سانحہء راولپنڈی عدالتی کمیشن اور عملی اقدامات

ڈاکٹر عارف محمودکسانہ سویڈن
arif new
یوم عاشور کے موقع پر راولپنڈی میں رونماء ہونے والے المناک واقعہ پربہت کچھ لکھا گیا اور کہا گیا ہے۔اور کچھ اہل فکر نے قابل عمل اقدامت بھی تجویز کیے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہ ہو سکیاور مسلہ کی اصل جڑ کہاں ہے اور اسے کیسے باہر نکال کر پھینکا جا سکتا ہے؟اس پر بھی ابھی کہنا باقی ہے۔اس سانحہ نے علامہ اقبال کے اس قول کو پھر سچ کر دکھایا ہے کہ امتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں۔فساد بینالمسلمین کی اس صورتحال میں لا دین عناصر کو کھل کر یہ کہنے کا موقع مل رہا ہے جو دین اسلام کے ہمیشہ خلاف لکھتے رہتے ہیں۔بہت سے رہنمائوں اور کچھ حکومتی عہدے داروں نے اسے غیر ملکی سازشیں اور بیرونی ہاتھ کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔اگر اس میں بیرونی ہاتھ ہے تو آپ واضع طور پر بتا کیوں نہیں دیتے؟ کب تک طفل تسلیاں اور روائیتی بیان بازی جاری رکھیں گے۔کوئی اسے غیر مقامی افراد کی کاروائی قرار دے رہا ہے۔اگر وہ غیر مقامی ہیں بھی تو کیا ہے ہیں تو وہ بھی اسی ملک کے شہری۔اصل مسئلہ سمجھنے اور حل کرنے کے بجائے لیپا پوتی سے کام لیا جا رہاہے۔ذیادہ تر آوازیں یہ اٹھ رہی ہیں کہ مختلف فرقوں کے علماء آگے بڑہیں۔اتحد و اتفاق کی فضاء پیدا کریں شر پسندی اور فرقہ پرستی کو روکیں جس کی وجہ سے یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے۔انہی سے اصلاح و احوال کی درخواست کی جا رہی ہے یعنی کہ بقول میر
میر بھی کیا سادہ یں کہ بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ فرقہ واریت کا زہر جو اب لوگوں کی رگوں میں پھیل چکا ہیوہ فرقہ پرست مدرسوں اور ان کے علماء کا پیدا کردہ ہے۔وہ کبھی بھی فرقہ پرستی کو ختم نہیں کریں گے اور نہ ہی اپنی مساجد کی پہچان دیو بندی،بریلوی،شیعہ،اور اہل حدیث کے علاوہ کرائیں گے ۔اگر وہ یہ کریں تو انکا روزگار بند ہو جائے گا۔پاکستان میں ایک ہی گلی یا محلے میں چند گز کے فاصلے پر دو دو یا اس سے ذیادہ مساجد موجود ہیں حالنکہ وہاں ایک ہی مسجد کافی ہے۔قوم فرقوں میں بٹی رہے گی تو علماء کا کاروبار چلتا رہے گا۔ایک محطاط اندازے کے مطابق پاکستان میں مختلف فرقوں کے کم از کم بیس ہزار مدرسے ہیں۔جہاں سے اگر ہر سال اگر ہر مدرسہ سے دس فارغالتحصیل طلباء نکلتے ہیں تو تعداد ڈیڑھ لاکھ سے دولاکھ تک جا پہنچتی ہے۔ان نئے کیڈیٹ حضرات کی کھپت کہاں ہو گی؟؟دنیا جہاں کا کوئی کام تو یہ کر نہیں سکتے تو پھر کیا ہو گا یہی کہ نئی مسجد اور نیا مدرسہ دوسرے فرقہ کے لیے کھل جائے گا۔اور پھر وہی فرقہ واریت کا پیغام پھیلے گا۔
جس ملک میں طلباء تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں فرقوں کی بنیاد پر ہوںوہاں آپ اور توقع کیا کر سکتے ہیں؟حکومت اور الیکشن کمیشن ایسی جماعتوں کو اجازت کیسے دیتا ہے؟یہ حقیقت ہے کہ کفر کے فتووں کے لیے فرقوں کا پلیٹ فارم ہی استعمال ہو سکتا ہے ہم اپنے دشمن خود ہی ہیں۔ہم اپنے دشمن خود ہیں علماء میں مولانا طارق جمیل اور پروفیسر طاہرالقادری قابل تحسین ہیں جنہوں نے واضع طور پرسب فرقوں کا نام لے کر کہا ہے کہ سب مسلمان ہیں اور وہ کسی کو بھی کافر نہیں سمجھتے۔کیا دیگر علماء بھی انہی کی پیروی کریں گے ۔پاکستان میں فرقہ پرستی کی پیروی خود حکومت کے ہاتھوں دیکھی گئی ہے۔جب تعلیمی نصاب میں اسلامیات کے مضمون میں دو طرح کے سلیبس اور کتابیں اسلامیات سنی طلباء کے لیے اور اسلامیات شیعہ طلباء کے لیے اس طرح فرقہ واریت کا پودا سکول دور میں ہی طلباء کے لی لگا دیا جائے گا تو بڑا ہو کر وہ کیا تناور درخت نہیں بنے گا۔تمام مسلم طلباء کے لیے اسلامیات ایک ہی ہونی چاہیے جو کہ قرآن کی تعلیمات پر مبنی ہونی چاہیے۔جس پر سب متفق ہوں۔کفر کے فتوے دراصل ان روایات اور تاریخ کی بنیاد پر ہیں جو کہ سنی سنائی باتوںسے دو تین سو سال بعد لکھی گئی تھیں۔جس میں درست باتیں بھی ہیں اور غلط روایات بھی ہیں۔ان کی باتوں اور گزرے ہوئے لوگوںپر لڑنے والوں کو قرآن کی یہ آیات کیوں نہیں نظر آتیںجو لوگ گزر چکے ہم ان کے بارے میں تمہیں نہیں پوچھیں گے۔تم سے تمہارے بارے میں سوال ہو گا سورت بقرہ آئیت نمبر 114
۔ ہمیں اس نصاب پر توہ دیی چاہیے جس میں سے ہمارا امتحان ہونا ہے،اور وہ نصاب قرآن حکیم ہے لیکن ہماری مثال اس طالبعلم جیسی ہے جو نصاب کو ایک طرف رکھ کر سارا وقت غیر نصابی سرگرمیوں میں ضائع کر دیتا ہے۔ظاہر ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ہمیں اس مائینڈ سیٹ کو بدلنا ہو گا۔جس نے عدم برداشت،فرقہ پرستی،انتہا پسندیاور تشدد کو جنم دیا ہے۔اس صورتھال سے نکلنے کے لیے میڈیا حکومت اور سب سے بڑھ کر عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔قرآن حکیم کی وہ واضع آیات جو فرقہ پرستی کے خلاف ہیںان کی بار بار تشہیر کی جائے خاص طور پر سورہ روم کی آئیت 31,32 سورہ انعام کی آئیت ایک سو ساٹھ ،سورہ آل عمران کی آئیت 103-105 سورہ حج باون سورہ الحادیہ کی آئیت پنتالیس سورہ شورہ کی آئیت چودہ کی بار بار تشہیر کی جائے اور میڈیا میں اسے بار بار سامنے لایا جائے تاکہ عوام کو اس بات کا علم ہو سکے کہ قرآن حکیم نے فرقہ واریت کو عذاب عظیم اور مسلمانوں کے لیے گناہ عظیم قرار دے کر واضع کر دیا ہے کہ فرقہ واروں کو حضور کریم سے کوئی تعلق نہیں۔ فرقہ وار علماء کے بجائے فکر اقبال اور فکر سر سید کو عام کیا جائے۔اور حکومت میڈیا عوم تمام فرقہ واریت کی سرگرمیوں سے بیزاری کا ثبوت دیں۔نہ ان کی تقریبات میں شرکت کریں اور نہ ہی ان کی تشہیر کریں۔اور نہ ہی ان کی مالی معاونت کریں۔اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا کلچر پیدا کیا جائے۔سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد کو بجائے آگے پھیلانے کے اس کی حوصلہ شکنی کی جائے۔قرآن حکیم کی تعلیمات کو اجاگر کر کے اچھے کردار اور اخلاق سے اسلام کی نیک نامی کی جائے۔
عدالتی کمیشن کو اپنا دائرہ ء کار صرف سانحہء راولپنڈی تک ہی نہیں محدود رکھنا چاہیے بلکہ ان اسباب کا جائزہ لینا چاہیے کہ فرقہ واریت کا زہر کیسے پھیلا ہے۔اور اسے روکنے کے اقدامات کیسے ہونے چاہیں۔اور مجوزہ فرقہ واریت کا اسلام سے کیا تعلق ہے؟محض ایک واقعہ کی بنیاد پر عدالتی کمیشن اسگھمبیر مسئلہ کا حل نہیں بلکہ ایک جامع تشخیص اور قابل عمل علاج کی ضرورت ہے۔ورنہ ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔عدالتی کمیشن بنتے رہیں گے لیکن مسئلہ شدت اختیار کرتا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں