نارویجن بینک کا صارفین کے ساتھ امتیازی سلوک

نارویجن بینک ڈی این بی کے خلاف ایک تارکین وطن شخص ابراہیمی نے شکائیت کی ہے کہ یہ بینک اسے اسکی تنخواہ اس لیے نہیں ادا کر رہا کیونکہ اس کے پاس نارویجن پاسپورٹ نہیں ہے۔
اس نے بتایا کہ وہ ایک اسور یں مستقل ملازمت کرتا ہے لیکن اس کے باوجود بینک نے اسے کارڈ جاری نہیں کیا جس کی وجہ سے اسے اپنی تنخواہ اپنے ایک دوست کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے منگوانی پڑی۔
ابراہیمی کی اس شکائت پر مقامی حکام نے فوری ایکشن لیتے ہوئے بینک کے نام ایک حکم نامہ جاری کیا۔متاثرہہ شخص نے پچھلے برس ایک بیان میں مقامی روزنامہ آفتن پوستن کو بتایا کہ اسے نارویجن پاسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے بینک کی دیگر سہولیات سے محروم ہونا پرا۔جبکہ اس بینک نے مزید تارکین وطن کو بھی خدمات دینے سے انکار کر دیا تھا۔
امتیازی محتسب نے اس بات کے خلاف درخواست دی تھی جس کا نتیجہ اب آیا ہے۔تربیونل کے فیصلے کے مطابق وہ افراد جو اپنے رہائشی کارڈ کو شناختی کارڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں انہیں بھی بینک کی خدمات تک رسائی ملنی چاہیے۔
یہ فیصلہ کل منگل کے روز آیا تھا جس کا خیر مقدم کرتے ہوئے ابراہیمی نے اطمینان کا اظہار کیا۔جبکہ امتیازی سلوک کے بورڈ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بورڈ نے اس بات پر کوئی رائے نہیں دی کہ آیا بینک ک ی سروسز سے انکار کرنا امتیازی سلوک ہے یا نہیں بلکہ انہوں نے صرف خودکار انکار کے عمل کو دیکھا ہے۔جبکہ اب بینک نے اپنی پریکٹس تبدیل کر دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں