عید میلادالنبی کی گھڑی

عید میلادالنبی کی گھڑی

ناروے کی ڈائری تحریر مسرت افتخار

عید میلالنبی کی گھڑی اور تاریخ پر تو سب متفق ہیں کیونکہ یہ میرے آقا آنحضرت محمد ۖ کا یوم پیدائش ہے۔مگر اس یوم پیدائش کو منانے کے مختلف مکاتب فکر کے مختلف نظریات ہیں۔آپ سب کو پڑہیں اور ان کا تقابل کریں۔پھر سب سے قطع نظر اپنے دل سے پوچھیں۔کہ آپ عید میلادالنبی کو کیسے لیتے ہیں۔آپ نبی پاک کے پیدائش کے واقعات کو دیکھیں۔بچوں سے لے کر سیاسی رہنمائوں کے یوم پیدائش کیسے منائے جاتے ہیں۔بچوں کا یوم پیدائش ہو تو پھر والدین حسب توفیق اس کو مناتے ہیں۔کیک کاٹا جاتا ہے موم بتیاں جلائی جاتی ہیں۔غبارے اور جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں۔ ہر وہ شخص جو سالگرہ پر مدعو ہوتا ہے اس روز بہترین لباس زیب تن کرتا ہے۔اور اک جشن کا سا ماحول بن جاتا ہے۔تاکہ اس پیدائش کی خوشی کو سب کے ساتھ مل کر منا سکے۔اگر کسی مذہبی،سماجی یا سیاسی لیڈر یا رہنماء کا یوم پیدائش ہے تو حسب توفیق ان رہنمائوں کے کارکن اور پیروکار اسے مناتے ہیں۔مثلاً بے نظیر کے بعد ان کا یوم پیدائش  ذولفکار علی بھٹو کا یوم پیدائش جو ابھی پانچ جنوری کو گزرا ہے۔ان کی وفات کے بعد بھی انکا یوم پیدائش منایا جاتا ہے کیک کاٹا جاتا ہے۔ جشن ہوتا ہے اور کہیں قرآن خوانی ہوتی ہے۔ان کی قبروں پہ فاتحہ پڑھنے والوں کا تانتا بندھا ہوتا ہے۔قبروں پہ پھول اور چادریںچڑھائی جاتی ہیں۔قرآن پاک اور درود پاک کی محافل کا اہتمام کیا جاتا ہے۔یہان آپ ذرا رک کر یہ سوچیں کہ یہ دنیاوی اور وقتی رہنماء ہیں۔جنہو ں نے دنیا میں محض وقتی کامیابی حاصل کی تو انہیں اس طرح یاد رکھا جا رہا ہے۔تو وہ ہستی جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہستی قائم کر دی ۔جس کے بغیر کلمہ مکمل نہیں ہوتا ۔انسان مسلمان نہیں بن سکتا۔اگر مسلمان ہو گیا ہے تو اس پاک ہستی آنحضرت ۖ کے ذکر کے بغیر نماز  مکمل نہیں ہوتی۔وہ ہستی جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک نازل فرمایا ۔قرآن پاک ایسا کلام الہٰی ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورة حشر میں فرمایا ہے کہ اگر یہ کلام پہاڑ پر اتارا جاتا تو پہاڑ اسکی ہیبت سے ریزہ ریزہ ہو جاتا۔اور یہ کلام اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ۖ کے دل پہ نازل فرمایا۔آپ اندازہ کر لیں کہ وہ دل کتنا طاقتور اور مضبوط ہو گا کہ جس کا مقابلہ پہاڑ بھی نہیں کر سکتے۔دنیا کا قاعدہ قانون ہے کہ کوئی بھی علم ہو سائینس سے لے کر ڈرائیونگ لائیسنس تک استاد پہلے تھیوری  پڑہاتے ہیں اسے پاس کرواتے ہیں ۔پھر پرہکٹیکل کروایا جاتا ہے۔تمام سائینسی علوم میں یہی فارمولہ ہے۔ہمارے پیارے نبی نے اپنی زندگی کے پہلے چالیس سال پریکٹیکل میں گزارے تاکہ خود کو ہر انداز سے قرآن پاک کی تھیوری کے مطابق مثال بنا سکیں۔آپ نے دنیا کے فارمولے کے برعکس پریکٹیکل پہلے کیا۔اور قرآن پاک کی تھیوری اپنے اعمال کے ثبوت کے ساتھ پیش کی۔اور اس وقت تک آپ کے کردار اور گفتارکا یہ عالم تھا کہ لوگ آپ کو صادق اور امین کہنے لگ گئے کیونکہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا۔اور آپ لوگوں کی امانتیں ایمانداری کے ساتھ رکھتے تھے۔اس وقت جب اللہ تعالیٰ نے غار حراء میں قرآن پاک نازل کیااور آپ کو اپنا پیغمبر بنایا اور آپ نے لوگوں کو بتایا لوگ چاہے یقین نہیں لائے مگر ان کو یہ یقین تھا کہ آںحضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جھوٹ نہیں بول رہے۔کفار کو ان کے سچ پر یقین تھا۔اور اس کلام پاک کا معجزہ یہ ہے کہ کسی خاص وقت قوم یا امت کے لیے مخصوص نہیں ہے۔یہ کلام پاک تا قیامت تما م انسانیت اور اقوام عالم کے لیے نازل کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب محمد ۖ کو آخری نبی بنایا اور قرآن پاک کو آخری کتاب بنایا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو رحمت  العالمین بنایا اور یہ رتبہ اپنے نبی کو عطاء کر دیا۔میلاد ولادت کا مطلب پیدائش ہے ہم اسے عید میلاد  النبی کیوں کہتے ہیں۔ لوگوں کا ایک اعتراض ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو عیدیں مقرر کی ہیں۔عیدلفطر اور عیدلاضحیٰ۔اور جمعہ کے دن کو بھی اس کی فضیلت کے اعتبار سے عید کا دن قرار دیا ہے۔جمعہ کے روز کو تمام دنوں کا سردار کہا گیا ہے۔جمعہ کے دن کی فضیلت یہ بیان کی گئی کہ اس روز حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اور اسی روز انہوں نے وفات پائی۔جمعہ کے روز سور پھونکا جائے گا۔جمعہ کے روز سخت آواز ظاہر ہو گی۔اسی روز تم کثرت سے مجھ پر درود بھیجا کرو صحابہ نے پوچھا آپ کے وصال کے بعد بھی ۔آپ نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو حرام کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنے حبیب کا رتبہ اور مقام آداب و پروٹوکول سمجھایا ہے کہ نبی کی آواز سے ذیادہ اپنی آواز بلند نہ کیا کرو۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے نکالا تو وہ تین سو سال تک رو رو کر اپنی غلطی کی معافی مانگتے رہے۔اور تین سو سال بعد آسمان کی طرف نگاہ ڈالی تو وہاں کلمہ شریف لاا لہ  اللہ محمد الرسواللہ لکھا دیکھا۔  تو سوچا محمد یقیناً کوئی ایسی ہستی ہے جو اللہ کو مقبول و محبوب ہے جبھی تو اپنے نام کے ساتھ انکا نام لکھا ہے حضرت آدم نے محمد ۖ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔تب اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کو قبول کر لیا۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حوا کو زمین پر بھیجا تو کہا کہ انکا نکاح کر دیا جائے تو حضرت آدم نے پوچھا کہ ہمارا حق مہر کیا ہو گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہارا حق مہر بیس مرتبہ درود شریف ہو گا۔اور یہ ساری کائنات نبی پاک کے درود کے مہر کا نتیجہ ہے۔حضور پاک کے عالی مرتبہ و مقام کا ندازہ اس بات سے لگائیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں شہر مکّہ کی قسم کھائی ہے۔یہ شہر جہان آپ پیدا ہوئے اور جہاں آپ نے سکونت اختیار کی۔حضرت ابراہیم نے خانہ کعبہ تعمیر کیا اور اس پتھر پہ جو لفٹ کی طرح آپ کو اوپر نیچے لاتا رہا اس پتھر پر خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل کر کے جب آپ نے دعا کی کہ اے اللہ ہماری نسل میں سے امت مسلمہ پیدا کرنا اور اپنے گھر خانہ کعبہ کی مزدوری کے عوض میری یہ دعا قبول کرنا۔کہ میری نسل میں سے نبی آخرزماں کو پیدا کرنا۔تو اللہ تعالیٰ نے نبی پاک کو انکی نسل سے پیدا کر کے نبی آخرزماں بنا دیا۔اور وہ پتھر جس پہ کھڑے ہو کے آپ نے حضرت محمد کی دعا مانگی اس پتھر پہ آپ کے دونوں پاوئں کے نشان ثبت ہو گئے۔اور یہ مقام ابراہیم بن گیا کہ جہاں پہ دو نفل پڑہنا حج کا فریضہ بن گیا۔ یہ مقام ہے نبی پاک کی پیدائش کی دعا مانگنے کا آپ کی پیدائش سے چار ہزار سال قبل۔جب عبادت کا معاملہ آیا تو کوئی بھی دعا اللہ تعالیٰ کے حبیب کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نماز میری خاطر ہے اور توحید کا تقاضا کرتی ہے مگر اس میں میرے حبیب کا ذکرشرک نہ سمجھا جائے۔جبکہ شرک ایک کو دو کرنا ہوتا ہے مگر نماز دو کو ایک بناتی ہے۔کوئی نماز تشہد میں نبی پاک پہ درود بھیجے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔اسکی تصدیق سورہ احزاب کی ان  آیات میں کی گئی ہے۔اے ایمان والوں میں اور میرے فرشتے حضرت محمد ۖ پہ دن رات درود بھیجتے ہیں۔آپ بھی نبی پاک پہ درود بھیجا کرو۔اب اس مرتبہ و مقام کے مالک آقائے دوجہاں کی تاریخ پیدائش کو انسان کس طرح منا سکتا ہے۔یقیناًہماری یہ ہستی ہی نہیں کہ ہم آقائے دوجہاں کے شایان شان جشن منا سکیں۔بس دل سے اللہ ّپ کو توفیق عطاء کرے۔دل کی نیت اور دل کا ساتھ ضروری ہے۔اور دل میں محبت و عشق رسول ضروری ہے۔١َ  ۔آپ درود پاک پڑھکر عید میلادالنبی منائیں۔یہ اپنے رب کی نعمت کا شکرانہ بھی ہو گا ور باعث رحمت بھی۔٢  ۔حدیث پاک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کو آپ کے پاس بھیجا اوریہ پیغام پہنچایا کہ جو بھی آپ پر ایک مرتبہ درود پڑھ کر بھیجے گا اس کے بدلے اسے دس نیکیاں ملیں گی اور دس درجات بلند ہوں گے۔٣۔اس درود پاک کے بدلے اللہ اس شخص پہ درود پاک بھیجے گا۔وہ ایک درود قیامت تک کے لیے سنبھال کے رکھ دیا جائے گاجو اسکی شفاعت کروائے گا۔٤۔ اللہ تعالیٰ نے فرمیا جو حجور پاک کی قبر مبارک پہ درود پاک پڑھتا ہے وہ فرشتہ اسی وقت آپ کو پیش کر دیتا ہے۔٥۔ جو جمعہ ے روز درود بھیجتا ہے اللہ اس کی سو حاجت کو پورا کرتا ہے۔ستر حاجت قیامت کے روز اس ے بخشوانے کے لیے اور تیس دنیا میںاسکی حاجت روائی کے لیے ہیں۔ولادت رسوکی اس سے اچھی توفیق کیا ہو سکتی ہے کہ آپ درود پاک کثرت سے پڑہیں اور عبادت کریں۔

2 تبصرے “عید میلادالنبی کی گھڑی

اپنا تبصرہ بھیجیں