا تو میرے بابا نے میری کہانیوں کو”کیا نام ہے؟” کی شکل دے دی۔یہ میری پہلی بک ہے۔میں بہت سی کتابیں لکھنا چاہتی ہوں۔میری خواہش ہے کہ میں اپنے اسکول کا نیوز لیٹر ریلیز کروں۔
کتاب مارکیٹ میں آنے پر آپ کیسا محسوس کرتی ہیں؟
میں بہت خوش ہوں ۔میں کتابیں پڑھتی تو تھی لیکن میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ میری کتاب شائع ہوگی۔اب سب میری کتاب کی تعریف کرتے ہیں تو مجھے بے حد اچھا لگتا ہے۔
آپ کے والدین،اساتذہ یا کسی اور شخصیت کا آپکو اس طرف راغب کرنے میں کتنا حصہ ہے؟
میرے بابا انگلش ادب پڑھاتے ہیں،میرے نانا ابو کا شعری مجموعہ”حدیث دل ”شائع ہو چکا ہے اور میری خالہ سہ ماہی تمام کی مدیرہ ہیں۔میری فیملی میں زیادہ لوگ تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہیں۔مجھے کتابوں کا ماحول ملا اور میں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔
آپ کے والدین کس شعبے سے وابستہ ہیں؟
میرے بابا انگلش کے پروفیسر ہیں اور ماماکیمسٹری پڑھاتی ہیں۔
آپ کہانیاں لکھتی ہیں کیا آپ نظمیں بھی لکھتی ہیں؟
جی نہیں۔میں صرف کہانیاں لکھنے میں دلچسپی رکھتی ہوں۔میری خواہش ہے کہ اردو کے علاوہ انگلش میں بھی میری کہانیوں کی بک شائع ہو۔
آپ بچوں کے کن ادیبوں کی کہانیاں شوق سے پڑھتی ہیں؟
مجھے مسعود احمد برکاتی،ذکیہ بلگرامی،یونس حسرت،اشفاق احمد خان،نذیر انبالوی کی کہانیاں بہت پسند ہیں۔
پہلی کہانی لکھنے کے بعد آپ کے کیا تاثرات تھے؟
(ہنستے ہوئے) یہ کلاس تھری کی بات ہے۔میں نے ٹارزن،ہرکولیس،الہ دین ایسے بہادروں کی کہانیاں پڑھ ڈالیں تو مجھے شوق ہوا کہ میں کہانی لکھوں اور وہ شائع ہو۔میں نے ایک جن کی کہانی سوچی،جس نے بہت سے بچوں کو اغوا کر کے اپنی غار میں چھپا رکھا ہوتا ہے۔کہانی لکھنے کے بعد میں نے کتاب سائز میں کچھ صفحے لئے،ان پر کہانی کو ری رائیٹ کیا۔اور آخر میں بڑا سا”ختم شد” لکھا۔پھر اسے ایک بک اسٹور پر لے گئی،جہاں سٹوڈنٹس کے نوٹس پرنٹ ہوتے تھے،میں نے شاپ کیپر سے کہا کہ”کہانی شائع کرانی ہے”اس نے صفحات کوکئی بار الٹ پلٹ کر دیکھا اور پھر اس پر اسٹیمپ لگا دی اور مجھے تھما دی۔میں واپس آگئی لیکن مجھے پتہ چل چکا تھا کہ شاپ کیپر نے مجھے ٹر خا دیا ہے۔میں نے دل میں شکر کیا کہ اپنی فرینڈ کو ساتھ نہیں لائی ورنہ کلاس میں بہت شرمندگی ہوتی۔
آپ کو یہ کیسے احساس ہوا کہ آپکے اندر لکھنے کی صلاحیت موجود ہے؟
ہر انسان جذبات اور احساسات رکھتا ہے۔اور وہ یہ احساست دوسروں سے شیئر بھی کرنا چاہتا ہے۔زندگی کا کوئی بھی درد کوئی بھی لمحہ انسان کو لکھنے کی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔حساس لوگوں میں لکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔
کہانی لکھنے کے لئے کس قسم کے موضوعات کا انتخاب کرتی ہیں؟
میری کوشش ہوتی ہے کہ جو بھی لکھوں اس سے کوئی سبق حاصل ہو سکے ،کسی کی اصلاح ہو سکے۔
آپ کی کہانیوں میں تخلیق زیادہ ہوتی ہے یا مشاہدہ؟
میں بامقصد کہانیاں پسند کرتی ہوں۔مجھے طلسمی کہانیاں لکھنا اچھا نہیں لگتا۔میں زیادہ تر اردگرد کے واقعات پر کہانیاں لکھتی ہوں۔لیکن مشاہدے کو لکھنے کے لئے بھی تخلیق کی صلاحیت ضروری ہے۔
آپ کی زندگی کا کوئی ایسا واقعہ جس سے آپ بہت متاثر ہوئی ہوں؟
جب میں کلاس ٹو میں تھی تو میرے بابا خون کا عطیہ دینے کے لئے ہاسپٹل گئے۔لیبارٹری میں جب ان کے خون کا ٹیسٹ لیا گیا تو انھیں بتایا گیا کہ آپکو ایڈز ہے۔یہ دن ہمارے لئے بہت پریشانی کے تھے۔وہ ایک مریض کی جان بچانے گئے لیکن ہمیں انکی جان کے لالے پڑ گئے۔بابا کو لاہور Referکر دیا گیا۔لیکن خدا کا شکر ہے کہ انکے تمام ٹیسٹ بالکل ٹھیک نکلے۔میرے با بالکل ٹھیک تھے۔لیکن لیبارٹری والوں کی لاپرواہی کی وجہ سے نہ صرف ہمیں پریشانی ہوئی بلکہ ایک مریض کو خون بھی نہیں مل سکا۔میں سوچتی ہوں جب یہ حالات ہوں تو کیا نیکی کرنی چاہئے؟
بک ریڈنگ،اسٹوری رائیٹنگ کے علاوہ کیا سرگرمیاں ہیں؟
اسٹوری رائیٹنگ مقابلوں میں حصہ لیتی ہوں۔تقریری اور کوئز مقابلوں میں حصہ لیتی ہوں۔میں نعت خوانی کا شوق رکھتی ہوں۔مجھے لانگ ڈرائیونگ پسند ہے۔میں لان ٹینس کھیلتی ہوں۔میں ادبی تقریبات مشاعرے ،بک اوپننگز اٹینڈ کرتی ہوں۔
آپ کے والد انگلش لٹریچر پڑھاتے ہیں کیا والدہ بھی لٹریچر سے دلچسپی رکھتی ہیں؟
نہیں۔میری ماما صرف اسلام اور سائنس کی بکس پڑھتی ہیں۔لیکن وہ میری اسٹوریز ضرور پڑھتی ہیں اور میری حوصلہ افزائی بھی کرتی ہیں۔مجھے اسٹوریز کی بکس بھی لا کر دیتی ہیں۔
مستقبل میں آپ کے کیا ارادے ہیں؟
لکھنا تو ساتھ ساتھ جاری رہے گا۔میں مستقبل میں پائلٹ بننا چاہتی ہوں۔فضائوں میں اڑنا چاہتی ہوں۔سب سے آگے جانا چاہتی ہوں۔
قارئین کے نام آپ کا پیغام؟
خوش رہیں۔اپنا اور دوسروں کا بہت سارا خیال رکھیں۔

2 تبصرے “پاکستان کی کم سن ترین کہانی کارہ فاطمہ زہرا ہاشمی سے ایک ملاقات

  1. بہت ھی اچھا لگا فاطمہ!آپکا انٹرویو پڑھ کے.. بہت قیمتی خیالات ھیں آپکے.. اللہ انکی حفاظت فرماۓ اور آپکو اپنے مقصد میں کامیابیاں عطا فرماۓ! آپکے انگریزی ادب کےدلدادہ بابا، مشق سخن کے شائق نانا جان اور نثر کے گہرے سمندر کی ایک کامیاب غوطہ خور خالہ جان {محترمہ ارم ھاشمی} کو میرامحبتوں بھرا سلام!

اپنا تبصرہ بھیجیں