شاہ نواز فاروقی

 


شاہ نواز فاروقی

-شہرت ہمیشہ سے انسان کا مسئلہ رہی ہے، لیکن ہمارے زمانے تک آتے آتے ایک شاعرکو یہ کہنا پڑا  ہم طالبِ شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے دور میں بدنامی بھی شہرت کی ایک قسم بن کر سامنے آگئی ہے، اور دنیا میں کروڑوں لوگ ہیں جو بدنام ہوکر بھی مشہور ہونا چاہتے ہیں۔ یہ صورتِ حال قدروں کی تبدیلی کا نتیجہ ہے، اور جب قدریں تبدیل ہوتی ہیں تو ہنر، عیب بن جاتا ہے اور عیب، ہنر۔ شیکسپیئر نے کہا تھا کہ زندگی کا اصل مسئلہ ہونا یا نہ ہونا ہے۔ لیکن ہمارے زمانے میں ہونے سے شاید ہی کوئی خوش ہوتا ہو۔ اس لیے کہ عصرِ حاضر کے انسان کی تگ و دو مشہور ہونے کی ہے۔ یہاں ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ بیج سے پودے کے ظہور، یا شاخ پر پھول کے کھلنے کا عمل بھی ایک فطری عمل ہے۔ یہ صرف وجود کی نمود ہے۔ اپنے ہونے کا اظہار ہے۔ اس کا اچھی یا بری شہرت سے کوئی تعلق نہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ پودے کی نمود یا پھول کے ظہور اور اس کی خوشبو سے پودے یا پھول کی موجودگی کی اطلاع کچھ نہ کچھ لوگوں کو ہو ہی جاتی ہے۔ انسان کا معاملہ بھی اگر یہی ہو تو پھر شہرت میں کوئی ضرر نہیں۔ لیکن شہرت کی نفسیات وجود کے فطری اور برجستہ اظہار پر قناعت نہیں کرتی۔ وہ خود کو ساری دنیا پر چھایا ہوا دیکھنا چاہتی ہے، اور مزے کی بات ہے کچھ کیے بغیر۔ ورنہ کہنے کو تو میر صاحب نے بھی کہا ہے  سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا مستند ہے میرا فرمایا ہوا  جانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہرگز تا حشر جہاں میں مرا دیوان رہے گا یہ شاعرانہ تعلی ہے اور شاعر اکثر اپنے بارے میں اس طرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں، لیکن میر نے ان شعروں میں اپنی جس شہرت کی نشاندہی کی ہے وہ مفروضہ نہیں ہے، چنانچہ میر نے جوکچھ کہا ہے وہ خودپسندی اور خودنمائی نہیں امرواقع کا بیان یا امر واقع کا اظہار ہے اور اس اظہارکا ایک اخلاقی جواز ہے۔ ہمارے مذہب، ہماری تہذیب اور ہماری تاریخ میں شہرت پسندی کو کبھی پسند نہیں کیا گیا، اور اس کے مقابلے پر تواضع اور انکسار کو نمایاں کیا گیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ خود اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ رسول اکرم سید الانبیا تھے، خاتم النبیین تھے۔ لیکن آپ کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ آپ اپنے اصحاب کے درمیان بھی نمایاں ہوکر بیٹھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں جب مکے سے باہر لوگ آپ کو آپ کے چہرہ انور سے کم پہچانتے تھے اکثر ایسا ہوتا کہ باہر سے کوئی شخص آپ سے ملنے آتا اور آپ صحابہ کرام کے درمیان بیٹھے ہوتے اور وہ کسی بھی صحابی پہ قیاس کرلیتا کہ وہ محمد ہیں۔ اس صورت حال سے صحابہ کرام کو بہت شرمندگی ہوتی۔ چنانچہ صحابہ کرام نے یہ روش اختیارکی کہ جیسے ہی کوئی آپ سے ملنے آتا صحابہ کرام آپ  سے الگ ہوکر بیٹھ جاتے تاکہ آنے والے کی نظر صرف آپ پر پڑے۔ رسول اکرم کا یہ طرزعمل صرف خلوت سے متعلق نہیں تھا، جلوت میں بھی آپ یہی کرتے تھے۔ چنانچہ جب آپ صحابہ کرام کے ساتھ کہیں باہر جاتے تو کبھی ان سے آگے چلنے کی کوشش نہ کرتے۔ آپ بیٹھتے تو اکثر اکڑوں بیٹھ جاتے اور فرماتے کہ اس طرح بیٹھنا بندے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ آپ جب ہمارے درمیان موجود ہوتے تھے تو معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ کوئی اولوالعزم نبی ہمارے درمیان بیٹھا ہے۔ آپ گھر میں اپنے کام خودکرلیتے، اپنے کپڑے خود سی لیتے، جوتا خود گانٹھ لیتے، یہاں تک کہ امہات المومنین کے لیے آٹا گوندھ دیتے۔ آپ کی تواضع، انکسار اور فروتنی کا یہ عالم تھا کہ مشرکین کے ساتھ امن سمجھوتا ہوا تو آپ نے دستخط کے طور پر اپنا نام محمدالرسول اللہ لکھا تو کافروں اور مشرکوں کے نمائندے نے کہاکہ ہم آپ کو رسول مانتے تو پھر جھگڑا ہی کیا تھا! چنانچہ آپ نے حضرت علی سے کہا کہ محمد کے ساتھ لکھا ہوا رسول اللہ مٹادو۔ حضرت علی نے ازراہِ محبت اور ازراہِ احترام ایسا نہ کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ مٹادیا۔ حضرت خالد بن ولید اسلامی لشکرکے سپہ سالار تھے۔ ان کا لقب سیف اللہ تھا، مگر ان کی شہرت یہ ہوگئی تھی کہ خالد جس معرکے میں شرکت کرتے ہیں فتح حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عمرفاروق نے حضرت خالد بن ولید کی تمام تر عظمت کے باوجود انہیں ان کے منصب سے ہٹادیا اور ان کے بغیر اسلامی لشکر کو مہمات پر روانہ کیا اور فتح حاصل کی۔ دراصل حضرت عمر فاروق یہ بتانا چاہتے تھے کہ فتح اللہ تعالی کی عنایت اور اسلام کی برکت سے ملتی ہے، حضرت خالد بن ولید کی شخصیت یا ان کی شہرت اس کا سبب نہیں۔ لیکن حضرت عمر کا یہ طرزعمل صرف حضرت خالد بن ولید کے ساتھ نہیں تھا، اپنے ساتھ بھی ان کا یہی معاملہ تھا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ حضرت عمر کے دور میں مہرکی رقم بہت بڑھ گئی اور حضرت عمر کو اندیشہ ہوا کہ اس سے کم وسائل رکھنے والے لوگوں پر بار ہوگا، چنانچہ انہوں نے مہرکی حد مقررکرنے کی نیت کا اعلان کیا۔ لیکن انہیں ایک بوڑھی عورت نے ٹوک دیا اور کہا کہ قرآن
مجید مہرکی حد مقرر کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اور یہ کہہ کر قرآن کی متعلقہ آیت پڑھی۔ حضرت عمر نے یہ سنتے ہی اپنی رائے واپس لے لی اور فرمایا کہ دین کے معاملے میں ایک عورت بھی عمر سے زیادہ جانتی ہے۔ یہ کہتے ہوئے آپ کو خیال بھی نہ آیا کہ آپ خلیف المسلمین ہیں۔ عمرفاروق ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسلام میں شہرت کا حقیقی تصورکیا ہے؟ ایک روایت کے مطابق اللہ تعالی کو جب اپنے کسی بندے سے محبت ہوجاتی ہے تو وہ سب سے پہلے حضرت جبرئیل  کو بتاتے ہیں کہ مجھے فلاں بندے سے محبت ہوگئی ہے۔ حضرت جبرئیل یہ بات حضیرت القدس کے فرشتوں کو بتاتے ہیں جو بزرگ فرشتوں کی ایک مجلس ہے۔ حضیرت القدس کے فرشتے اس بات کا ذکر ملائے اعلی کے فرشتوں سے کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ بات زمین پرکام کرنے والے فرشتوں تک پہنچ جاتی ہے، اور وہ یہ بات انسانوں کے قلوب پر القا کرتے ہیں۔ اس طرح ایک بندہ زمین پر مشہور ہوجاتا ہے۔ لیکن غورکیا جائے تو یہ بندے کے مشہور ہونے کی نہیں محبوب ہونے کی مثال ہے، اور اس کے مقابلے پر شہرت ایک معمولی چیز ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو انسان کے تعارف کے تین درجے ہیں:(1) شہرت، (2) مقبولیت،(3) محبوبیت تجزیہ کیا جائے تو شہرت کا حال الائو سے اٹھنے والی ایک چنگاری کی طرح ہے۔ شہرت کے دائرے کو بہت پھیلایا جائے تو وہ زیادہ سے زیادہ ایک قندیل کی طرح ہے جو کچھ دیرکے لیے فضا کو روشن کرتی ہے اور پھر ہمیشہ کے لیے بجھ جاتی ہے۔ مقبولیت کا معاملہ چراغ جیسا ہے۔ اس میں چنگاری اور قندیل کے مقابلے پر زیادہ روشنی اور زیادہ پائیداری ہے۔ اس کے مقابلے پر محبوبیت کا معاملہ ستارے بلکہ چاند والا ہے۔ چنانچہ شہرت کے حصے میں زیادہ سے زیادہ رغبت آتی ہے، مقبولیت کے حصے میں انس آتا ہے، جبکہ محبوبیت کے حصے میں عشق آتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ فی زمانہ شہرت وبا کیوں بن گئی ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی عظیم اکثریت کو شعوری یا لاشعوری طور پر یہ معلوم ہے کہ محبوبیت اور مقبولیت ان کا مقدر نہیں بن سکتی۔ ہمارے عہدکا المیہ یہی ہے کہ شہرت انسان کا تشخص یا Identity بن گئی ہے، جو شخص مشہور نہیں اس کا گویا کوئی تشخص ہی نہیں خواہ وہ ایک شریف، ایماندار اور صاحبِ علم آدمی ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن شہرت صرف تشخص بن جاتی تو صورت حال سنگین نہ ہوتی۔ مسئلہ یہ ہے کہ شہرت انسان کی موجودگی یا Existence بن گئی ہے۔ جو شخص مشہور نہیں گویا وہ موجود ہی نہیں۔ چنانچہ لوگ شہرت فراہم کرنے والے ذرائع مثلا اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر موجود رہنے کے لیے اپنے پورے وجود کی قوت صرف کردیتے ہیں۔ شہرت میں ایک ایسی سنسنی ہے جو بے شمار انسانوں کے لیے زندگی یا قوتِ حیات کی ہم معنی بن جاتی ہے۔ یعنی لوگوں کی بہت بڑی تعداد شہرت کے وسیلے سے اپنے وجود کو محسوس کرتی ہے۔ تشخص، موجودگی اور زندگی کا احساس مل کر انسان کوقابلِ احترام بنادیتے ہیں۔ اور جس انسان کا ایک تشخص ہو، جس کی دنیا میں موجودگی ثابت ہو، جس کی موجودگی محسوس بھی ہو اور جو قابلِ احترام بھی بن گیا ہو اس کی طرف پیسہ بھی دوڑتا چلا آتا ہے۔ یہ پانچوں چیزیں مل کر انسان کے ساتھعظمت وابستہ کردیتی ہیں۔ لیکن بیشترصورتوں میں شہرت کی عظمت ایک دھوکا ہوتی ہے۔ اس لیے کہ شہرت شخصیت کی مصنوعی توسیع کا حاصل ہوتی ہے۔ اس کی پشت پر حقیقی معنوں میں کوئی بڑا کام موجود نہیں ہوتا۔ البتہ جب کسی شہرت کی پشت پر حقیقی معنوں میں کوئی بڑا کام موجود ہوتا ہے تو شہرت کی ضرر رسانی کم ہوجاتی ہے اور انسان کی شہرت پھر صرف شہرت نہیں رہتی، اس میں مقبولیت کا رنگ در آتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں