ندامت

ندامت

شاعرہ: شعاع نور

ندامت ہے ہر اک اس فعل پہ مرشد

جہاں جذبات نفسانی کی ایسی حکمرانی ہے

کہ نور فطرتی تک اب رسائی ہونہیں سکتی

یہ میرا ذہن ناقص کس طرح جانے

وہ ادنی رمز اور تیرے اشارے سب

انا الموجود کی آواز
گو اندر سے آتی ہے

مگر بے بس سماعت کو سنائی ہی نہیں دیتی

کہ اخلاقی قوی، انوار قلبی

کند ذہنوں کے لئے ہوتے ہی کب دیکھے

تو کہتا ہے کہ قابل نفس کی بھی حد مقرر ہے

مگر کم فہم ناقص ذہن نے حد سے نکلنے کو ترقی کیوں ہے گردانا

ضعیف العقل نفسانی طمع

دیدہ دلیری سے ترا انکار کرتی ہے

تجھے اک چھوڑ کر اورورں سے کتنا پیار کرتی ہے

ادھورا اور ناقص تو نہیں ہے تو

خدا بننے کے لائق ایک تو ہی ہے

تو پھر بے عقل وحشی نفس نے

یہ ظلم کب کیسے کمایا ہے

خدا کس کو بنایا ہے

یہ دنیا تو پری ہے جس نے ایسی کتنی لاشوں کو سکوں سے تلف کر ڈالا

مجرد عقل والوں کا لہو پینے میں اسکو کیا قباحت ہے

کہ یہ اسکی روایت ہے

مجرد سوچ سے کوئی صداقت کیا جنم لیتی

کہ ہر تحقیق تو بس عقل کے زریعے ہی ہوتی ہے

مگر اس عقل کے جوہر کو بھی ساتھی کی چاہت ہے

بصارت آفتاب نور سے جڑ کر بصیرت ہے

یہی گہری ریاضت ہے یہی سچی محبت ہے

محبت کے بنا آدم یا حوا ہو

ادھورے تھے ادھورے ہیں

اگر بنجر زمیں پہ کوئی بارش ہی نہ برسے تو

وہ کیسے باثمر ہوگی

وہ کیسے پر اثر ہوگی

یہی قانون قدرت تھا

یہی قانون قدرت ہے

تو پھر یہ عقل بھی تو اپنے ساتھی کی ہے متلاشی

خدا کے عشق کی پیاسی

اے وحشی نفس

کھول آنکھیں

بصیرت میں خلل ہو تو بصارت بھی نہیں رہتی

صداقت بھی نہیں رہتی
ریاضت بھی نہیں رہتی

تری نا آشنائی تو بڑی ہی بدنصیبی ہے

بصیرت سے جڑے رستوں میں تیری خوش نصیبی ہے

فہم ادراک اور عقل سلیمی کے چراغ روشنی تجھ کو بلاتے ہیں

خرد کے نور سے روشن نئی دنیا دکھاتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں