سونیا خان فلمسٹار اور شاعرہ سے ایک گفتگو



انٹر ویو شازیہ عندلیب
تعارف
سونیا خان نے اپنا تعارف اس شعر کے پیرائے میں کروایا
کیا پوچھتے ہو مجھ سے تعارف میرا ہے کیا
وہ کیا کہے جو خود پہ ہی افشا نہ ہو سکے
اپنے خاندانی پس منظر کے بارے میں بات کرتے ہوئے سونیا خان نے بتایا کہ ان کے والد کا تعلق نو شہرہ سے جب کہ والدہ کا تعلق پشاور سے تھا۔دادا آرمی میں تھے اور انکے خاندان کا شجرہ خوشحال خان خٹک سے ملتا تھا۔ اور آبائی گائوںمیں زمینیں بھی تھیں۔پھر وہی روائتی قبائلی جھگڑے جس کی وجہ سے اپنا گائوں چھوڑنا پڑا۔والد بھی دادا کی طرح آرمی میں چلے گئے۔والدہ کے والدین بچپن میں فوت ہو گئے پھرانکی والدہ کو انکی خالہ لاہور لے آئیں اور یہیں ان کی پر ورش بھی ہوئی۔ والد بھی قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے بچپن میں ہی لاہور آگئے اوپنجاب میں ہی انکی پرورش ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ پٹھان ہیں ہمارے گھروں میں ابھی تک پشتو بولی جاتی ہے ہم لوگ آج بھی اپنی زبان اور کلچر سے جڑے ہوئے ہیں کیونکہ پشاور میں ہمارا اپنے خاندان میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔اس کے علاوہ ہمارے گھرانے میں اردو پنجابی اور انگلش بھی بولی اور سمجھی جاتی تھی۔اس طرح ہم لوگ چار زبانیں بولتے تھے۔ایجوکیشن بہت چھوڑ چھوڑ کر حاصل کی کیونکہ ہمیں بار بار گھر بدلنا پڑتا تھا۔ہم لوگ لاہور شہر سے باہر علامہ اقبال ٹائون میں رہے وہاں ذیادہ عرصہ گزارا۔ہم لوگ جوائینٹ فیملی میں رہتے تھے۔پھپو اور ابا ہمیشہ ساتھ رہے۔ہم لوگوں کو یہ ہی نہیں پتہ ہوتا تھا کہ کون کزن ہے اور کون بہن بھائی سب بہن بھائی ہی لگتے تھے۔
پھپھو کی بیٹی کی شادی فلمسٹار رنگیلا سے ہوئی ۔ظاہر ہے کہ شادی کے لیے کافی مسائل ہوئے جیسا کہ عموماً ہوتا ہے۔پھپھو نے اپنے گھر کے ساتھ ہی اپنی بیٹی کو بھی گھر بنا دیا۔اس طرح ہمارے گھر میں فلم انڈسٹری کے لوگوں کا بہت آنا جانا لگا رہتا۔گھر میں رنگیلا بھائی کی وجہ سے فلم ڈائیریکٹرز کی آمدو رفت رہتی۔لوگ مجھے رنگیلا کی سالی کی حیثیت سے جانتے تھے اور عزت کرتے تھے۔
جب میں آٹھویں جماعت میں تھی تب پہلی فلم سائن کی۔منو بھائی ان دنوں ایک فلم کی کہانی لکھ رہے تھے دو بھیگے بدن۔اس فلم کو فاروق رائے نے ڈاھا پروڈکشنز کے تحت پروڈیوس کیا۔اور موسیقار روبن گھوش نے اس فلم کا میوزک دیا۔اس فلم کا ہیرو وکی تھا۔گھر والے تو راضی نہیں تھے کہ میں فلم میں کام کروں۔میں اسکول سے گھر آئی تو فلم کے لوگ مجھے سائن کرنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔والدہ تو قطعی راضی نہ تھیں۔کیونکہ روائتی خاندان تھا جہاں اس چیز کی کوئی گنجائش نہ تھی۔روائیتی قدریں آج بھی ہمارے خاندان میں ہیں۔پھپھو اور بہنوئی راضی تھے۔ا بو کو بھی کوئی اعتراض نہ تھا۔میں بہت ڈر ی ہوئی تھی۔پھر اس فلمی یونٹ کے لوگ میرے گھر آئے۔اور مجھے بہت پیار سے سمجھا یا ۔محمد علی نے مجھے اتنے پیار سے سمجھایا کہ میرا خوف دور ہو گیا۔اس فلم میں مجھے ہیروئن کاسٹ کیا گیا تھا اور والد کا رول فلمسٹار محمد علی نے کیا تھا اس کے علاوہ اس میں اس وقت کے مشہور اداکار تھے ان میں ننھا بھی شامل تھے۔یہ سن بیاسی تراسی کی بات ہے۔تیرہ سال کی عمر میں میں نے فلموں میں کام کرنے کا قطعی نہیں سوچا تھا۔بلکہ میرے دو شوق تھے ایک وقالت کا اور دوسرا ایر ہوسٹس بننا کیونکہ مجھے سیر کرنے کا بہت شوق تھا۔مجھے شروع سے ہی فلاسفی اور سائیکالوجی سے دلچسپی تھی۔ میں غریبوں کمزوروں اور جانوروں پہ ظلم ہوتا دیکھ کر کڑھتی تھی اور روتی تھی۔میں سوچتی تھی کہ میں وکیل بن کر ان سب کو مظالم سے نجات دلائوں گی۔گویا میں عورتوں کی بدھا تھی۔

