قین محکم، عمل پیہم، ہوا شیوہ فرنگی کا

 

یقین محکم،  عمل پیہم،  ہوا شیوہ فرنگی
زبیر حسن شیخ

بقول ذرائع ابلاغ  آج انسان نے اس نادیدہ ذرہ کو دریافت کر لیا ہے جسے اہل مغرب نے “god particle”  کا نام دیا. دراصل پچھلی چند دہائی سے اس ذرہ نایاب  کی تلاش نے علمائے  فزکس کو اسقدر پریشان کیا تھا کہ وہ “گاڈ ڈیم پارٹیکل ”  کہہ کر چیخ اٹھے. اور پھر میڈیا نے اس میں ردو قدح کر  اسے “گاڈ پارٹیکل” کے نام سے مشہور کر دیا.  تقریبا تین دہائی قبل برطانوی ماہر فزکس پیٹر ہیگس نے “بوسون” یا “سب ایٹم” یعنی اس ذرہ نایاب کی موجودگی اور اسکے کائنات کی تخلیق میں اہم کردار ادا کرنے کی طرف اشارہ کیا تھا، پھر  اس تحقیق پر نوبل انعام یافتہ ماہر فزکس لیون لیڈرمین نے تقریبا ایک دہائی قبل اپنے تحقیقی مقالہ میں دعوی کیا تھا کہ “بوسون” کی موجودگی کے امکانات برقی مقناطیسی میدان میں تحقیق سے ثابت کیے جا سکتے ہیں.  اور اس طرح  “ہیگس بوسن ” نظریہ کی بنیاد ڈالی گئی اور  یہ نظریہ اس ذرہ نایاب سے منسوب ہوا اور اس وقت سے مسلسل اسکی جستجو جاری رہی.

اہل علم جانتے ہیں کہ فزکس میں تحقیق کا زیادہ تر دارو مدار  ریاضی کی مشق اور فارمولوں پر ہوتا ہے اور تجربہ گاہ میں مشاہدہ کرنا،  حقائق کا جائزہ  لینا اور انہیں  ثابت کرنا اور پھر اسے دنیا کے سامنے پیش کرنا غیر ممکن رہا ہے. لیکن اہل مغرب کے یقیں محکم اور عمل پیہم کو سلام کہ کائنات میں تدبر  کرنے میں وہ  اپنی زندگیاں تج دیتے ہیں. یہی یقیں محکم و عمل پیہم کبھی اہل اسلام کا شیوہ ہوا کرتا تھا،  اور اس ضمن میں بلاد عربیہ بغداد و اندلس کی سب نشانیاں، مغربی کتب خانوں میں موجود ہیں .  افسوس کہ اب قرآن مجید  اور  کائنات میں تدبر کرنے والے نہ وہ لوگ رہے اور نہ ہی وہ دلجمعی رہی، جو رہی سو بے خبری رہی. ہائے افسوس صد افسوس کہ…..   یقین محکم،  عمل پیہم،  ہوا شیوہ فرنگی کا…….جہالت میں ہوئی غارت ہماری یہ مسلمانی….. کوئی صرف تدبر قرآن میں تو کوئی صرف تدبر  کائنات میں مگن ہے، اور اکثر تو صرف  کھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ کا غلط مفہوم اخذ کر  فضاوں کو پھٹی آنکھوں سے دیکھ کر یہ سمجھ رہے ہیں کہ فرض ادا ہوگیا. جبکہ بقول علامہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ….”کھولی ہیں ذوق دید نے آنکھیں تری اگر……ہر رہگزر  میں نقش کف پائے یار دیکھ”.

مالک حقیقی نے جہاں قرآن مجید میں تدبر  کرنے کے احکامات دئے ہیں ونہیں کائنات میں تدبر کرنے پر بھی زور دیا ہے. تدبر کائنات سے علم کا حصول ممکن ہے اور تدبر قران سے علم و حکمت کا. عقل سلیم کا استعمال کر انسان چاہے جیسے بھی خالق کی وحدانیت اور خلاقی  اور اسکے الصمد ہونے کو پرکھ  لے،  لیکن چار و ناچار  اسے قرآن مجید سے ہی استدلال کرنا ہوگا اور شہادت لینی ہوگی. سائینسدان ہو یا فلسفی، شاعر ہو یا ادیب، عالم ہو یا فنان، صوفی ہو یا سنت، حکیم ہو یا طبیب،  سب کی تحقیق و جستجو  مآل آخر ایک ایسے نکتہ پر پہنچ کر  تھم جاتی ہے جہاں سے خالق حقیقی کی وحدانیت میں پوشیدہ لا متناہی وسعت کی ابتدا ہوتی ہے اور  اس وسعت کا اندازہ لگانے میں ایسے تمام حضرات کی مجموعی زندگیاں بھی نا کافی ثابت ہوئی ہیں، الا ماشا خالق حقیقی نے ان وسعتوں کو اپنے پیمبروں اور  خاص بندوں کے لئے سمیٹ کر رکھا دیا ہے.

ماضی میں مغربی سائینسداں مارٹن رائیل اور ایلن سینڈیج کے نظریہ کے مطابق “بگ بینگ” سے قبل،  وہ ذرہ نایاب اکائی کی کسی صورت  میں موجود رہا ہوگا. یہ بات سائینس اور قران مجید دونوں سے ثابت ہے کہ عظیم دھماکہ کے بعد وسیع کائنات میں پائی جانے والی مختلف اشیا کا ظہور ہوا، پھر ایک وقت معلوم تک کے لئے انہیں وجود عطا کیا گیا. متعدد آیات ہیں جو نشاندہی کرتی ہیں کائنات کے ایک دھماکہ سے ظہور پذیر ہونے کی، زمین و آسمان کے باہم ملے ہونے کی،  عظیم الشان دھوئیں اور روشنی میں موجود توانائی کی، سیال اور مادہ  کی شکل میں نمودار ہونے کی، پھر ایک تدریجی عمل سے مختلف اشکال میں وقوع پذیر  ہونے کی.  مختلف تنا  اور کھینچا، نقطہ انجماد و انتشار  اور گرم و سرد کیفیات سے گزر کر  یہ کائنات ایک اکائی سے کچہ یوں علیحدہ ہوئی کہ منتشر ہو کر بھی اپنی مرکزیت اور اکائی سے جڑی رہی اور  مختلف قوت اور کشش ثقل پر قائم رہی. ح م سے شروع ہونے والی تمام آیات تخلیق کے مختلف قوانین پر  روشنی ڈالتی ہیں. اس بے کراں کائنات اور اس میں موجود نظام شمسی،  اور ارض و سماوات میں موجود نظام حیات کے تمام رموز و نکات قران مجید کی آیات میں پوشیدہ ہیں اور  ہر ایک سائینسی تحقیق تدریجا قرآن مجید میں موجود نشانیوں کو حق ثابت کرتی آئی ہیں..

علم الطبیعیات  میں مادہ پر تحقیق سب سے اہم ثابت ہوئی ہے جس نے تخلیق کائنات کے متعدد سائینسی رموز کو آشکار کیا. تمہید میں بیان کردہ تحقیق بھی  کائنات میں موجود لاتعداد ذروں پر مشتمل مادہ کے وجود کو لے کر شروع ہوئی تھی،  اور پھر ذرہ میں موجود قوت و توانائی، سالمہ، مرکزہ  اور جوہر، مثبت اور منفی برقی پارہ (یعنی ایٹم، نکلیس،  الیکٹرون، پروٹون) تک جا پہنچی. اس تحقیق نے ذرہ کو بھی ذرہ ذرہ کر دکھایا اور کائنات صغیرہ  کا راز افشا کردیا .  اور ان میں پوشیدہ متوازن، منفی اور  مثبت قوت و توانائی اور مقناطیسیت  بھی ڈھونڈ نکالی. علت و معلول کے تمامتر  عقدے حل کر لئے گیے اور پھر  یہ تحقیق ایسے مقام پر  جا  پہنچی کہ راہیں مسدود نظرآنے لگی اور ایک ذرہ کے سامنے انسانی عقل نے ہتھیار ڈال دئے. اس بیکراں کائنات اور فضائے بسیط میں اس ایک ذرہ کی تلاش و جستجو  جاری رہی جو    ایٹم سے بھی کمتر “سب ایٹم” ہو ،  جو  ناقابل تقسیم و تسخیر ہو اور جسکی اکائی مسلم ہو. جسکا نہ ہی توڑ ممکن ہو اور نہ ہی جوڑ. الغرض اس ناقابل حصول ذرہ کی دریافت ہوئی جسکا تذکرہ تمہید میں بیان کیا گیا ہے. اول تو یہ کہ یہ تحقیق کتنی مستحکم ہے یہ ابھی ثابت ہونا باقی ہے. اور دوم یہ کہ مغربی اہل علم و فکر کی عقایدسے لا پرواہی اسقدر رہی ہے کہ وہ ہمیشہ مشرکانہ افکار کا اظہار کر کے  اپنی نا عاقبت اندیشی اور تنگ نظری کا ثبوت دیتے رہے ہیں. کبھی “گاڈ فادر، گاڈ سن  یا گاڈ مدر” کی اصطلاح ایجاد کرلی اور  پھر بھی دل نہ بھرا تو انگریزی میں چھوٹے حرف “جی” سے اپنی چھوٹی موٹی خدائی کا کبھی دعوی بھی  کر بیٹھے..

سائینسی تحقیقی اصول و قوانین کے غیر مستحکم اور غیر مسقتل ہونے کی بات کریں تو ہایزن برگ اور ولس لیمب کی طرح کئی سائینسدان ہیں جنہوں نے ایسی سینکڑوں سائینسی اصطلاحات کا استعمال کیا ہے جو تجربات و  مشاہدات کی غیر یقینی کیفیات، سائینسی علوم کی محدودیت اور مختلف تجربوں اور اصولوں کے غیر مکمل ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں. پچھلی دو صدیوں میں سائینس کے متعدد اصول و قوانین  اور تھیوری میں رد و بدل کا عمل جاری رہا اور اب بھی جاری ہے. پھر وہ چاہے کرہ ارض کی بیضوی  شکل کو لے کر ہو یا خلا میں خالی پن سے لے کر مختلف قسم کی نادیدہ توانائیوں کے وجود کو لے کر  موجودہ تحقیق ہو،   یا ماضی میں سیاہ شگافوں یا  “بلیک ہول” کے مستحکم ہونے کی تحقیق ہو.  ماہر طبیعیات اسٹیفن ہاکنگ کی حالیہ تحقیق  ان سیاہ شگافوں کو غیر مستحکم قرار دیتی ہے جس سے برقی مقناطیسی اشعاع کا وجود میں آنا اور مادہ اور توانائی کا وجود میں آنا ممکن ہوتا ہے اور جس پر تحقیق اب بھی جاری ہے.  یونیورسٹی آف نیو کاسل کے ماہر طبیعیات پال ڈیویز  نے اپنی کتاب “خدا اور جدید طبیعیات” میں اپنی تحقیق کا اظہار یوں کیا کہ خلا کا عدم سے وجود میں آتے رہنا  خدا کی دخل اندازی کے بغیر نا ممکن ہے.  تحقیق در تحقیق جو  کچھ سامنے آرہا ہے اسکی نشاندہی قرآن مجید نے کی ہے.. الزریت کی آیت سینتالیس میں “والسما  بنینھا……..” کا اظہار کر کائنات کے پھیلنے کے مسلسل عمل کی طرف نشاندہی کی گئی ہے.  اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کائنات میں عدم سے وجود میں آنے کا عمل مسلسل جاری ہے.  ماہر فزکس پال ڈیوس نے تو اس حقیقت کا اعتراف بھی کر دیا تھا کہ ذرہ کا مسلسل عدم سے وجود میں آنا قادر مطلق کی کارفرمائی کا کھلا ثبوت ہے.   قرآن مجید کی انہیں نشانیوں کی تائید آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت سے بھی ثابت ہے. اور یہی وہ تمام نکات ہیں جو  قرآن مجید کے کلام الہی ہونے کی شہادت دیتے ہیں اور سائینسی علوم کے ماننے والوں کو  نا قابل تردید دلائل پیش کرتے ہیں کہ… چاہے دنیا کے تمام علوم سیاستفادہ کرلو اور لاکھ تحقیق و جستجو  کرلو لیکن انسان کو خالق حقیقی کی اکائی اور لا محدود اور زبردست قوت کا قائل ہو کر سر بسجود ہونا پڑیگا…

اہل مغرب اپنے تمام تر تحقیقی علوم اور  یقیں محکم و عمل پیہم جیسے اوصاف کے  با وجود دینی عقائد سے بدظن رہے ہیں. آسمانی صحائف میں بیان کردہ “ستہ ایام” یعنی چھ دنوں میں کی گئی تخلیق کائنات کے رموز و نکات پر غور و فکر کرنے کے بجائے ان نکات پر ہمیشہ نکتہ چینی کرتے رہے.  جبکہ نظریہ اضافیت کی تھیوری سے ان رموز و نقاط کو ثابت کرنا کچھ مشکل بھی نہ تھا، اور انھیں ڈارون کی ایوولیوشن تھیوری کی معاونت میں آسمانی صحائف سے انحراف کی ضررورت پیش نہیں آتی،  اور نہ ہی مغربی عدالتوں میں سالہا سال تک دین فطرت کی مخالفت میں کھوکھلے دلایل پیش کرنے کی نوبت آتی. نظریہ ارتقا کا نقص آج بھی اہل مغرب کے افکار سے دور نہ ہوسکا اور  انہیں یہ سوال پریشان کیے ہوئے ہے کہ،  جب کن فیکون سے سب کچھ ممکن تھا  تو پھر خالق حقیقی کو کائنات کی تخلیق میں چھ دن کیوں لگے؟  وہ یہ بھول گئے کہ تخلیق کائنات سے قبل اور  اسکے دوران،  وقت کا کوئی وجود نہیں تھا. بلکہ وقت تو خود اس تخلیقی عمل کا حصہ ہوگا، اور تب کن فیکون کا حکم بھی وقت کی قید سے آزاد ہوگا. فی الحقیقت چھ دن کا اظہار تو اس حکمت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خالق حقیقی کن فیکون سے سب کچھ پیدا کرسکتا ہے لیکن تخلیق کائنات میں خالق کا جو تدبر پوشیدہ ہے اسے سمجھنے کے لئے انسان کو چاہیے کہ وہ بھی اس میں تدبر کرے کہ. اس عظیم الشان اور لا متناہی کائنات کی تخلیق کے سائینسی عمل یا  “سائینٹیفک پروسیس”  میں جو وقت درکار  ہوا ہوگا وہ تو کن فیکون کے حکم کے بعد کا عمل ہے. خالق حقیقی تو ازل سیابد تک  زماں و مکاں اور “ٹائم زون” سے مبرا ہے اور یہی اسکی وحدانیت اور قیومیت کا ثبوت بھی ہے، ورنہ تو  نعو ذباللہ خدائے ذوالجلال وقت کے حصار میں قید اور  زماں و مکاں کا پابند قرار دیا جائیگا.  یہ عقدہ تو ویسے بھی نظریہ اضافیت کی تھیوری سے ثابت کیا جاسکتا ہے. اور  اگر تخلیق کائنات “سائینٹفک پروسیس” سے گزرے بغیر  وجود میں آجاتی تو  انسان کی تحقیق کے لئے کیا باقی بچتا اور پھر یہی سائینسداں تخلیق کاینات کو غیر منطقی قرار دیتے . خالق حقیقی کن فیکن سے کچھ بھی  پیدا کرسکتا ہے لیکن چو نکہ اسکے اوصاف جلیلہ اس سے سوا ہیں، اور لاریب وہ حکیم و قدیر و علیم و بصیر ، اور بھی بہت کچھ ہے بلکہ سب کچھ ہے، اور جب محقق کی تحقیق میں اسکے علم کے ساتھ ساتھ یہ حکمت و ایمان بھی جاگزیں ہو تو  پھر  دانشمندانہ سوالات بھلے ہی ذہن میں اٹھتے ہوں لیکن بے تکے سوالات ہر گز نہیں.  کچھ اسی طرح کا انحراف اہل مغرب نے اس ضمن میں بھی کیا جب ڈارون کے نظریہ ارتقا سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ بنی نوع انسان کرہ ارض پر کروڑوں سالوں سے موجود ہے جبکہ  آسمانی صحائف کے مطابق حضرت آدم اور بنی نوع انسان کا کرہ ارض پر وجود صرف چند ہزار سال پرانا ہے. یہاں بھی اہل مغرب غوطہ کھا گئے .  اول تو  آسمانی صحائف میں صراحتا حضرت آدم کے نزول کا وقت بیان نہیں کیا گیا ہے اور صرف ریاضی کی جمع تفریق سے حکم خداوندی کو سمجھا نہیں جا سکتا،  اور علم الریاضی کے اصولوں پر  آسمانی صحائف میں بیان کردہ نشانیوں کا تجزیہ کرنا احمقانہ فعل ثابت ہوا ہے، دوم یہ کہ جس جذبہ شوق و جنوں سے ڈارون اور اسکے ہمخیال حضرات کے  نظریات  پر تحقیق کی گئی ہیں اسی جذبہ شوق و جنوں سے  آسمانی صحائف پر اہل مغرب نے کبھی تحقیق نہیں کی،  ورنہ ایسے تمام سوالات کے جوابات انہیں مل جاتے کہ ستہ ایام میں کس وقت کن کن مخلوقات کو وجود بخشا گیا اور  حضرت آدم کی تخلیق اور انکا نزول کس وقت ہوا تھا، اور  کیا تخلیق آدم ستہ ایام سے قبل ہوئی،  یا اسی دوران،  یا اسکے بعد؟   بعید نہیں کے آنے والے دنوں میں ایسے تمام عقدے حل کر لیے جائیں اور  محققوں کے ان دعووں کا سچ سامنے آجائے کہ،  لاکھوں سال قدیم جو  انسانی ڈھانچے دستیاب ہوئے ہیں وہ کس مخلوق کے ہیں؟ کیا ان ڈھانچوں میں کبھی عقل سلیم کے موجود ہونے کا کوئی سراغ ہاتھ آیا ہے کہ انہیں انسانوں سے منسوب کر دیا جائے؟   کیا وہ لاکھوں سال قدیم ڈھانچے انسان نما کسی مخلوق کے ہوسکتے ہیں؟  کیا  آسمانی صحائف حضرت  آدم کے نزول سے قبل کرہ ارض پر کسی اور مخلوق کی موجودگی کی نشان دہی کرتے ہیں؟ کیا قدیم انسانوں کے ڈھانچوں پر جو تحقیق ہو ئی ہے وہ مستقل و مستحکم اصول و قوانین کے تحت ہوئی ہے یا رد و بدل کی گنجائیش باقی ہے؟  انسانی عقل کو ابھی اور کتنے علوم درکار ہیں اور کتنی تحقیقات  درکار ہیں،  جو اسے آسمانی صحائف میں خاصکر قران مجید میں کیے گئے دعوو ں کو عقل کی کسوٹی کے ساتھ ساتھ ایمان و عقائد کے پیمانے پر بھی پرکھنے کی تعلیم دے؟…… سائینسدانوں کو  اس حقیقت کو قبول کرنا ہوگا کہ اس دنیا میں واحد کتاب ایسی ہے جو انکی تحقیقات کی تائید کرتی آئی ہے اور بطور اظہار تشکر انہیں ایک بار  ایمانداری سے الکتاب کو پڑھنا ہوگا.. پھر یہ بے کراں کائینات انکے قدموں میں ہوگی…
وما توفیقی الا باللہ…..

اپنا تبصرہ بھیجیں