دادا کی انگلی پکڑے ایک لڑکا

دادا کی انگلی پکڑے ایک لڑکا

 

تحریر محسن نقوی شکاگو

ایک لڑکا دبلا پتلا اپنے دادا عبدل کی انگلی پکڑے چل رہا ہے۔ اندور کی کچی سڑک پر کلو میاں کا تانگا رینگتا دکھائی دیتا ہے۔ شام کے چار بجے ہیں۔ دن ذرا تھک کر ٹھہرا سا لگتا ہے۔ دادا عبدل اکثر اپنے محلے کے نعل بند اچھن میاں کی دکان پر جا بیٹھتے۔ اچھن میاں نعل کو کوئلے سے اتار کر چائے کا پانی چڑھا دیتے۔ لڑکا دہکتے کوئلوں پر نعل کا سرخ رنگ راکھ میں بدلتے دیکھ کر اپنے دادا کی بھوری اچکن میں منھ چھپا لیتا۔ گھوڑے کے کھر [1]سے چھلے ہوئے سفید ٹکڑے کالی مٹی پر اس طرح چھا جاتے جیسے کھوپرے[2] کی کھرچن۔

اچھن میاں ابلتی ہوئی چائے مٹی کے سکورے میں انڈیلتے ہوئے ہمارے دادا سے کہنے لگے: بھئی عبدل، آج کل نعل بندی کا کام کچھ ٹھنڈا چل رہا ہے۔ ریزیڈنٹ صاحب کے ناظر ہی کو لے لیجئے، کہاں گئیں ان کی بگھیاں، درجن گھوڑے، اب تو سونا ہے۔ دو دو موٹر گاڑیاں ہیں۔  عبدل نے جواب میں کہا: ہاں، اب یہ گورے لوگ نہ معلوم اس دیس میں کتنی دھول اڑائیں گے۔

ادھر نعل بند اچھن میاں کا ہتھوڑا اٹھا، ٹھکا ٹھک، اِدھر لڑکے کے دادا نے اپنی اچکن  جھٹکی اور گھر کی طرف اٹھ کھڑے ہوئے۔ لڑکا حیران کہ یہ گوراکون ؟ کوئلے کا کالاپن کیا؟ اور موٹر کی پوں پوں کیا؟

نعل بند اچھن میاں اور دادا عبدل کا رشتہ اس لڑکے کے لئے آنے والے کل کے رشتہ کی طرف ایک اشارہ ہے۔ وہ ہنہناہٹ ہے، وہ نعل کی کھٹا کھٹ ہے۔ وہ رشتہ ہے گھڑ سواروں کا، وہ رشتہ ہے کربلا کے پیاسوں کے لئے مشک اٹھانے والے دلدل کا، وہ اشو میدھ ہے لو اور کش کا، وہ براق ہے سب سے اونچے آسمان پر اڑنے والا۔ آنے والے وقت میں یہی لڑکا چین کی ہون ڈائنسٹی کے ٹرا کوٹا گھوڑون سے گذر کر سینٹ مارکو کے سفید چٹان سے تراشے گھوڑوں کے جھنڈ میں گھرا اپنے بے لگام برش پر سوار برسوں سفر پر جٹا ہوا نظر آئے گا۔ لیکن آج اسی سال بعد بھی اس لڑکے کی زبان پر وہی نعل بند اچھن میاں کی چاے کا مزہ باقی ہے۔ اسی چاے کی تلاش میں وقت کے دادا کی انگلی پکڑے وہ بھٹک رہا ہے۔ اندور کی گلیوں  کے ڈھابے، دلی کی نظام الدین بستی کے چاے خانے، لندن کی ڈیڑھ سو سال پرانی شیپرڈ مارکیٹ کی کافی شاپ، نیو یارک کے آدھی رات کھلے ٹیکسی والوں کے اڈے۔ پراگ کے کارل بریز کے چاروں طرف  کا  کورنا۔ کلکتے کے سردار جی والی گاڑھے دودھ کی چاے میں ڈبوئی ہوئی تندوری روٹی۔ بمبئی کے بھنڈی بازار والی آدھا کوپ چاے مارا ماری، یعنی آدھی چاے، آدھی کافی۔ یہ سلسلہ چاے و کپ  اب بھی جاری ہے۔

ان دنوں لڑکے کا کسی نے بتا پوچھنا چاہا، خاندان سے چان پہچان کرنی چاہی، اس کے لئے اس کے گھر کے لوگوں کی گنتی کرنی پڑیگی، کیونکہ گھر والوں نے لڑکے کی پانچ سال کی عمر تک کسی عورت سے واسطہ ہی نہیں رکھا، یعنی لڑکے نے جب ہوش سنبھالا تو عورت ندارد، یہاں تک کہ اسکی ماں نے بھی کبھی تصویر نہیں کھنچوائی۔ باپ،دادا، چاچا،  چچا دادا، چچا زاد بھائی اور وہ خود چھٹے نمبر پر۔ محلہ معمولی حیثیت کے لوگوں کا، جس کے چاروں طرف فرنگی فوج کی چھانی۔ بایاں پڑوس شہر کے قاضی عبدالحمید کا، جن کی تین بیویاں، پر کیا مجال کہ چوں بھی سنائی دے۔ تعلق جماعت سلیمانی سے جو سیدھا یمن کے پیروں اور بزرگوں سے منسلک۔ باپ دسویں پاس، زبان مراٹھی اور کنڑ۔ چچا اکھاڑے کے پہلوان، خاندان کی  نہ کوئی جان نہ پہچان، بالکل کم نام۔ باپ اندور کی مالوا ٹیکسٹائل مل کے ٹائم کیپر اور اکانٹنٹ۔

لڑکے کے گھر والوں کے نام، رشتے، حلیے اور مزاج سے پہچان ہوجائے تو اس ماحول کا  اندازہ ہوجائے، جہاں لڑکا پلا بڑھا۔ جب پروان چڑھنے کا وقت آتا ہے، تب کیسے زمین آسمان کے بیچ کے فاصلے اس لڑکے پر اثر کرتے ہیں، حرکت کی رفتار طے کرتے ہیں۔ اس نے چار دیواری کے گھرا سے اپنے آپ کو باہر رکھا اور دنیا کی سمجھ جیومٹری سے نہیں بوجھی۔

دادا عبدل حسین، ابراہیم کے بیٹے۔ تیل کے چراغ جلانے اور لالٹین  وغیرہ درست کرنے کی پنڈھر پور میں  چھوٹی سی د کان۔ بھورے رنگ کی اچکن، سفید داڑھی، سر پر کالے رنگ کی ٹوپی۔ باپ فدا حسین سر کریم بھائی کی اندور مالوا ٹیکسٹائل مل میں ٹائم کیپر۔ کوٹ پتلون پر ترچھی لال ترکی ٹوپی، جارج پنجم جیسی کالی داڑھی۔ مونچھوں پر تا۔ پہلی بیوی زینب لڑکے کی پیدائش پر انتقال کر گئیں۔ وہ لڑکا اس کتاب کے صفحوں میں کھیلتا کودتا، ہنستا روتا نظر آئیگا، رنگ اور بو میں ڈوبتا حسن کا پجاری، لگا تار عشق کی مار۔

شیریں فدا حسین کی دوسری بیوی، لڑکے کی سوتیلی ماں۔ شیریں میٹھی آواز والی، میر انیس کے مرثیے پڑھنے والی۔ مذہبی عالم کی بیٹی، وطن سدھ پور، گجرات، چچا مراد علی، جوانی میں اکھاڑے کے پہلوان اور دکان دار۔ پہلی بیوی صفیہ، بنا اولاد گذر گئیں۔ دوسری بیوی بھی صفیہ نام لیکر آئیں، وطن بڑودا، گجرات۔ دادا کے چھوٹے بھائی محمد علی نے، جنہیں گھر والے پیار سے کاکا کہہ کر بلاتے، ساری زندگی بڑے بھائی اور انکے بچوں اور بچوں کے بچوں کی خدمت میں گذار دی۔ اپنے اکلوتے بیٹے نذر حسین کی ماں کی موت کے بعد آخری دن تک دوسری شادی نہیں کی۔ چھوٹی داڑھی، بند گلے کا کوٹ اور مخمل کی کالی ٹوپی۔ میلوں پیدل چلتے۔ پیٹھ پر کوئی نہ کوئی بچہ سوار یا  سامان  لدا ہوا، نذر حسین مقبول سے چھ مہینہ چھوٹے۔ ناٹا قد، فلموں میں کام کرنے کی تمنا پوری نہ ہوئی۔

محمد اطہر، شیریں اماں کے بھائی، فدا حسین کے سالے، ندوے کے عالم، مزاحیہ شاعری میں دخل،  تخلص الھڑ ، لباس مولویانہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[1]  میعاری اردو میں لفظِ کھر اور سم میں فرق کیا جاتا ہے۔ کھر گائے، بھینس، بکری اور ہرن وغیرہ کا ہوتا ہے جو بیچ میں سے پھٹا ہو اہوتا ہے، اور سم گھوڑے اور گدھے کا ہوتا ہے جو ثابت ہوتا ہے یعنی اسکے  دوٹکڑے نظر نہیں آتے۔ ایم۔ایف حسین کی زبان، مہاراشٹرا، بمبئی اور اندور کی ملی جلی زبان ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان علاقوں کی بول چال  میں یہ فرق واضح نہ ہوا ہو۔
[2]   سوکھا ہوا ثابوت ناریل

2 تبصرے “دادا کی انگلی پکڑے ایک لڑکا

اپنا تبصرہ بھیجیں