پھر جب فلمی دنیا میں قدم رکھا تو ان میں سے کوئی خواب بھی پورا نہیں ہوا سیر البتہ میں نے خوب کی۔فلم انڈسٹری میں رنگیلا صاحب کی وجہ سے میری بہت عزت تھی۔
معروف مزاحیہ اداکار رنگیلا کی زندگی کے اوراق پلٹتے ہوئے سونیا خان نے کہا کہ وہ حقیقی زندگی میں بہت سنجیدہ رہتے تھے بس بھلکڑ بہت تھے۔شاعری کرتے تھے گانے خود لکھتے تھے۔وہ کامیڈی نہیں کرتے تھے مگر لگتا تھا کہ وہ کامیڈی کر رہے ہیں۔بچہ کندھے پر اٹھایا ہوا تھا ور سارے گھر میں پوچھتے پھر رہے تھے کہ رحمان نو کدرے دیکھیا ہے؟؟تو کہا کہ رحمان تو آپکے کندھے پر بیٹھا ہے۔ایسا اکثر ہوتا کہ پاجامہ پہن کر پورے گھر میں پینٹ ڈھونڈ رہے ہیں اور پینٹ کندھے پہ رکھی ہوتی تھی۔اصل میں بہت سوچنے والا شخص اکثر غیر حاضر دماغ رہتا ہے۔وہ سنگر بھی تھے رائٹر بھی تھے شاعر بھی تھے اکثر فلموں کے گانے بھی خو ہی لکھتے تھے۔وہ آل ان ون تھے۔
میں نے بطور ہیروئن ستر فلمیں کی ہیں اس کے علاوہ ٹی وی پر پانچ ڈرامہ سیریل کیے ہیں میرا پہلا ڈرامہ سورج کے ساتھ ساتھ تھا اسے راشد ڈار صاحب نے پروڈیوس کیا تھا۔اس میں عابد علی خیام سرحدی اور،عجب گل شامل تھے جب کہ علامہ اقبال کے پوتے ولید نے اس میں میرے بھائی کا رول ادا کیا تھا۔میں نے الحمراء تھیٹر لاہور میں بھی کام کیا تھا اس وقت تھیٹر معیاری تھا آج کی طرح اس میں پھکڑ پن نہیں تھا۔وہاں جگت بازی کی اجازت نہیں ہوتی تھی اس زمانے میں۔
میں جب فلم میں بطورہیروئن سائن ہوئی میری عمر تیرہ برس تھی۔اس کے بعد میرے والدین نے پندرہ سال کی عمر میں میری شادی کر دی۔میری شادی ہماری خاندانی روایات کے مطابق ایک پٹھان فیملی میں ہوئی۔میرے پہلے شوہر بابر پروفیسر جواد کے بیٹے تھے۔اس شادی میں میری ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی۔میں فلم انڈسٹری چھوڑنا چاہتی تھی۔ مگر چھوڑ نہ پائی کہ میں تو اندسٹری چھوڑنا چاہتیی تھی مگر اندسٹری مجھے نہیں چھوڑ رہی تھی۔اسی زمانے میں میری فلم ڈائیریکٹ حوالدار ہٹ ہو گئی پھر مجھے اور ذیادہ فلمیں ملنا شروع ہو گئیں۔یہ صورتحال دس برس تک رہی۔مجھے ایک دن بھی فرصت نہیں تھی۔مگر میرا شروع سے ارادہ بھی نہیں تھا فلم انڈسٹری میں رہنے کا۔اداکارہ میں کبھی بننا نہیں چاہتی تھی۔مجھے گھریلو زندگی پسند تھی ۔مجھے گھر سنبھالنا اور اپنی ماح کی طرح کھانا بنانا پسند تھا۔مجھے ایسی زندگی پسند تھی جو میری ماں بہن نے گزاری تھی۔میں کافی عرصہ انڈسٹری چھوڑنے کی کوشش کرتی رہی۔میں تو شادی کے فوراً بعد ہی چھوڑنا چاہتی تھی۔پھر میرے شوہر بابر کو بھی بہت فلمیںملنا شروع ہو گئیں وہاں وہ اس قدر مصروف ہو گئے کہ گھر کو اورمجھے ٹائم ہی نہیں دے پاتے تھے۔پھر میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ شادی چل نہیں سکتی۔پھر ہماری علیحدگی ہو گئی۔اس کے بعد ایک دوسال خود کو وقت دیا۔مجھے ایسا مرد چاہیے تھا جو مجھے اور فیملی کو وقت دے۔
جاری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں