جوہرِ جہانِ غالب(2)

غالب کے ایک شعر کی تشریح

تشریح: افتخار راغب، دوحہ قطر

ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

لغات:-
کلیسا: گرجا، عیسائی مذہب کی عبادت گاہ

تشریح: یہ شعر بھی غالب کے ان شعروں میں سے ایک ہے جن کی شرح میں شارحین نے عجلت سے کام لیا ہے۔ اکثر نے شعر کی نثر بنا کر یہ کہہ دیا ہے کہ شاعر کو ایمان اور کفر اپنی اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ بعض نے کعبہ کے پیچھے ہونے اور کلیسا کے آگے ہونے سے یہ فرما دیا ہے کہ شاعر اپنی بادہ نوشی اور رنگین طبعیت کے سبب کفر کی طرف مائل ہے لیکن ایمانی طاقت نے اسے اپنی طرف روک رکھا ہے۔ کسی نے اس سوال کے جواب پر غور کرنے کی زحمت نہیں کی ہے کہ کفر کیوں کھینچ رہا ہے اور ایمان کیسے روک رہا ہے؟ ایک اور سوال قابلِ غور ہے کہ دوسرے مصرع میں کعبہ اور کلیسا کا استعمال کیوں کیا گیا ہے؟ ایمان اور کفر کی مناسبت سے ذرا سی تحریف کے ساتھ مسجد اور گرجا بھی لایا جا سکتا تھا۔ مثلاً
مسجد میرے پیچھے ہے تو گرجا مرے آگے
ان سوالوں کے جواب پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے مصرع میں ایک دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایمان مجھے روک رہا ہے تو کفر مسلسل اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ ‘روکے ہے’ اور ‘کھینچے ہے’ کہنا اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ عمل مسلسل جاری ہے۔ دوسرے مصرع میں کعبہ اور کلیسا اہلِ کعبہ یعنی مسلم قوم اور اہلِ کلیسا یعنی عیسائی قوم کی علامت کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مسجد اور گرجا کہنے سے وہ بات نہیں ہوتی جو کعبہ اور کلیسا کہنے سے ہوئی ہے۔ پہلے مصرع کے دعوے کی دلیل پیش کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ کعبہ میرے پیچھے ہے جو مجھے روک رہا ہے اور کلیسا میرے آگے ہے جو مجھے کھینچ رہا ہے۔ پیچھے اور آگے کا استعمال پہلے مصرع میں روکنے اور کھینچنے کی مناسبت سے ہوا ہے۔ اُس وقت مسلم قوم جدید سائنسی علوم میں بہت پیچھے تھی جب کہ انگریز بہت آگے نکل چکے تھے انگلستان سائنسی ایجادات کا مرکز و محور بنا ہوا تھا۔ انگریزوں سے دشمنی کی وجہ سے مسلم قوم ان کے کارناموں کو بھی کفر سے تعبیر کر رہی تھی۔ جب کہ فطرت دوست و حقیقت پسند مرزا غالب انگریزوں کے سائنسی کارناموں کے انتہائی درجے قدر دان تھے اور ان پر رشک کرتے تھے گویا ان کی طرف کھینچے جاتے تھے۔ چنانچہ اسی غزل میں ٹھیک اس شعر سے پہلے والے شعر میں فرماتے ہیں کہ

نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا
کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے

یعنی اہلِ کلیسا کے کارناموں کی وجہ سے میں اُن سے رشک کرتا ہوں لہٰذا کیسے کہوں کہ تم اُن کا نام میرے آگے مت لو ایسا کہنے سے نفرت کا گمان گزرے گا۔ جب کہ میں ان کو ناپسند کرتے ہوئے بھی ان کے کارناموں کی وجہ سے رشک کرتا ہوں کہ کاش یہ کارنامے ہماری قوم بھی انجام دیتی۔
زیرِ بحث شعر کی مزید تشریح یا اس تشریح کی تصدیق کے طور پر سر سید احمد خان کی کتاب “آئینِ اکبری” کے لیے لکھی گئی مرزا غالب کی فارسی تقریظ کے اشعار ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں جس میں غالب نے انگریزوں کے کارناموں کو گنایا ہے اور آئینِ اکبری کتاب کی اشاعت کو کارِ بے مصرف اور مردہ پرستی بتایا ہے۔ تقریظ سید احمد خان کو پسند نہیں اور اسے کتاب میں شامل نہیں کیا جس کی وجہ سے دونوں میں تقریباً چھے سال تک گفت شنید بند رہی۔ بعد میں سر سید احمد خان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور پھر جدید سائنسی علوم کی تحریک اور مشن کو لے کر اٹھے جو کام در حقیقت مرزا غالب ان کرانا چاہتے تھے۔ گویا غالب کی اس نظم نے سر سید احمد خان کو ایک بڑے کام کے لیے ابھارا اور وہ تمام مخالفتوں کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ کچھ اشعار کسی فارسی داں کے ترجمے کے ساتھ نقل کیے جاتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر شمس الرحمٰن فاروقی کے انگریزی ترجمے کا اردو ترجمہ بھی ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:

گر زآئیں مے رود با ما سخن
چشم بکشاد اندریں دیرِ کہن

ترجمہ: اگر مجھ سے آئین کے بارے میں پوچھتے تو میں کہتا کہ اس کہن سال دنیا میں آنکھیں کھول کر دیکھو.

صاحبان انگلستاں را نگر
شیوہ و انداز ایناں را نگر

ترجمہ: انگلستان والوں کو دیکھو. ان کا طریقہ اور ان کا انداز سمجھو.

تاچہ آئیں ہا پدید آوردہ اند
آنچہ ہرگز کس ندید آوردہ اند

ترجمہ: وہ کیسے کیسے آئین کے موجد ہیں. اور کیسی چیزیں لائے ہیں جن کو پہلے کسی نے نہیں دیکھا.

زین هنرمنداں هنر بیشی گرفت
سعی بر پیشینیاں پیشی گرفت

ترجمہ: ان صاحبانِ ہنر سے زیادہ سے زیادہ ہنر حاصل کرنا چاہیے. اور ان پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے

حقِ ایں قوم است آئیں داشتن
کس نیارد ملک بہ زیں داشتن

ترجمہ: صاحبِ آئین ہونا اس قوم کا حق ہے. کسی اور کو ان سے بہتر حکومت کرنے کا سلیقہ نہیں.

داد و دانش را بہم پیوستہ اند
هند را صد گونہ آئیں بستہ اند

ترجمہ: انہوں نے عدل اور عقل کو باہم ملا دیا ہے. اور ہندوستان کو سینکڑوں طرح کے قوانین سے مالا مال کردیا ہے.

آتشے کز سنگ بیروں آورند
ایں هنر منداں زخس چوں آورند

ترجمہ: لوگ تو پتھر سے آگ نکالتے ہیں. لیکن یہ ہنر مند تنکے (ماچس کی تیلی) سے آگ پیدا کرتے ہیں.

تا چہ افسوں خواندہ اند ایناں بر آب
دود کشتی را ہمی راند در آب

ترجمہ: ان لوگوں نے پانی پر ایسا جادو پڑھا ہے کہ کشتی دھویں سے پانی پر چلتی ہے. (اسٹیمر)

گہ دخاں کشتی بہ جیحوں می برد
گہ دخاں گردوں بہ ہاموں می برد

ترجمہ: کبھی دھویں سے دریا میں کشتی چلاتے ہیں. کبھی اسی دھویں کی طاقت سے ریل کا انجن چلاتے ہیں.

از دخاں زورق بہ رفتار آمدہ
باد و موج ، ایں ہر دو بیکار آمدہ

ترجمہ: دھویں سے کشتی بھی برق رفتاری سے چلتی ہے- ہوا اور لہروں کی طاقت کو انہوں نے بےکار کردیا ہے-

نغمہ ہا بے زخمہ از ساز آورند
حرف چوں طائر بہ پرواز آورند

ترجمہ: تار کو چھیڑے بغیر یہ نغمہ سازی کرتے ہیں. اور حروف پرندے کی طرح پرواز کرتے ہیں.
(گرامو فون)

ایں نمی بینی کہ ایں دانا گروہ
در دو دم آرند حرف از صد کروہ

ترجمہ: تم نے نہیں دیکھا کہ یہ عقلمند لوگ دو لمحوں میں بات سو کوس پر پہنچا دیتے ہیں. (ٹیلی گراف)

رو بہ لندن کاندراں رخشندہ باغ
شہر روشن گشتہ در شب بے چراغ

ترجمہ: لندن جا کر دیکھو کہ اس چمکتے باغ جیسے شہر میں رات بھی بغیر کسی چراغ کے کس طرح روشن ہے.
(بجلی کے بلب)

کاروبارمردم ہشیار بیں
درہر آئیں صد نو آئیں کار بیں

ترجمہ: ذرا ان ہوشیار لوگوں کے کاروبار تو دیکھو. ان کے ہر آئین میں سو نئے آئین مضمر ہیں.

پیشِ ایں آئیں کہ دارد روزگار
گشتہ آئینِ دگر تقویم پار

ترجمہ: ان کے موجودہ آئین کے سامنے, دیگر آئین پرانی جنتری کی طرح محض بےکار ہیں.

چوں چنیں گنجِ گہر بیند کسے
خوشہ زاں خرمن چرا چیند کسے

ترجمہ: جب اس قسم کے علوم و فنون کے خزانے موجود ہوں تو آئینِ اکبری کے بوسیدہ خرمن کی خوشہ چینی کیوں کی جائے.

مردہ پروردن مبارک کار نیست
خود بگو کاں نیز جز گفتار نیست

ترجمہ: مُردے پالتے رہنا اچھا کام نہیں ہے.
خود ہی بتاؤ کہ وہ اب صرف ایک کہانی کے سوا اور کیا ہے.

غالب، آئینِ خموشی دل کش است
گرچہ خوش گفتن, نگفتن ہم خوش است

ترجمہ: غالب خاموش رہنے کا طریقہ خوبصورت ہے. اگرچہ اچھا کہہ رہے ہو, لیکن نہ کہنا بھی بہت اچھا ہے.

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں