یہ واقعہ ایک گاؤں کا ہے۔ سخت سرگرمی کا موسم تھا ۔اور ایک چھوٹے سے گھر میں صفیہ بانو جو شادی پر جانے کے لیے اپنی بھتیجی سارا سے میں بھی لگوا رہی تھی۔ کہ اچانک پانی کا بھرا ہوا گلاس اس خاتون کے ہاتھوں پر گرا ،جو مہندی لگوا رہی تھی ۔اس اچانک ہونے والے پانی کے حملے سے سب ہڑبڑا گئیں۔ غصے سے صفیہ بانو کا برا حال تھا۔
اور سب عورتوں نے سمجھا کہ ان کے پڑوسی جو کہ موچی تھے۔ پانی انہوں نے پھینکا ہے۔ سارہ کی بہن کہ بتانے پر پتہ چلا کہ کچھ دن پہلے چھوٹے چھوٹے پتھر بھی کوئی
ان کے برآمدے میں پھینکتا ہے۔ ان خواتین نے ہمسائے جو کہ موچی تھے ان سے پو چھا تو وہ بھی غصے میں آگئے اور انکار کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ان کے کسی بچے نے پانی نہیں پھینکا شک ان پر اس وجہ سے تھا کیونکہ ان کے گھر کی دیواریں( سانجھی ) یعنی ایک دیوار تھی. ان سے لڑنے لگ پڑے .حالانکہ ان کے اور بھی ہمسائے تھے…
دونوں گھروں کے درمیان اچھی خاصی مار پیٹ ہو گئی۔۔
اگلے دن صفیہ خاتون کے سب سے چھوٹے پوتے نے بتایا
۔ کہ اس نے ایک چھوٹے بچے کو آج چھت کے اوپر دیکھا ہے۔ جو دیوار پر چڑھا ہوا تھا ۔اور وہ بچہ پتنگ اڑا رہا تھا ۔صفیہ خاتون کے پوتے کو اس بچے نے بتایا کہ پانی اس نے پھینکا تھا۔ اور وہ اسی وقت گھر چلا گیا تھا۔ اصل میں گاؤں میں گھروں کی چھتیں جڑی ہوئی ہوتی ہیں اور بچے پتنگ اڑانے کے لیے ایک دوسرے کے چھتوں پر چلے جاتے ہیں۔بعد میں اس بچے سے پوچھا گیا تو وہ مان گیا اس دن پتہ چلا اور سچ کھل کر سامنے آگیا کہ پانی اس بچے نے پھینکا تھا اور وہ بچہ یہ بھی مان گیا کہ چھوٹے چھوٹے پتھر بھی وہی پھینکتا تھا پتنگ کی ڈور کاٹنے کے لیے اب سب سب کے سامنے تھا اور لڑائی ایک غلط فہمی کی وجہ سے دو گھروں کے درمیان ہو گئی ۔ یہ سب سن کر صفیہ اور ان کے گھر والے بہت شرمندہ ہوئے ۔اور اپنے ہمسایہ ۔ یہ سب سن کر صفیہ اور ان کے گھر والے بہت شرمندہ ہوئے ۔اور اپنے ہمسایہ سے معافی مانگی۔
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے۔ کہ غلط فہمی کسی آدمی کو کتنی بڑی کوتاہیوں میں مبتلا کر سکتی ہے۔ حتی کہ یہ بھی ممکن ہے۔ کہ انسان غلط فہمی میں آکر دوسرے آدمی کو جان سے مار ڈالے ۔
حالانکہ دوسرا شخص بالکل بے قسور ہے وہ ایک آدمی کو مارنےپر تل جائے۔
اس لیے شریعت میں بھی یہ حکم ہے۔ کہ رائے قائم کرنے یا کسی کے خلاف اقدام کرنے سے پہلے اس معاملے کی پوری تحقیق کرو ۔ایسا ہرگز مت کرو کہ کسی کے خلاف سنو اور فورا اس کو مان لو۔، اور اس کے خلاف ایک برا اقدام کر بیٹھو ،عین ممکن ہے ۔کہ تحقیق کے بعد تم کو معلوم ہو کہ جو خبر تم کو پہنچی تھی ۔وہ خبر سراسر غلط اور بے بنیاد تھی ۔
“اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس ایک خبر لائے تو تم اس خبر کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ،کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو ،پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔”
( الحجرات 6)
غلط خبر سن کر اس کے انجام سے بچنے کی تدبیر نہایت آسان ہے
وہ یہ کہ کسی بات کو سننے کے بعد اس وقت تک اس سے نہ مانا جائے جب تک براہ راست ذرائع سے اس کی تحقیق نہ کر لی جائے۔۔۔۔۔۔

جب تک کسی بات کی تصدیق نہ کریں کسی سے بھی لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے
ہمیں سنی سنائی باتوں کی وجہ سے رشتوں میں غلط فہمیاں پیدا نہیں کر نی چاہییں کیونکہ ایسی غلط فہمیاں رشتوں کو نگل جاتی ہیں
بدگمانیاں اکثر زندگیوں کو تباہ کر دیتی ہیں اس لیے جتنا ہو سکے غلط فہمیوں سے بچنا چاہیے۔