سویڈن اور لکسمبرگ کا معیار زندگی

سویڈن اور لکسمبرگ کا معیار زندگی
سویڈن کی  خبریں

عارف کسانہ  سٹاک ہوم

یورپی یونین کے تازہ ترین سروے کے مطابق سویڈن اور لکسمبرگ میں سب سے کم شرح غربت ہے جو کہ صرف ایک فی صد ہے۔ یورپی  یونین کے 27ممالک میں سے سب سے زیادہ غربت کی شرح بلغاریہ میں ہے جوکہ 44فی صد ہے جبکہ لٹویا میں یہ 31فی صد ہے۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی غربت کی شرح پانچ فی صد کے قریب ہے جبکہ یورپی یونین میں اوسط شرح غربت ٩ فی صد ہے۔
سویڈن دنیا بھر میں امن و سلامتی کا علمبردار ہے مگر ساتھ ہی اسلحہ برآمد کرنے کے لحاظ سے دنیا کے پہلے دس ممالک میں شامل ہے۔سویڈن کی افواج اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے 1948ء سے بھارتی اور پاکستانی افواج کے درمیان جموں کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر موجود ہیں اور ساتھ ہی دونوں ممالک سویڈش اسلحہ کے سب بڑے گاہک بھی ہیں۔ سویڈن کے فوجی اسلحہ اور ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار بھارت ہے جس نے گذشتہ سال تقریباََ سترہ کروڑ یورو کا اسلحہ خریدا۔ بھارت ویسے بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدتا ہے۔ سعودی عرب سویڈش ہتھیاروں کا دوسرا بڑا گاہک ہے جبکہ پاکستان چوتھے نمبر پر ہے اور گذشتہ سال اُس نے سویڈن سے تقریباََ سات کروڑ یورو کا اسلحہ خریدا۔
پاکستانی ایسوسی ایشن بوتشرکا کے صدر اور میونسپل کونسلر راجہ حیدر شکوہ نے عباس ٹاون کراچی کے سانحہ پر نہایت دکھ کا اظہار کرتے ہوئے شہدا کے لواحقین کے ساتھ دلی تعزیت کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے آئے دن دہشت گردی کی وارداتوں سے ایسے محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں۔ وزیرِ داخلہ جنہیں اس کی روک تھا م کرنا ہے وہ محض اطلاعات دے کر جان چھڑا رہے ہیں اور حکومت سوگ کا اعلان کرکے اور معاوضہ دے کر رسمی کاروائی کررہی ہے۔ تنظیم متحدہ پاکستانی کے صدر اور پاک سویڈش فرینڈشپ سوسائیٹی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سہیل اجمل نے کہا ہے کہ مذمت جیسے روائیتی بیانات سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ دہشت گردوں کی مذمت کی نہیں مرمت کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کی صورتِ حال سے دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موئثر قومی پالیسی وضع کی جائے۔

 

اپنا تبصرہ بھیجیں