ذکر علی سفیان آفاقی کا

ذکر علی سفیان آفاقی کا

اختر عباس

حصہ اول

جب سے پاکستان آئے ہیں لکھے جا رہے ہیں۔ لکھنے کی عادت تو انھیں تب بھی تھی جب سکول کے دنوں میں انھوں نے چغل خور کے نام سے ایک اخبار بنا کر گھر بھر کی خبروں کو عام کردیا تھا۔  میں پاکستان پہنچے تو صرف گھر کے سامان سے لدا ٹرک ہی ساتھ نہیں لائے، کتنی ہی ان کہی کہانیاں، داستانیں، حوالے، مشاہدے ان کے ساتھ تھے۔ روزنامہ تسنیم سے لکھنے کے سفر کا باقاعدہ آغاز کیا تو روزنامہ آفاق، ہفت روزہ چٹان، روزنامہ نوائے وقت، ماہنامہ سیارہ ڈائجسٹ اور ماہنامہ سرگزشت کراچی ہر جگہ اپنی کبھی نہ ختم ہونے والی کہانیوں کے نقوش چھوڑے۔  میں نوائے وقت نے ہفت روزہ فیملی میگزین کا آغاز کیا تو وہ اس کے مدیر مقرر ہوئے۔گزشتہ  سال سے آفاقی صاحب فیملی کے مدیر ہیں۔ ان کی تحریریں، فلمی الف لیلہ کا روپ دھار کر برسوں سے جاری ہیں۔ وہ کہتے ہیں مجھے دو ہی کام آتے ہیں، لکھنا اور فلمیں بنانا۔ فلمیں بنا کر، لکھ کر، پروڈیوس کرکے، ہدایت کاری کرکے بھلے دنوں عزت و آبرو کے ساتھ صرف لکھنے کے کوچے میں آگئے۔ بیسیوں سفرنامے، کتنے ہی انٹرویوز اور کتنی ہی طویل کہانیاں لکھ ڈالیں۔ ہماری اس ملاقات کا حوالہ خالص  اگست تھا۔ وہ تحریکِ آزادی کے عینی شاہد ہیں۔ انھوں نے اپنی آنکھوں سے تحریکِ پاکستان کو بنتے، چلتے اور ملک بنتے دیکھا۔ جب ایک دنیا آگ اور خون کے سمندر عبور کر رہی تھی، وہ دہلی میں تھے۔ میرٹھ اور بھوپال ان کے خاندان اور خاندانی یادوں کے مضبوط حوالے ہیں۔ آئیے آپ بھی اس ملاقات میں شریک ہوں۔ سوال: آپ  تک ہندوستان میں رہے۔ کئی شہروںمیں رہے، قسم قسم کے لوگوں سے ملے، ہر قسم اور ذات کے ہندوئوں کو اور ان کے گھروں کو دیکھا۔آج کل انڈین فلموں اور ڈراموں میں جس کثرت سے مذہبی عبادات رسومات دکھائی جاتی ہیں کیا وہ ہوتی تھیں؟جواب: ہم نے نہ کبھی دیکھیں نہ کبھی سنیں۔ نہ ہر ہندو کے گھر میں مندر اور مورتیاں دیکھیں۔ نہ ہر شخص گھر سے باہر جاتے اور اندر آتے وقت پوجاپاٹ کرتا تھا۔ کڑواچوتھ کی رسم ہم نے ہندوستان میں کبھی نہیں دیکھی نہ سنی۔ ممکن ہے ہوتی ہو لیکن خال خال ہوتی ہوگی۔ اب ہندوستان کے لوگ اپنی قومیت اور مذہب کی نمائش اور پراپیگنڈہ بہت زیادہ کرتے ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ کسی ملک اور قوم کی اپنی شناخت اور پہچان ہونی چاہیے۔ اپنی قومی زبان اور اپنا کلچر ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے راہنمائوں اور حکمرانوں کے ساتھ ساتھ اخبارات، رسائل اور میڈیاوالوں نے کبھی اس کی پروا نہیں کی۔ جس کا انجام ہم دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے اپنی قومی پہچان نہ بننے دی۔ اگر کوئی تھی تو رہنے نہیں دی۔ ہم فیض عام کالج سے ڈیڑھ دو میل دور چھائونی کے علاقے میں رہتے تھے۔ آس پاس کی کوٹھیوں میں بھی ہندو مسلمان ہر قسم کے خوشحال لوگ رہتے تھے۔ ہماری کوٹھی کے برابر والی کوٹھی میں بھی ایک ریٹائرڈ انگریز کیپٹن رہتے تھے۔ ان کی بیٹی قریب قریب ہماری ہی ہم عمر تھی۔ تمام کوٹھیاں بہت وسیع و عریض تھیں۔ ہر قسم کے بے شمار درخت، سبزہ زار، لان، لمبی ڈرائیو وے۔ شام کو یہ لڑکی اپنی کوٹھی کے لان میں گھڑسواری کیا کرتی تھی۔ ہمیں کوٹھی پر واپس آنے کے بعد کہیں باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ کرکٹ اور ہاکی کھیلنے کے لیے بڑے بڑے لان تھے۔ اگر کھیلنا ہو تو دوستوں کو وہیں بلا لیا جاتا۔ سکول میں کھیلنے والے دنوں میں سکول جانے کے لیے ڈرائیور لے جاتا اور واپس لے آتا۔ گھر میں ہمارا ہم عمر کوئی نہ تھا۔ دوپہر کو جب خالو ابا اور خالہ اماں سو جاتے تو ہم شاگرد پیشے کا چکر لگاتے، مشاہدہ کرتے اور لوگوں سے بات چیت کرتے۔ ریس کے سیزن میں گھوڑوں، سائیس اور ٹرینرز سے خاصی رونق ہوجاتی۔ ہر سیزن میں ہر قسم کے لوگ اور ان کے خاندان آتے تھے اور ہر بار ہمارے مشاہدات اور تجربات میں اضافہ کرکے چلے جاتے تھے۔ کوٹھی کے چاروں طرف لان اور  اطراف بڑے اور کشادہ برآمدے تھے۔ خالوابا کی لائبریری ہر موضوع پر کتابوں سے بھری ہوئی تھی۔ دوپہر کو جب آوارہ گردی سے فرصت ملتی تو ہم کتابیں لے کر بیٹھ جاتے۔ لائبریری میں مولانا شبلی کی سیر النبی سے لے کر ہندوستان اور انگلستان تک کی تاریخ، اسلامی تاریخ، سوانح عمریاں، افسانے، سیاست، ناول، علمی و ادبی، ہر موضوع پر کتابیں موجود تھیں۔ طنزومزاح، شعروشاعری، مشہور شعرا کے دیوان۔ غرضیکہ دنیا بھر کے ہر موضوع کے بارے میں کتابیں تھیں۔ ہم بچپن ہی سے کتابوں کے کیڑے تھے۔ جو کتاب اٹھاتے اس کو چاٹ جاتے۔ گرمی ہو یا سردی، کبھی ڈرائنگ روم اور لائبریری سے باہر نکل کر برآمدے میں فرش بچھا کر اور دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے اور کتابیں پڑھتے رہتے۔ برسات ہوتی تو برآمدے میں بیٹھنے کا الگ مزہ تھا۔ ہلکی ہلکی پھوار پڑتی رہتی۔ دور دور تک سبزہ، پودے اور اونچے اونچے درخت، سردی کی بارش ہو یا گرمی کی۔ دوپہر اور سہ پہر کے وقت ہم برآمدے میں جا کر ضرور نیم دراز ہو کر پڑھتے تھے۔ ایسے موسم میں رومانی ناول اور طنزو مزاح کی کتابیں پڑھنے کی باری ہوتی تھی۔ شوکت تھانوی، شفیق الرحمن، رشید احمد صدیقی، فرحت اللہ بیگ، عظیم بیگ چغتائی کی کتابیں اس موسم میں بہت لطف دیتی تھیں۔ گرمیوں کی دوپہروں میں کوٹھی کے احاطے کے چاروں طرف امرود، آم، جامن کے پیڑ تھے۔ امرود کے موسم میں ان درختوں پر چڑھ کر امرود کھانے کا پروگرام ہوتا تھا۔ ویسٹ اینڈروڈ پر بہت بڑے بڑے لانوں والی کوٹھیاں تھیں مگر مکین بہت کم تھے۔ بچوں کی ہر گھر میں کمی تھی۔ یوں بھی ان کوٹھیوں میں رہنے والوں میں میل جول کا رواج نہ تھا۔ اتنے سال اس کوٹھی میں رہنے کے باوجود انگریزکیپٹن اور اس کی اکلوتی بیٹی کے سوا کسی پڑوسی سے ہماری شناسائی نہیں تھی۔ یہ معلوم نہ ہوسکا کہ ان بھوت بنگلوں جیسی وسیع و عریض سنسان کوٹھیوں میں کون لوگ رہتے تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ پڑوسیوں کی اکثریت غیرمسلموں پر مشتمل تھی۔ ان سے کبھی عید بقرعید کے موقع پر بھی ملاقات نہ ہوتی تھی۔ نہ کوئی عید کی مبارک دینے آتا اور نہ ہمیں ان کے تہواروں کا کچھ پتا چلتا۔ البتہ رشتے داروں اور خالو ابا کے ملاقاتیوں کا عیدبقرعید پر آنا ہو جاتا تھا۔ نواب اسماعیل علی خاں کے گھر سے  گھوڑوں کی بگھی پر عید اور تہواروں کے موقع پر مٹھائی اور گوشت ضرور آتا تھا۔ میرٹھ کے ایک اور وضعدار رئیس کا ملازم بھی بگھی پر تحفے لے کر آتا تھا۔ ان کی طرف سے محرم میں حلیم اور دوسرے دنوں میں نیاز بھی آیا کرتی تھی۔ میرٹھ میں اتنے سال رہنے کے باوجود ڈاکٹر کرولی کے علاوہ ہم نے خالوابا کا کوئی اور ہندوملاقاتی نہیں دیکھا نہ ہی ہمارا کوئی ہندو لڑکا دوست بنا۔ میرٹھ اس لحاظ سے مِنی پاکستان تھا کہ یہاں ہندو اور مسلمان بالکل الگ الگ تھے۔ دونوں مذاہب کے لوگوں کا آپس میں کسی قسم کا میل جول نہ تھا۔ دونوں اپنی اپنی دنیائوں میں رہتے تھے۔ البتہ لڑائی جھگڑوں کے موقع پر آمنا سامنا ضرور ہوتا تھا۔ انٹرسکول میچ ہوتے تو وہی منظر ہوتا تھا جو آج کل بھارت اور پاکستان کے میچوں کے دوران دیکھنے میں آتا ہے۔ کسی ہندو کو ہم نے مسلمان دکاندار سے سودا خریدتے ہوئے نہیں دیکھا۔ مسلمان بھی حتی الامکان ہندوئوں کی دکانوں سے خریداری سے احتراز کرتے تھے۔ سوال:  کے انتخابات میں یو پی میں تو کانگریس جیت گئی تھی؟جواب: یہ درست ہے۔ کانگریس کی حکومت کا پہلا مزہ ہم نے انتخابات کے بعد چکھا۔ یوپی ایک ہندو اکثریت والا صوبہ تھا۔ ظاہر ہے کہ کانگریس نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے حکومت بنالی۔ ابھی تک یاد ہے کہ سمپورناتند نام کے ایک صاحب وزیرتعلیم مقرر ہوئے۔ نئی حکومت کے اقتدار میں آتے ہی حکم جاری ہوا کہ فیضِ عام کالج پر سے مسلم لیگ کا جھنڈا ہٹا دیا جائے۔ ہندی آٹھویں جماعت تک لازمی مضمون کے طور پر نافذ تھی لیکن سننے میں آیا کہ اب اردو کو اختیاری مضمون بنا دیا جائے گا۔ مسلم درسگاہوں میں ہندو استاد رکھنے کی تجویز بھی زیرِغور تھی۔ کچھ عرصے بعد وزیرِتعلیم میرٹھ تشریف لائے تو فیض عام کالج میں بھی آئے۔ ان کے استقبال کی تیاریاں کی گئیں، آخر وزیرتعلیم تھے۔ مقامی انتظامیہ نے کہا کہ جب وزیرِتعلیم آئیں تو ان کا کانگریس کی جھنڈیوں سے استقبال کیا جائے۔ یہ حکم نہ تھا محض ہدایت تھی جس کی مطلق پاسداری نہیں کی گئی۔ وقت مقررہ پر وہ دھوتی، کرتا، واسکٹ اور نہروکٹ ٹوپی پہن کر تشریف لائے۔ کالج کے ہال میں انھوں نے ایک انتہائی دھمکی آمیز تقریر کی جس میں کہا کہ اب حالات بدل گئے ہیں۔ سب کو بدلے ہوئے حالات کے مطابق بدلنا ہوگا۔ اپنے رویے کو تبدیل کیجیے۔ یہ کانگریس کی حکومت ہے اور اسی کی پالیسی اور حکم چلے گا۔ یہ سب پر واضح رہے۔ خاصی دھمکی آمیز تقریر کرنے کے بعد وہ رخصت ہوگئے۔ پرنسپل صاحب نے ہم لوگوں کو خاص طور پر ہدایت کی تھی کہ کوئی شرارت یا ہوٹنگ نہ کی جائے۔ خاصے کشیدہ ماحول میں یہ تقریب ختم ہوئی۔ کسی نے ایک بار بھی تقریر کے دوران میں تالی نہ بجائی۔ خاموش بت بنے سنتے رہے۔ سوال: یہ ہندوستان کی عبوری حکومت کا دور تھا۔ مرکز میں مسلم لیگی اور کانگریسی وزرا کے اختلافات اور جھگڑوں کی خبریں تو خوب آتی رہتی ہوں گی؟جواب: لیاقت علی خان نے عبوری حکومت کے وزیرمالیات کی حیثیت سے جو بجٹ پیش کیا اس نے ہندو تاجروں اور صنعت کاروں کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ انھیں مالیات کی وزارت اس لیے دی گئی تھی تاکہ وہ غلطیاں کریں اور یہ ثابت ہوجائے کہ مسلمان مالی اور اقتصادی معاملات میں کورے ہیں مگر ملک غلام محمد اور عزیز احمد جیسے لوگوں کے تعاون سے انھوں نے ایسا بجٹ پیش کیا جس نے عوام کو، خصوصا مسلمانوں کو تو خوش کردیا لیکن ہندو کاروباری حلقوں میںصفِ ماتم بچھا دی۔ نئی دہلی سے اور بھی

خبریں، افواہیں موصول ہوتی رہتی تھیں۔ ایک دن خبر آئی کہ سردار عبدالرب نشتر نے کسی بات پر جِھلا کر کابینہ کے اجلاس میں

سردار دلبھ بھائی پٹیل کو طمانچہ رسید کردیا۔اس عبوری حکومت کے دور میں ہندومسلم کشیدگی اور بڑھ گئی اور کانگریسی لیڈروں کو بھی شدت سے یہ احساس ہونے لگا کہ کانگریس اور مسلم لیگ یعنی ہندو اور مسلمانوں کا ایک ساتھ رہنا اور مل جل کر حکومت چلانا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ بالآخر ہندوستان کی تقسیم اور قیامِ پاکستان کا فیصلہ ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان بھر میں فسادات اور مسلمانوں کے قتلِ عام کی آگ بھڑک اٹھی۔ ہندوئوں کے طرزِعمل میں نمایاں تبدیلی پیدا ہو گئی تھی لیکن رفتہ رفتہ ہندوراج نے اپنی اصل شکل و صورت دکھانی شروع کر دی ۔ حکومتی سطح پر اس سارے ظلم و قتل کی سرپرستی کی جاتی رہی۔ریاست حیدرآباد دکن نے طے شدہ اصول کے مطابق آزاد اورخودمختار رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ بہت بڑی ریاست تھی جو رقبے میں کئی یورپی ملکوں جتنی بڑی تھی۔ ریاست کی اپنی ریلوے، اپنا سکہ، محکمہ ڈاک، پولیس یہاں تک کہ فوج بھی تھی۔ خوشحالی ایسی کہ انگریزی علاقوں کے تعلیم یافتہ لوگ وہاں جا کر ملازمت کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ انگریز حکومت نے نظام حیدرآباد کو یارِوفادار کا لقب دیا تھا اور ہندوستان کی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں حیدرآباد کو فوقیت حاصل تھی۔ دوسرے والیان ریاست راجہ، مہاراجہ، نواب اور ہزہائی نس کہلاتے تھے لیکن نظام حیدرآباد کے نام کے ساتھ ہزایگزالیٹڈ ہائی نس استعمال کیا جاتا تھا۔ بھارتی حکومت نے ہر اصول کو بالائے طاق رکھ کر پہلے تو چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستوں پر قبضہ کیا پھر پولیس ایکشن کے نام پر حیدرآباد پر چڑھائی کر دی۔ حیدرآباد کا آرمی چیف الحرروس ہندوستانی حکومت سے مل گیا تھا۔ اس لیے فوج بیرکوں کے اندر ہی رہی لیکن قاسم رضوی کے رضاکاروں نے بندوقوں سے ہندوستانی ٹینکوں کو روکنے کی کوشش کی۔ سیکڑوں نے ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر جان دے دی لیکن ہندوستانی تسلط کو نہ روک سکے۔ سوال: کہاجاتا ہے کہ ہندوستانی حکومت کے زیرِتسلط آتے ہی مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوگیا؟جواب: یہ بالکل درست ہے حالانکہ مسلمانوں کے عہدحکومت میں کسی ہندو کی نکسیر تک نہیں پھوٹی تھی۔ ہندومسلم رعایا کے مابین کوئی فرق نہ تھا۔ بڑی بڑی جاگیریں جو بیشتر ریاستوں سے بڑی تھیں ہندوئوں کو عطا کی گئی تھیں۔ ریاست حیدرآباد میں مہاراجہ کشن پرشاد کافی عرصے وزیراعظم رہے تھے۔ حیدرآباد دکن کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے مختلف صوبوں میں تقسیم کردیا گیا۔ اس کے بعد ریاست جموں و کشمیر کی باری آئی اور یہ تنازعہ آج تک جاری ہے۔ ریاست رام پور کو بھی ہندوستان میں شامل کرلیا گیا۔ بھوپال کی ریاست نواب حمید اللہ خاں کی فراست کے باعث کافی عرصے تک بچی رہی لیکن پھر اس کو بھی بھارتی یونین میں شامل کر لیا گیا۔ مسلم ریاستوں کے حکمران مسلمان تھے۔ رعایا میں ہندوئوں کی اکثریت تھی۔ اگر چاہتے تو مسلمان حکمران مسلمانوں کی اقلیت کو اکثریت میں بدل سکتے تھے جیسے کہ مغل اور ہندوستان کے دوسرے مسلمان حکمران ایک ہزار سال کی حکومت کے دوران بآسانی ایسا کر سکتے تھے۔ مسلم ریاستوں میں کبھی ہندومسلم فسادات نہیں ہوئے۔ ہندوئوں کو بھی مسلمانوں جیسے مساوی حقوق حاصل تھے مگر بھارتی یونین میں شامل ہوتے ہی ان ریاستوں کا مزاج اور ماحول یکسر بدل گیا۔ قیامِ پاکستان سے پہلے بھی ہم پاکستان کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ خوابوں میں ہمیں یہ ایک بے حد خوبصورت اور خوشحال ترقی یافتہ ملک نظر آتا تھا۔قیامِ پاکستان کے وقت ہمارے والدین، خالوابا اور دوسرے قریبی رشتے دار پاکستان پہنچ چکے تھے۔ انھیں کسی نے مجبور نہیں کیا تھا، یہ ان کا اپنا انتخاب تھا۔ ہمیں  تک ہندوستان میں رہنا پڑا۔ اس عرصے میں ہم نے اور وہاں کے مسلمانوں نے بہت دکھ سہے اور صدمے برداشت کیے۔ ریاست حیدرآباد پر فوج کشی اور قبضہ ایک زخم تھا جس نے ہم سب کو غمگین اور دکھی کردیا۔ کئی دن تک ہم لڑکے اس کا سوگ مناتے رہے۔ سوال: بھوپال کے بارے میں کچھ بتائیے۔ لوگ اس کو بہت فینٹی سائز کرتے ہیں۔جواب: بھوپال کے بارے میں کیا بتائیں؟ یہ عجیب و غریب قسم کی خصوصیات کا حامل قدرتی مناظر سے مالامال شہر تھا۔ بندھیا چل پہاڑی سلسلے پر واقع یہ شہر اور تمام علاقہ کسی مصور کے شاہکار کے مانند تھا۔ یہاں کے موسم بہت معتدل تھے۔ سردی، گرمی، برسات، لیکن گرمی ایسی کہ تکلیف نہیں دیتی تھی۔ سردی اچھی خاصی پڑتی تھی۔ ہم لوگوں کے لیے وہی بہت زیادہ تھی۔ بزرگ روئی کے دگلے اور روئی کی بنڈی پہن کر اور سروں کو ٹوپیوں یا گرم کنٹوپ سے ڈھانپ کر رکھتے تھے۔ انگیٹھیاں جل جاتی تھیں۔ امیر، غریب سب کے گھروں میں خشک میوہ ضرور موجود ہوتا تھا۔ بادام، کشمش، اخروٹ کی گِری، اس میں بھنے ہوئے چنے بڑے بڑے برتنوں میں رکھ لیے جاتے۔ شام ہوتے ہی بچوں کو دو دو مٹھی بھر کر دیے جاتے۔ وہ چباتے پھرتے ۔ خوشحال لوگوں کے بچے سارا دن میوہ کھاتے تھے جس میں بھنے ہوئے چنے شامل نہیں کیے جاتے تھے۔ بھوپال سے باہر نکل کر معلوم ہوا کہ سردی کیا ہوتی ہے۔ ہم اسی سردی کو بہت زیادہ سمجھتے تھے۔ بارشیں اپنے ساتھ ایک نیا حسن لے کر آتی تھیں۔ بھوپال شہر پہاڑیوں پر واقع تھا۔ اونچی نیچی پتھریلی سڑکیں۔ تارکول کی سڑکیں اس وقت شہر میں کم ہی نظر آتی تھیں۔ کتنا ہی موسلادھار مینہ برسے کیا مجال جو پانی کا ایک قطرہ بھی سڑکوں پر نظر آئے۔ سارا پانی بہہ کر نشیب کی جانب چلا جاتا تھا۔ سیوریج کا نظام نہ تھا لیکن سڑکوں کے اطراف میں نالیاں ہوتی تھیں جن کے ذریعے آسمان سے بارش ہوتی رہتی اور نشیبی سڑکوں اور نالیوں کی وجہ سے یہ پانی بہہ کر آگے نکل جاتا۔ بارش کا پانی کہیں کھڑا ہوجائے یہ اس وقت ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ شہر جسے آج کل ڈائون ٹائون کہتے ہیں، درختوں کی زینت سے محروم تھا لیکن جہاں خالی جگہیں تھیں وہ سبزے سے بھری ہوتی تھیں۔ پرانے گھنے سایہ دار درختوںکا اپنا ہی حسن ہوتا ہے۔ البتہ شہر کے اردگرد سبزہ زاروں کی کمی نہ تھی۔ وہ پہاڑیاں جہاں اس زمانے میں گنتی کی رہائشی عمارتیں تھیں اور وہ بھی نواب یا ان کے رشتے داروں کی ملکیت تھیں، کھلونے معلوم ہوتی تھیں۔ سنا ہے اب وہاں خوبصورت، جدیدآبادیاں بن گئی ہیں۔ بھوپال کو موسموں اور قدرتی مناظر کے باعث جنت کہا جاتا تھا۔ سوال: بھوپال سے نکل کر پہلا تجربہ کیا ہوا تھا جو اتنے سالوں بعد بھی یاد رہا ہو؟جواب: بھوپال سے میرٹھ کا ٹرین کا سفر ہمارا پہلا تجربہ تھا۔ تب ہم قدرے باشعور ہو گئے تھے۔ بھوپال کی حدود سے نکلتے ہی اسٹیشن پر گاڑی رکی تو ہم نے بہت شوق سے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ خوانچہ فروش ہر قسم کی خصوصا اس علاقے سے منسوب مشہور کھانے پینے کی اشیا آوازیں لگا کر فروخت کر رہے تھے۔ لیکن جس بات نے ہمیں حیران کردیا وہ ہندوپانی، مسلم پانی کی آوازیں تھیں۔ مختلف افراد پانی کی بالٹیاں اور دوسرے برتن اٹھائے آوازیں لگاتے پھر رہے تھے۔ پانی کا بھی کوئی مذہب ہوسکتا ہے؟ یہ ہمیں پہلی مرتبہ معلوم ہوا۔ یہ پانی مفت فراہم کیا جا رہا تھا۔ مسلمان پانی والے کے ہاتھ میں ایک گلاس بھی تھا۔ پیاسوں کو اس گلاس میں پانی پلایا جا رہا تھا۔ ہندوپانی کے لیے کوئی گلاس یا پیالہ نہ تھا۔ پینے والا ہاتھوں سے اوک بنا کر زمین پر بیٹھ جاتا، اوپر سے قدرے اونچائی سے اس کے ہاتھوں پر پانی ڈالا جاتا۔ کچھ پانی اس کے منہ میں اور کچھ زمین پر گِر جاتا۔ہم نے خالو ابا سے پوچھا خالو ابا! کیا پانی بھی ہندو اور مسلمان ہوتا ہے؟ انھوں نے سمجھایا کہ ہندو مسلمانوں کے ہاتھ کا پانی نہیں پیتے۔ مگر یہ گلاس سے کیوں نہیں پیتے؟ اس لیے کہ پانی پینے والوں میں ہر ذات کے لوگ ہوتے ہیں۔ نچلی ذات کے لوگ جس گلاس سے پانی پیتے ہیں اونچی ذات والے اس برتن کو استعمال نہیں کرتے۔ بھوپال سے باہر نکل کر یہ ہمارا پہلا مذہبی تجربہ تھا۔ میرٹھ میں ہمیں فیضِ عام انٹر کالج میں داخل کیا گیا۔ یہ مسلمانوں کے ایک ٹرسٹ کے تحت چلایا جاتا تھا۔ اس کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں خالو ابا بھی شامل تھے۔ کالج کی عمارت ایک منزلہ لیکن دور تک پھیلی ہوئی اور خوبصورت تھی۔ آگے لان تھا جبکہ پچھلے حصے میں کھیل کے میدان تھے۔ ایک جانب ہوسٹل تھا کیونکہ آس پاس کے علاقوں کے مسلمان طلبا بھی تعلیم کے حصول کے لیے اس کالج میں آتے تھے۔ ہوسٹل کے برابر خوبصورت مسجد تھی۔ علاقے میں اس کالج کو وہی حیثیت حاصل تھی جو ہندوستان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو حاصل تھی۔ بنارس میں ہندوئوں کے لیے بنارس ہندویونیورسٹی تھی لیکن ہندوستان کے ہر شہر میں سرکاری درسگاہوں کے علاوہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے علحدہ تعلیمی ادارے بھی تھے۔ فیضِ عام کالج کے مقابلے میں میرٹھ میں ہندوئوں کے متعدد تعلیمی ادارے تھے جن میں سے ایک کا نام ڈی وی ایچ ہائی سکول تھا جو ہمارے کالج کے بالمقابل تھا۔ درمیان میں ایک بہت بڑا میدان تھا جسے بھینسالی گرائونڈ کہا جاتا ہے۔ ہم نے اس میدان میں کبھی بھینسیں چرتی ہوئی نہیں دیکھیں۔ البتہ ہمارے کالج کے طلبا علی الصبح یہاں ٹہل ٹہل کر پڑھتے اور سبق یاد کرتے نظر آتے تھے۔ اس میدان میں میلے بھی لگتے رہتے تھے جن میں فلمی گانوں کی ریکارڈنگ ہوتی تھی۔ مختلف اشیا کی دکانیں سجتی اور رات گئے تک خوب رونق رہتی تھی۔ آل انڈیا مشاعرے بھی یہیں ہوا کرتے تھے۔ سیاسی اجلاس بھی منعقد ہوتے تھے۔ لیاقت علی خان کو ہم نے پہلی بار مسلم لیگ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یہیں دیکھا اور سنا تھا۔ وہ انتخابی مہم کے سلسلے میں میرٹھ آئے تھے۔ ہم لوگ تو دور دور سے انھیں دیکھتے اور تالیاں بجاتے رہے۔ فیضِ عام کالج کے اساتذہ اور طلبا مسلم لیگی تھے۔ کوئی غیرمسلم استاد نہیں تھا۔ ہندو سکولوں میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔ سوال: میرٹھ میں تحریکِ پاکستان کے دوران فسادات ہوتے رہے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں