اوسلو، 30 اگست 2026: ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ناروے کے شاہی محل کے مطابق بادشاہ نے جمعہ 28 اگست کو اوسلو یونیورسٹی ہسپتال کے ریکشاسپیتالیٹ میں مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 35 منٹ پر پُرسکون طور پر آخری سانس لی۔
بادشاہ ہیرالڈ پنجم نے 1991 میں تخت سنبھالا تھا اور تقریباً 35 برس تک ناروے کے سربراہِ مملکت رہے۔ انہیں ایک جدید، نرم مزاج اور عوام کے قریب بادشاہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے دورِ حکومت میں ناروے کی بادشاہت نے جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کیا۔
ہیرالڈ پنجم 21 فروری 1937 کو ناروے میں پیدا ہوئے۔ وہ بادشاہ اولاف پنجم کے بیٹے اور بادشاہ ہاکون ہفتم کے پوتے تھے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران شاہی خاندان کو ناروے چھوڑنا پڑا، تاہم جنگ کے اختتام پر وہ وطن واپس آئے۔ بعد ازاں ہیرالڈ نے فوجی تربیت حاصل کی اور برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں بھی تعلیم حاصل کی۔
بادشاہ ہیرالڈ کو کھیلوں، خصوصاً کشتی رانی، سے گہری دلچسپی تھی۔ انہوں نے اولمپک مقابلوں میں ناروے کی نمائندگی بھی کی اور کئی بین الاقوامی سیلنگ مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کیں۔ وہ ماحولیات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے بھی حامی تھے۔
ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے ہاکون ہشتم (King Haakon VIII) نے ناروے کے نئے بادشاہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ ناروے بھر میں شہری آنجہانی بادشاہ کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں، جبکہ شاہی خاندان نے بھی ان کی یاد میں تعزیتی تقریبات میں شرکت کی ہے۔
بادشاہ ہیرالڈ پنجم کی وفات ناروے کی تاریخ میں ایک اہم باب کے اختتام کی علامت ہے، جبکہ ان کی طویل حکمرانی، عوامی خدمت اور قومی اتحاد کے لیے کردار کو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔

Recent Comments