مرزا غالب دوحہ میں

تحریر: ڈاکٹر فیصل حنیف

ہائے ہائے
ڈاکٹر فیصل حنیف

نوٹ: یہ مضمون ١٨ جنوری ٢٠١٧ کو لکھا گیا-
قصہ: مرزا غالب دوحہ تشریف لائے اور ہم ان کو ایک مشاعرے میں لے گئے- مضمون افسانہ ہے پہ قصہ سچ ہے، جس کو یقین نہ ہو مرزا صاحب سے اس باب میں خود استفسار کر لے- جو مقدور نہ ہو وہ یہیں دوحہ میں کسی سے پوچھ لے- جس کو مضمون کا مدعا عنقا معلوم ہو اس کو قصہ جاننا لازم ہے- جس کو قصہ فہم سے پرے معلوم ہو اس کو مضمون زیادہ بار پڑھنا لازم ہے- اگر پھر بھی سمجھ میں نہ آوے تو اس کو چاہیے کہ غالب کے محلہ دار جناب سلیمان دہلوی سے پوچھے ، اگرچہ وہ سمجھاویں گے نہیں-
———-
“رضوان بہشت ، مرزا نوشہ کہیں دکھائی نہیں پڑتے- ڈرتا ہوں کوئی اور معاملہ نہ ہو گیا ہو -”
“استاد شاہ ابراہیم ذوق صاحب، آپ کی مرزا صاحب کے باب میں بداندیشی ہنوز باقی ہے- آپ کے پوچھنے سے جانا کہ ان کو اہل گزرگاہ خیال نے دوحہ بلا بھیجا ہے-”
“تو یوں ہے- میں بے وجہ حیران تھا- ارے لو مرزا صاحب چلے آتے ہیں-”
“مرزا نوشہ ، سنتا ہوں کہ دوحہ کا قصد ہے؟”

دوحہ کا جو ذکر کیا تُو نے ہمنشیں
اِ ک تِیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

“خاقانی ہند، آپ یہاں لطف فرمایئے، میں برخوردار فیصل حنیف کی دعوت پر دوحہ چلا- سنا ہے جاڑے میں دوحہ کا موسم عجب ہوس خیز ہوتا ہے، رشک بریں جانیے-”
“مرزا اس باب میں مجھ کو کوئی شک نہیں- یادش بخیر تم نے ‘دوحہ’ نہیں ‘کلکتہ’ کہا تھا-”
“ارے صاحب، اب ہماری دلی، ہمارا کلکتہ دوحہ ہی ہے- وہم کا ہجوم اکھٹا نہ کرو، پرانے قصے جانے دو- تکرار کا موقع نہیں، میں چلا-”
” سچ ہے قدر مردم بعد مردن – زمانے کا ورق یوں الٹا کہ مرزا تم خاطر نشیں ٹھہرے ، تمہارا کلام ارباب نشاط کا من بس ترانہ ہوا- خاطر داری کا خوب لطف اٹھائیو- اہل دوحہ کو میرا ملال نہیں سلام کہنا -”
~~~~~
“میاں لڑکے فیصل حنیف، میں نے جانا تم اور تمھارے احباب مجھے دل سے چاہتے ہیں سو میں حسرت نظارہ بزم گزرگاہ خیال، ابرو میں لیے تمھارے شہر دوحہ آ پہنچا ہوں – کیوں صاحب کیا کہتے ہو؟”
“مرزا صاحب، اردو زبان کو، شعر و نثر کو آپ کے کمال سے فخر ہے- خوشا نصیب اس ساعت سعید کے، آپ دوحہ تشریف لائے- سال رواں ٢٠١٦ کا آخر ہے، اس واسطے ہوا میں کچھ خنکی ہے- آج کل یہاں مشاعروں کا زور ہے-”
“یہاں کی چکا چوند دیکھ آدمی کے مرقع بن جانے میں کے دیر- میں رنگ و بو کا عاشق زار، مشاعروں کا طمع کار، اور کیا آرزو کرتا!”
“تو مرزا صاحب دیر کیوں ایک عظیم الشان مشاعرہ آج ہی منعقد ہو رہا ہے – منتظمین سخنور، سخن سنج اور سخن فہم ہیں- ہر فن کے کامل ،آسمان سخن کے نجوم حسب دلخواہ زمین پر لا اتاریں گے- میں رابطہ کر کے آپ کے لیے دعوت نامہ حاصل کرتا ہوں-”
“جان غالب، تم تو کہتے تھے دنیا فقیر کو ریختہ کا سب سے بڑا شاعر جانتی ہے، پھر دعوت نامہ کی قید کیوں؟”
“نواب اسدللہ خان غالب صاحب، زمانہ کا ورق اُلٹ گیا ہے ، آج ہر خاص و عام کو مشاعرہ گاہ میں داخلہ کے لیے دعوت نامہ درکار ہے- اس کو دعوت سمر قند جانیے- اکثر ‘دعوت زدہ’ کا مقام بہ عقوبت دعوت نامہ طے ہوتا ہے-”
“میری جان، خدا تیرا نگہبان، ، یہ نوید جاں افزا ہے، میں کھڑا بہشت میں گیا- حفظ مراتب اہل علم و شرفا کا زمانہ قدیم سے شیوہ خاص ہے-”
“مرزا صاحب، آپ کا قول سچ ہے-آیئے موٹر کار میں تشریف رکھیے اور مشاعرہ گاہ چلیے ، دوحہ سے کسقدر فاصلے پر ہے-”
“سوچتا ہوں انگریزی لباس زیب تن کر لوں؟ میری قدیم وضع اور لباس قدمائے دلی فرغل اور دو شالہ ، لوگ دیکھیں گے، مسکرائیں گے- لڑکوں کے ستانے کا ڈر ہے- تم کیا کہتے ہو؟”
“مرزا صاحب، آپ کی یہ وضع خوب ہے- میں آپ کے انگریزی لباس کے پہننے کے حق میں نہیں-”
“واہ صاحب، اپنی رائے دیدی، پر وجہ نہیں بتلائی، آخر انگریزی لباس پہننے میں حرج کیا ہے؟ جاڑا بھی ہے- ”
“جناب مرزا صاحب، آپ نے انگریزی لباس زیب تن کیا تو مجھے خدشہ ہے کچھ اہل نظر آپ کو نصیر الدین شاہ سمجھ بیٹھیں گے- ارباب زمانہ کے دیدہ و دل باخبر نہیں- ادبی تنظیموں کے اکثر سربراہان تک آپ کی رحلت کی خبر ہنوز نہیں پہنچی- جان لیجیے مشاعرہ ان دنوں اطفال افتادہ کا کھیل ہے، یوں جیسے گھر کا گھروا ہو جاتا ہے اس طرح مشاعرے کا مشاعروا ہو گیا ہے- آپ دل شکستہ ہوں گے اور میں آپ کے دکھ کا مداوا نہ کر پاؤں گا- آپ ہی نے تو فرمایا تھا کہ”

مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
~~~~~

“اس کلام سے میرا دماغ پریشان ہوتا ہے- بندہ پرور مجھے کج بحثی سے معذور جانو- مشاعرے میں لے چلو- برخوردار، یہ کیا جگہ ہے؟ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے لال قلعہ کی عمارت ہو- آؤ اپنی نشست تلاش کریں-”
“قبلہ، آپ کے دعوت نامہ میں رقم ہے کہ آپ کی نشست ‘ڈی قطار’ میں ہے- ”
“‘ڈی قطار’ ؟”
“مرزا صاحب، انگریزی کے حروف تہجی کا چوتھا حرف ‘ڈی’ ہے، یعنی آپ کی نشست چوتھی قطار میں ہے- ہم چومن دیگرے نیست، میں اور آپ کے محلہ دار سلیمان دہلوی یہاں آپ کے پہلو بہ پہلو بیٹھیں گے- ارے وہ دیکھیے منتظمین چلے آ رہے ہیں-جناب مرزا صاحب، آپ کے تغافل شعار کو آپ کے حال کی خبر ہو گئی- ملک سخن کے شاہ آپ ہیں – آپ کے مقام کو نہ پہچاننے پر منتظمین بہت شرمندہ ہیں، معافی کے خواستگار ہیں- آپ کے لیے خوشخبری ہے کہ انہوں نے آپ کی علمی اور ادبی حیثیت کو مانتے ہوئے، ترقی دے کر، آپ کو ‘سی’ یعنی تیسری قطار میں نشست دینے کا فیصلہ کیا ہے- یہ ان مشاعرہ گروں میں سے نہیں شوق انتظام جن کے فانوس دماغ میں چراغ ہوش کو گل کر دیتا ہے، انصاف پروری ان کا طریق ہے-”
“واہ میاں شوخ مراتب، تم اس کو ترقی کہتے ہو؟ تکلف برطرف، میں نابغہ روزگار ہوں، خوباں روزگار میں سے ہوں، یہ کیسی قدر افزائی ہے ، یہ کیسی قدر دانی ہے ؟”
“مرزا صاحب، میں آپ کے کلام کی تصدیق کرتا ہوں، آپ کی غمخواری کا دم بھرتا ہوں- پہ آپ جان لیجیے کہ منتظمین مجھ سے اور آپ سے بہتر جانتے ہیں کہ محفل کا انتظام کیونکر احسن ہو گا – کس کی نشست کس جا ہو گی، ان کو خوب معلوم ہے- آپ دیکھتے نہیں خلقت اتنی ہے کہ کھوئے سے کھوا چھلتا ہے- آپ یا دو چار اور اس مشاعرے میں تشریف نہ بھی لاتے تو کوئی فرق نہیں پڑتا- یہ محفل ایک کاروان کی صورت ہے، جس کی تعمیر کی ترکیب یوں ہے کہ

میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ہاتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

“برخوردار، تمہاری بات بھلی معلوم ہوتی ہے، پہ شعر میں نقص ہے- کاروان لوگوں کے ‘ہاتھ’ آنے سے نہیں ‘ساتھ’ آنے سے بنتا ہے- جو ‘ہاتھ’ آنے سے بنے اس کی تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی، جان لو- اچھا جانے دو، حفظ مراتب خیال میں نقش ہے تو یقیناً علم میں درجہ فضیلت، ادب میں لیاقت، خاندانی شرافت و نجابت پیمانہ ہوگا- ہم سے آگے یعنی پہلی، دوسری اور تیسری قطاروں میں فرقہ شعراء میں سعدی و فردوسی اور ان کے ہم پلہ ہونگے، علما میں ارسطو و سقراط، رازی و غزالی، فارابی و ابن سینا ، اور شاہان دلی و اودھ بھی وہیں تشریف رکھتے ہوں گے- پھر خواصی میں بیٹھنے میں میرا کیا ضرر ، تم سچ کہتے ہو، بات اتنی ہی تھی،خدا منتظمین کو جیتا رکھے، یہی حکمت آمیزی ہے- یہی حسن تدبیر ہے ”
“مرزا صاحب، آپ نے خوب پہچانا- مشاعرہ شروع ہو چکا ہے، کان اس طرف لگا لیجیے-”
“تم فرزند سعادت مند ہو، یہ تو بتاؤ کہ شاعر کہاں ہیں؟ کوئی دکھائی نہیں پڑتا-”
“استاد محترم، یہ جو آپ کی سماعتوں میں رس گھول رہے ہیں، یہی تو اس مشاعرے کے شاعر ہیں-”
“میں تمہارا گنہگار، فقیر کج فہم، مجھے تمہارا کلام سمجھ میں نہیں آیا- سوال مکرر سنو، غور سے سنو، کیا اس مشاعرے میں شاعر شامل نہیں ہوئے؟”
“حضور، آپ کی بے جا ضد کے آگے میں بے بس ہو گیا ہوں-جان لیجیے اس مشاعرے کے لیے شعراء کا انتخاب بہت محنت سے کیا گیا ہے-”
“اوں ہوں- معلوم ہوتا ہے مشاعرے دکانداروں کے ہاتھ میں آگئے- جو شاعر ہیں وہ اس مشاعرے میں آئے نہیں، جو آئے ہیں وہ اس فقیر کی طرح سامعین کی صفوں میں بیٹھے ہیں- سنتا تھا کہ شاعروں کا اب ایک فن پر دل نہیں جمتا، اس لیے شاعری ترک کر کے فقط مشاعرے کرتے ہیں- رنگِ چمن کی تبدیلی کا سنا تھا- کیا شاعری کا ستارہ نحوست زوال میں آ گیا ہے؟”
“نہیں مرزا صاحب، اب بھی کچھ لوگ باقی ہیں- جلیل و شاد اور راغب و وزیر جب شعر پڑھتے ہیں تو مشاعرہ وجد کرتا ہے ”
~~~~~

اچھا یہ بتاؤ، مشاعرہ کب شروع ہوگا؟”
“مرزا صاحب، آپ دل لگی کرتے ہیں- مشاعرہ تو بس ختم ہوا چاہتا ہے-”
“مرزا صاحب، آپ ملول نہ ہوں، اگلے سال آپ کو مشاعرہ پڑھائیں گے- اس بار انتخاب بہت کڑا تھا- آپ کو آزردہ کرنا منظور نہیں- ارے لیجیے فجر کی اذان سنیے – پوری رات یہاں بسر ہو گئی- آئیے موٹر کار میں تشریف رکھیے تاکہ ہم چلیں-”
“برخوردار، جاتے ہوئے منتظمین کو مبارکباد دیتے چلیں، کیا خوب انتظام باندھا ہے، جی خوش ہو گیا– ایک جم غفیر یہاں اکٹھا ہوا، ہر شخص ہشاش بشاش جاتا دکھائی دیتا ہے-ہر کام بخیر و خوبی انجام پایا- یہ حسن انتظام کی دلیل ہے- جھوٹ کہوں تو میں گنہگار-”
“میاں لڑکے، بتاؤ مشاعرہ کب ہو گا ؟”
“مرزا صاحب، آپ حیران کرتے ہیں، مکرر کہہ چکا ہوں کہ ہم ابھی پوری رات مشاعرہ سن کر آ رہے ہیں- آپ پوچھتے ہیں مشاعرہ کب ہو گا، گویا ہم میلہ مویشیاں دیکھ کر آرہے ہیں- میں تو عاجز آ چکا-”
“میری جان فیصل ہمہ دان، مشاعرہ کب ہو گا ؟”
“ہائے ہائے”

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں