مومِن کسے کہتے ہیں

مومِن کسے کہتے ہیں

 

 

عارف محمود کسانہ  سویڈن

امی جان نانا ابو کہاں ہیں مجھے اُن سے ضروری کام ہے۔ شمائل نے اپنی امی سے پوچھا۔ بیٹا وہ اپنے کمرے میں ہوں گے۔ کیوں تمھیں کیا کام ہے۔  امی نے شمائل سے پوچھا۔ یہ تو میں انہیں ہی بتائوں گا  اور یہ کہہ کر شمائل نانا ابو کے کمرے کی طرف چلا گیا۔ انوشہ اور یاور بھی اُس کے پیچھے پیچھے نانا جان کے کمرے کی طرف گئے۔ شمائل نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے نانا ابو کو سلام کیا ۔ انہوں نے بڑے پیار سے جواب دیا ۔ اتنی دیر میں انوشہ اور یاور بھی آگئے اور ا نہوں نے بھی نانا ابو کو سلام کیا ۔ نانا جان نے انہیں بھی پیار کیا اور بیٹھنے کو کہا۔ شمائل کہنے لگا نانا جان میرے سکول میں تقریری مقابلہ ہورہا ہے جس کا عنوان ہے مومن کی زندگی۔ مجھے آپ سے اس سلسلہ میں مدد لینی ہے۔ آپ مجھے تفصیل سے بتائیں کہ مومن کسے کہتے ہیں  اور مومن کی زندگی کس طرح کی ہوتی ہے تاکہ میں اچھی سی تقریر تیار کرسکوں۔
اچھا تو یہ بات ہے  نانا جان نے کہا۔ بیٹا مومن عربی زبان کا لفظ ہے اور یہ لفظ امن سے نکلا ہے جس کا مطلب اطمینان ، خوف نہ ہونا، تصدیق کرنا  اور بھروسہ کرنا ہوتا ہے  لہذا مومِن کا مطلب ہوتا ہے وہ جو دِل کی سچائی کے ساتھ ایمان کو قبول کرلے ، دینِ اسلام کے مطابق چلے اور جس پر بھروسہ کیا جاسکے اور دوسروںکے لیے امن اور سلامتی کا باعث ہو۔ مومن، ایمان، مسلم اور تقوٰی جیسے الفاظ آپ نے سُنے ہوں گے اِ ن کا مفہوم ایک جیسا ہی ہے۔ اِسی طرح مسلمان اور مومن ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ جب کوئی اسلام کو دین کی حیثیت سے قبول کرتا ہے تو وہ مسلمان کہلاتا ہے اور جب وہ اپنی زندگی اُس کے مطابق گذارتا ہے تو وہ مومن کہلاتا ہے۔ یعنی جو خدا کو ایک مانتا ہے وہ مسلمان ہوتا ہے اور جو خدا کی ہر بات مانتا ہے وہ مومن ہوتا ہے۔
نانا جان قرآنِ مجید میں مومن کے بارے میں کیا کہا گیا ہے۔ انوشہ نے پوچھا
بیٹا قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر اللہ تعالٰی نے مومن کی خوبیوں کے بارے میں بتایا ہے۔ سب سے پہلے یہ کہا ہے کہ مومن وہ ہوتے ہیں جو غائب پر ایمان لاتے ہیں یعنی جو چیزیں اُن کے سامنے نہیں ہوتیں یا جنہیں وہ نہیں دیکھ سکتے مگر اُن کا ذکر قرآن میں موجود ہے اُن پر ایمان لاتے ہیں جیسے مرنے کے بعد کی زندگی۔ اِسی طرح مومن عقل اور فکر سے کام لیتے ہیں، اِس کائنات پر غوروفکر کرتے ہیں ، علم حاصل کرتے ہیں۔ انصاف سے کام لیتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے اور سچی بات کرتے ہیں۔ ماپ تول پورا کرتے ہیں، ضرورت مندوں کو اپنی چیزیں دے دیتے ہیں، فضول باتیں نہیں کرتے، نہ تو تکبر کرتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کی بُرائی کرتے ہیں۔ نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ کنجوسی کرتے ہیں۔ اسی طرح مومن دوسروں کے بُرے نام نہیں رکھتے، نہ کسی پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں اور نہ ہی کسی کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہتے ہیں۔ جاہل لوگوں سے بحث نہیں کرتے، اگر کوئی امانت دے تو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ نرم دل ہوتے ہیں لیکن اللہ کے دشمنوں کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔
نانا جان کیا مومن غلط کام بالکل نہیں کرتے۔ کیا اُن سے کوئی گناہ کا کام نہیںہوسکتا ۔ اب یاور نے سوال کیا۔
مومن سے غلطی ہوسکتی ہے مگر وہ فوراََ توبہ کرتے ہیں اور غلط کام کو چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں۔  وہ زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے اور نہ ہی چِلا کر بولتے ہیں۔ وہ لوگوں سے تُرش روی سے پیش نہیں آتے، حسد نہیں کرتے، اپنی تعریفیں نہیں کرتے رہتے، اچھے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ہمیشہ صاف سیدھی اور دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ افواہیں نہیں پھیلاتے ا ور کوئی غلط بات اُن تک پہنچے تو اُسے آگے نہیں پھیلاتے۔ وعدہ پورا کرتے ہیں اور سچی گواہی دیتے ہیں چاہے اُن کے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ والدین، رشتہ داروں اور یتیموں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔ کسی کے ساتھ احسان کرکے اُسے جتلاتے نہیں بلکہ اُسے احساس بھی نہیں دلاتے۔ خود تنگی میں رہ کر دوسروں کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ اگر کسی نے اُن سے قرضہ لیا ہو تو واپسی کے لیے تنگ نہیں کرتے اور اگر ممکن ہو تو معاف بھی کر دیتے ہیں۔ پہلے اپنی اصلاح کرتے ہیں پھر دوسروں کو تلقین کرتے ہیں۔ اپنے غصہ پر قابو پاتے ہیں، اپنی نگاہ اور ذہن صاف رکھتے ہیں۔ نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰة ادا کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ وہ اپنی زندگی بغیر کسی خوف کے قرآن کے مطابق بسر کرتے ہیں۔ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
ہمارے رسول حضرت محمدۖ نے بھی مومن کے بارے میں کچھ بتایا ہے۔ شمائل نے پوچھا
حضور پاک ۖ نے بھی مومن کی خوبیاں بیان کی ہیں۔ آپۖ نے فرمایا ہے کہ وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ نہ ہوں۔ آپۖ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مومن وہ ہے جو چیز اپنے لیے پسند کرے وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔ اِسی طرح آپۖ نے فرمایا ہے کہ تم اُس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک میں یعنی حضور ۖ سے سب سے زیادہ پیار نہ کریں۔ جب ہم اُن سے پیار کریں گے توقرآن کے مطابق زندگی گذاریں گے کیونکہ آپۖ کی پوری زندگی قرآن کے مطابق ہی تھی۔ بچوں آپ کو میں نے مومن کی خوبیاں اور اُس کی زندگی کے بارے میں بتا دیا ہے امید ہے کہ آپ کو سب سمجھآگئی ہوگی اور شمائل اب تم اس بارے میں اچھی سی تقریربھی تیار کرسکتے ہو۔
جی نانا جان جب آپ بتا رہے تھے میںساتھ ساتھ لکھتا جارہا تھا اور اب میں بہت اچھی تقریرتیار کروں گا اور مجھے امید ہے کہ پہلا انعام بھی میرا ہی ہوگا۔

2 تبصرے “مومِن کسے کہتے ہیں

  1. We are a gaggle of volunteers and opening a brand new scheme in our community. Your site provided us with helpful info to work on. You’ve done a formidable task and our entire group shall be thankful to you.

اپنا تبصرہ بھیجیں