جھٹکا اور حلا ل گوشت

جھٹکا اور حلا ل گوشت


ڈاکٹر عارف محمود کسانہ سویڈن
حصہ دوم
گذشتہ سے پیوستہ

علماء کرام کو ان امور کی وضاحت متعلقہ شعبے کے ماہرین سے حاصل کر کے اپنا موقف اپنانا چاہیے۔زمانہ طالبعلمی میں ہم لوگ اپنے اساتذہ کے ساتھ اسلام آباد میں قائم ذبحہ خانے کے دورے پر  گئے۔وہاں کے انچارج ڈاکٹر نے بتایا کہ ایوب خان کے دور میںیہ ماڈرن ذبحہ خانہ بنایا گیا تاکہ عوام کو حلال اور  بہتر کوالٹی کا گوشت مہیاء کیا جا سکے۔مگر جب ایوب خان کے خلاف تحریک چلی تو اس میں یہ  نعرہ شامل کر دیا گیا کہ حکومت عوام کو حرام گوشت کھلا رہی ہے۔تب سے وہ مشینری بے کار پڑی ہے اور جانوروں کو روائیتی طریقے سے ذبحہ کیا جا رہا ہے۔
جہاں تک شرعی ذبیحہ کا تعلق ہے علماء کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے۔کہ ذبحہ کرتے وقت اللہ کا نام لینا کس قدر ضروری ہے اس بات کی سورہ انعام میں وضاحت کی گئی ہے ۔اس سلسلے میں اس سورہ کی آئیت نمبر  119  کا حوالہ دیا جاتا ہے ۔اس کا ترجمہ یوں کیا جات ہے ، جس  ،جانور  پر اللہ کا نام    ذبحہ   کرتے وقت نہ لیا جائے اسے نہ کھائو۔
ان دونوںکو مفسرین نے بریکٹ میں لکھا ہے یعنی کہ یہ وحی کے الفاظ نہیں بلکہ مفسرین نے تشریح کی  ہے۔آئیت میں ممّا ،کا لفظ ہے ۔جس کا معنی جانور نہیں ہوتا۔اسی سورہ کی آئیت نمبر    122میں بھی لفظ جانو ر اور ذبحہ کا ذکر نہیں ہے۔دوسری طرف بخاری شریف کی حدیث ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم کو کہیں سے کھانے کا گوشت آیا حضرت عا شہ نے فرمایا کہ ممکن ہے اس پر تکبیر نہ پڑہی گئی ہو تو رسول کریم نے کہا کہ اب اللہ کا نام لو اور کھا لو۔علماء کرام کی اس ضمن میں وضاحت بہت سی آسانیوں کو جنم دے سکتی ہے۔

پاکستان میں روائتی ذبحہ خانہ

اپنا تبصرہ بھیجیں