قائد اعظم ۔پاکستان اور سکون

قائد اعظم ۔پاکستان اور سکون

قائد اعظم ۔پاکستان اور سکونتحریر مسرت افتخار اوسلوپچیس دسمبر دو حوالوں سے مشہور تاریخ ہے قائد اعظم اور حضرت عیسیٰ کا یوم پیدائش۔قائد اعظم شہر کراچی  کے علاقے کھا  رادر میں  وزیر مینشن میں  25 دسمبر   1876 میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام زولجناح پونجا تھا۔جو ان کی والدہ یعنی قائد اعظم کی  دادی  نے عاشورہ کے روز منت مانی تھی اور بیٹا پیدا ہونے پر حضرت امام حسین کی سواری یعنی ذولجناح  پر اپنے بیٹے کا نام رکھا جو جناح رہ گیا۔قائد اعظم کی آخری خواہش تھی جس کا اظہار گیارہ ستمبر سے دو روز قبل قائد اعظم نے اپن ے ڈاکٹر پروفیسر ریاض علی سے یوں کہا۔تم جانتے ہو جب میں سوچتا ہوں کہ پاکستان بن گیا ہے تو یہ سکون میری روح میں اتر جاتا ہے۔کیونکہ یہ انتہائی مشکل کام تھا اور میں اکیلے نہیں کر سکتا تھا۔بس میرا ایمان ہے کہ یہ رسول خدا کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آگیا اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں تاکہ پھر خدا اپنا وعدہ پورا کر ے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت حاصل ہو جائے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ قائد اعظم کو حدیث کا علم تھا جس میں یہ پیشن گوئی ہے کہ پوری دنیا میں قیامت سے پہلے نظام خلافت قائم ہو گااور امت محمد کی حکومت قائم ہو گی۔روزنامہ بھارت میں مہاسبھا ئی  آرگن نے لکھا ہمیں اعتراف کر لینا چاہیے کہ محمد علی جناح جو بطور وکیل اٹھے انہوں  نے کانگرس کو شکست دے ڈالی  اور اسلامی سلطنت کے گورنر بن گئے ہیں یہ بھی مان لینا چاہیے کہ متحدہ ہندوستان کی تمام سیاسی  طاقتیں اس  ایک شخص سے شکست کھا گئیں۔مسلمانوں کے دشمن روزنامہ ملاپ نے لکھا متحدہ ہندوستان میں محمد علی جناح سے ذیادہ مضبوط ارادے کا انسان پیدا نہیں ہوا۔مسٹر جناح اپنے  آورش پہ چٹان کی طرح ڈٹ گئے اور بالآخر دنیا کو وہ ماننا پڑا جو مسٹر جناح چاہتے تھے۔روزنامہ پرتاپ لاہور نے لکھا ہمیں اب یہ مان لینا چاہیے کہ مسٹر جناح ایک کانسٹیٹیوشن بن گئے ہیں۔اگر مسٹر جناح نہ ہوتے تو پاکستان نہیں بن سکتا تھا۔ 11  اکتوبر سن    1947کو قائد اعظم نے کہا ہمیں  ایک ریاست چاہیے تھی جہاں ہم آزادی سے سانس لے سکیں جہاں اسلامی قانون ہو۔اس کی روشنی میں اسلامی کلچر ہو۔جہاں ہم انصاف کر سکیں اور مساوات کے ساتھ رہ سکیں۔ایک روز کابینہ کا اجلاس تھا۔  ADC   نے قائد اعظم سے پوچھا سر چائے پیش کروں ؟قائد اعظم نے کہا جس وزیر مشیر کو چائے پینی ہو وہ گھر سے پی کر آیا کرے یہاں صرف پانی پیش ہو گا۔ایک گورنر ہائوس کے لیے38 روپئے  50    پیسے کا سامان خریدا گیا آپ نے تفصیل پوچھی تو اس میں سے ایک چیز فاطمہ جناح کی تھی۔آپ نے کہا اس کا بل فاطمہ سے وصول کریں۔متحدہ ہندوستان میں سب سے ذیادہ فیس لینے والا بیرسٹر جس کی اس زمانے میں فیس یومیہ پندرہ سو روپئے تھی۔ وہی  جناح جب پاکستان کا گرنر جنرل بنا تو اس نے اپنی ماہانہ تنخواہ ایک روپیہ مقرر کی۔یہ ہیں قائد اعظم محمد علی جناح جنہوں نے پاکستان بنانے کے لیے اپنا سب کچھ نذر کر دیا۔حتیٰ کہ اپنی جان بھی!!! کیونکہ ذیادتی کام کی وجہ سے انکی صحت بگڑ رہی تھی۔مگر انہوں نے پاکستان بننے تک خرابیء صحت کو چھپایا اور کام کرتے رہے۔اپنی جان اپنا مال پاکستان بنانے کے لیے پاکستان پر نثار کر دیا۔قائد اعظم کی عظمت اور پاکستان کا قیام دونوں الفاظ میں بیان نہیں کیے جا سکتے۔آج پاکستان کے حالات کو جب دیکھتے اور سنتے ہیں تو قائد اعظم سے شرمسار ہوتے ہیں۔کیا پاکستان کا مقصد آج کا پاکستان ہے؟کیا ایسے پاکستان کی قائد اعظم نے خواہش کی تھی جہاں  600  خاندان اس طرح پاکستان کے خزانوںپر قابض ہوں کہ اٹھارہ کروڑ عوام کا حق مار لیں۔خلفائے راشدین کے دور کا خواب کیا آج کی حکومت پیش کر رہی ہے۔ایسی ریاست جہاں اسلامی قانون ہو اللہ اور رسول کے بنائے ہوئے راستے ہوں۔ جہاں  امیر غریب  کے برابر حقوق ہوں۔جہاں انصاف ہو تعلیم ہوخوشحالی ہو،ذرائع ہوں وسائل ہوں۔جہاں حکمران عوام کے خادم بن کر رہیں۔ آج پاکستان میں سات ارب روپئے کی روزانہ کرپشن ہو رہی ہے۔اور کرپٹ ملکوں میں پاکستان ساتویں نمبر پر آ گیا ہے۔یہ ترقی ہے ہماری بحیثیت پاکستانی ہونے کے ۔وسائل اور ذرائع پر حکمرانوں کا قبضہ ہے مسائل پر عوام کا حق ہے۔حکمران آتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے بیٹے بیٹیاں اور خاندان کو حکومت کا وارث بنانے کی کوشش کرتے ہیںَانصاف پاکستان کی عام زندگی میں ناپید ہو گیا ہے اور بچا کھچا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس افتخار کی عدالت میں مل جاتا ہے۔مساوات ناپید ہیں بجلی کے بحران نے ملکی صنعت کو ختم کر دیا ہے جس کی وجہ سے کاروبار اور خوشحالی ناپید ہو گئی ہے۔قتل و غارتگری کا بازار گرم ہے دہشت گردوں کی حکمرانی ہے۔بجلی کا یہ عالم ہے کہ خودکشی کے لیے بھی کرنٹ میسر نہیں۔ٹارگٹ کلنگ کا دور دورہ ہے۔پاکستان کے اٹھارہ کروڑ باشندے چھ سو خاندانوں کے لیے بازی لگائے ہوئے ہیں۔حکمرانوں کی دولت کے لیے پاکستان چھوٹا ہو گیا ہے اس لیے وہ باہر شفٹ کر دی گئی ہے۔پاکستان کے وزیر گاڑی میںآتے ہیں اور اپنے جہازوں میں واپس جاتے ہیں۔َپاکستان کا صدر پانچ سالوں میں دنیا کے دس امیر ترین افراد میں شامل ہو جاتا ہے۔قائد اعظم آپ نے تو پاکستان بنانے کے لیے سب کچھ قربان کر دیا۔آج حکمران اپناآپ بنانے کے لیے پاکستان قربان کر رہے ہیں۔آپ نے ایک روپیہ تنخواہ لی آج حکمران ایک روپیہ عوام کے لیے چھوڑ کر باقی سب خود لے رہے ہیں۔قائد اعظم آپ کو کیا بتائیں آپ کو کیا کہیں بس اللہ تعالیٰ سے ایک اور قائد اعظم کی دعا کریںآپ نے پاکستان بنا دیا تھا وہ قائد اعظم بچا دے۔بس ایک قائد اعظم اور چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں