ساتھ ساتھ جو کھیلے تھے بچپن میں

انتخاب فوزیہ وحید اوسلو
بہت عجیب ہیں یہ بندشیں محبت کی
نہ اس نے قید میں رکھا نہ ہم فرار ہوئے
ساتھ ساتھ جو کھیلے تھے بچپن میں
وہ سب دوست اب تھکنے لگے ہیں

کسی کا پیٹ نکل آیا ہے
کسی کے بال پکنے لگے ہیں
سب پر بھاری ذمہ داری ہے
سب کوچھوٹی موٹی کوئی بیماری ہے
دن بھر جو بھاگتے دوڑتے تھے
وہ اب چلتے چلتے بھی رکنے لگے ہیں
اف کیا قیامت ہے
سب دوست تھکنے لگے ہیں

کسی کو لون کی فکر ہے
کہیں ھیلتھ ٹیسٹ کا ذکر ہے
فرصت کی سب کو کمی ہے
آنکھوں میں عجیب سی نمی ہے
کل جو پیار کے خط لکھتے تھے
آج بیمے کے فارم بھرنے میں لگے ہیں
اف کیا قیامت ہے
سب دوست تھکنے لگے ہیں

دیکھ کر پرانی تصویریں
آج جی بھر آتا ہے
کیا عجیب شے ہے یہ وقت بھی
کس طرح سے یہ گزر جاتا ہے
کل کا جوان دوست میرا
آج ادھیڑ نظرآتا ہے
کل کے خواب سجاتے تھے جو کبھی
آج گزرے دنوں میں کھونے لگے ہیں
اف کیا قیامت ہے
سب دوست تھکنے لگے ہیں
یہ لوگ اجنبی ہیں تو پتھر کہاں سے آئے
اس بھیڑ میں بھی کوئی ہمارا ضرور ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں