مذہب سکھاتا نہیں آپس میں بیر رکھنا

مذہب سکھاتا نہیں آپس میں بیر رکھنا

حصہ اول


ڈاکٹر عارف کسانہ
اسٹاک ہوم سویڈن

پاکستان میں جس بے دردی سے انسانی خون بہایا جا رہا ہے۔اس سے ہر دردمند انسان کو دکھ اور کرب محسوس ہو رہا ہے۔المیہ یہ ہے کہ اس کشت و خون کو مذہب کے نام پر روا رکھا گیا ہے ۔چاہے یہ ایک ہی دین کے ماننے والے آپس میں کر رہے ہیں یا ان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو غیر مسلم اقلیت ہیں۔اس انسانیت سوز عمل کے پیرو کاراپنے آپ کو نبی پاک کی امت قرار دیتے ہیں۔جنہوں نے واضع طور پر کہا تھا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔مذہب کے نام پر قتل کرنے والوں کو اپنی کتاب کی یہ تعلیم کیوں نہیں نظر آتی ؟جس میں واضع طور پر یہ کہا گیا ہے کہ کسی ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔مذہب کے نام پر قتل کرنے والوں کو اپنی مقدس کتاب کی یہ تعلیم نظر کیوں نہیںآ تی جس میں واضع طور پر یہ کہا گیا ہے کہ سب انسان ہونے کے ناطے عزت اور احترام کے قابل ہیں۔قرآن حکیم نے پانچ مختلف مقامات پر مکمل مذہبی ضمانت دی ہے۔اور یہاں تک کہا گیا ہے کہ غیر مسلموںکے معبدوں کو بھی گالی نہ دو۔دین اسلام تو دوسرے مذاہب کو اس قدر آزادی دیتا ہے کہ باوجود اس کے کہ شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے ان عبادت گاہوں میں جہاں کھلم کھلا شرک کیا جاتا ہے۔ان کو بھی جبراًمسمار کرنے سے نہ صرف روکتا ہے بلکہ امت مسلمہ کو حکم دیتا ہے کہ وہ دوسروں کی عبادت گاہوں ،خانقاہوں،گرجوںاور کلیسائوں کی حفاظت کریں۔رب ّ العالمین نے اپنی آخری کتاب میں اپنے آخری نبی ۖکو یہ بھی فرمایا کہ آپکا کام صرف دعوت دینا ہے۔آپ لوگوں پر داروغہ نہیں کہ لوگوں کو جبراً اسلام قبول کرنے پر آمادہ کریں۔جہاں تک مذہبی آزادی کا تعلق ہے ہم اکثر اس کا اظہار کرتے ہیں۔مگر عملاً یہ   one way   ٹریفک ہے جو قرآنی تعلیمات کے منافی ہے۔ہم دنیا بھر میں تبلیغ اسلام کو اپنا حق سمجھتے ہیں مگر دیگر مذاہب والے اگراسلامی ممالک میں اپنے مذہب کی تبلیغ کرنا چاہیں تو اسکی بھر پور مخالفت کرتے ہیں۔اگر کوئی غیر مسلم اسلام قبول کر لے تو ہم مبارکباد دیتے ہیں لیکن اگر کوئی اسلام سے مطمئن نہ ہو تو اسے زبردستی مسلمان رکھنا چاہتے ہیںحالانکہ قرآن حکیم میں تین مقامات پر یہ کہا گیا ہے کہ جو لوگ دین اور مذہب کے معاملے میں زبردستی کریںان کے ساتھ جنگ کرو۔جبکہ دین اسلام کو چھوڑنے والے کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔یہ نہیں کہا کہ کوئی مذہب تبدیل کرے تو اسے قتل کر دو۔اس غلط تصور کی نفی قرآن حکیم ایک اور مقام پر بھی کرتا ہے کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور پھر کفر کیااور پھر ایمان لائے تو اس سے واضع ہے کہ ہر کسی کو مذہب تبدیل کرنے کی مکمل آزادی ہے اور یہ   one way ٹریفک نہیں ہے۔توہین دین اور اس طرح کے دیگر واقعات کو حضرت امام ابو حنیفہ کی اس حدیث کی روشنی میں حل کرنا چا ہیے یہ اگر کوئی توبہ کرے تو اسکی توبہ قبول کرتے ہوئے اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔
جاری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں