جزاک اللہ

عابدہ رحمانی
شکاگو
کافی قیمتی چیزوں کو اونے پونے داموں بیج کر میں کافی دل گرفتہ ہو رہی تھی۔ خریدنے والا ہمیشہ سستا خرید کر خوش ہوتا ہے جب کہ فروخت کرنے والا مہنگا بیچ کر خوش ہوتا ہے۔ یہ بھی عجیب بات تھی کہ زیادہ تر سامان مسلمان خرید رہے تھے۔ ترکی سے تعلق رکھنے والے اور سعودی عرب سے آئے ہوئے امیگرنٹ خاندان تو جیسے میرے گھر پر ہلہ بول دیا تھا۔ تھوڑے ہی داموں میں بہت ساری چیزیں اکٹھی کر لیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ میرے پاس ابھی تک اس کے لیے دوسری آفر نہیں تھی لیکن پھر بھی اتنی تھوڑی قیمت ؟مجھے بہت پچھتاوا ہو رہا تھا کچھ بہت سامان ابھی لے جانے کے لیے باقی تھا میں نے اس خیال سے کہ شاید وہ کچھ احساس کرے اسے فون پر بتایا کہ دیکھو میں نے یہ چیزیں کافی مہنگی لی تھیں اگر تم کچھ دام بڑھا دو تو۔۔jzak-Allah
اس پر وہ شخص کہنے لگا”معاملہ تو طے ہو چکا ہے ، ڈیل ہو چکی ہے ، جزاک اللہ سسٹر۔”
اس جزاک اللہ کے لفظ نے میرے ذہن کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ، بعض اوقات الفاظ ہم محض رسما کہ دیتے ہیں اس پر غور بھی نہیں کرتے لیکن اگر غور کریں تو ۔۔۔ اللہ سے بڑھ کر بہترین جزا دینے والا تو کوئی بھی نہیں ہو سکتا اور اس سے ہی بہترین جزا کی توقع رکھنی چاہیے۔ یہ دنیا اور اس کے فائدے اور نقصانات تو چند روزہ ہیں۔ اصل فائدہ تو وہ فوزِعظیم ہے اور فلاح عظیم جو ہمیں آخرت میں میسر ہو اور بحیثیت مسلمان ہماری ساری تگ و دو اس کے لیے ہونی چاہیے۔ اچھے مسلمانوں نے ہر ہر جملے میں اپنے آپ کو اللہ سے جوڑ رکھا ہے۔
سبحان اللہ ، الحمداللہ ، ماشا اللہ ، بارک اللہ اور پھر یہ جزاک اللہ۔ جزاک اللہ نہ معلوم مسلمان معاشرے میں کب سے استعمال ہو رہا ہے لیکن میں نے زیادہ تر اس کو پچھلے چند سالوں میں سنا ہے او راس وقت سے خود بھی کہتی ہوں۔
بچپن میں جو ہماری مادری زبان تھی اس کے دعائیہ کلمات بھی کچھ اس طرح کے تھے۔ اللہ تمہارا بھلا کرے یا خدا تمہارے ساتھ اچھا ہو اور مہربانی جو شکریہ ادا کرنے کے لیے بولا جاتا تھا۔ جب کچھ اور بڑے ہوئے تو بات بات پر شکریہ اور بہت بہت شکریہ پھر انگریزی کا استعمال زیادہ ہوا تو ہر جملے پر تھینک یو Thank you ، thank you very muchاور Thanks کہ دینا۔
ہماری ایک منہ بولی امی تھیں ان کا شکریہ ادا کرنا تو لڑائی مول لینے کے مترادف تھا، زبان پر چڑھا ہوا تھا جہاں کہا اور وہ برا مان جاتی تھیں۔ اپنا نہیں سمجھتی ہو اس لیے بات بات پر شکریہ او رتھینک یو کہتی ہو ارے بھئی کبھی کوئی اپنوں کو اس طرح کہتا ہے یہ تو غیروں کو کہا جاتا ہے۔
اب ان کو کون سمجھائے کہ یہ تو آپ سے ایک اظہار محبت اور عقیدت ہے اور آپ کی محبت اور شفقت کا اظہار تشکر ہے۔رب کائنات کی ہر لحظہ ، ہر لمحہ مہربانیوں پر ہر لحظہ ، ہر لمحہ شکر ادا کرنے کا بھی حکم ہے، اللہ تعالی نے قرآن پاک میں جا بجا تاکید کی ہے۔
اور میرا شکر ادا کرو ، میرے شکر گزار بندے بنو ، اگر تم شکر ادا کرو گے تو تمہیں بڑھا چڑھا کر دوں گا۔ اگر میری نعمتوں کا انکار کروں گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے
جزاک اللہ خیر
شکریہ کی جگہ ، جزاک اللہ کا استعمال شروع ہوا تو ایک مشہور عالمہ نے مزید رہنمائی کی کہ کہو جزاک اللہ خیر یعنی اللہ تمہیں بہترین جزا دے اور یوں جزاک اللہ خیر کہنا شروع کیا۔ یہ دعائیہ کلمہ ہمیں کتنے دنیاوی اجروں سے بے نیاز کر دیتا ہے جبکہ اپنے تمام کاموں کے اجر کی توقع اللہ تعالی سے رکھنے لگتے ہیں۔ پیغمبروں کا شیوہ تھا کہ ہمارا اجر تو اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے-
پھر اسکے ساتھ مذید جدت یا اضافہ ہوا جزاک اللہ خیر کا جواب کیا ہونا چاہئے –و ایاکم (تمہارے ساتھ بھی ایسا ہو) شروع میں’میں کہہ دیتی تھی وعلیکم جزاک اللہ اب
thank you تھینک یو کے جواب میں ہم کہتے ہیں موسٹ ویلکم’ نیور ماینڈ ، نو پرابلم اور جو پرانی انگریزی تھی اسمیں جوابا کہتے تھے – do not mention please

ایک بہت پیاری بہن نے بہت پیاری بات کی جو بھی اچھا عمل کریں ، جس کے ساتھ جو بھی بھلائی، نیکی کریں ، تحفہ تخائف دیں اس شخص سے واپسی کی توقع ہرگز نہ رکھیں ۔ دل میں نیت کر لیں کہ یااللہ یہ میں صرف تیری رضا کے لیے کر رہی ہوں اور تجھ سے بہترین اجر کی طلبگار ہوں یہ آپ کو تمام توقعات سے بے نیاز کر دے گا۔
اور میں نے کافی کوشش کی کہ اس بے حد پیاری نصیحت کو پلے سے باندھ کر اس پر عمل کروں۔ یہ جا بیجا توقعات تو ہمیں مارے ڈالتے ہیں۔ میری نانی کہتی تھیں “جو اچھا کرے اس کا بھی بھلا اور جو نہ کرے اس کا بھی بھلا۔”
اردو کا مشہور محاورہ ہے “نیکی کر دیا میں ڈال” مقصد یہی ہے کہ کسی کے ساتھ نیکی کرو تو بھلائی کی توقع اور امید نہ رکھو۔ لیکن ہمارے دین نے ہمیں کتنی امید افزا اور کتنی پیاری خوش خبریاں دی ہیں کہ ان نیکیوں اور بھلائیوں کو اللہ تعالی کے ہاں اپنے کھاتے میں داخل کر لو اور اسی سے بڑھ چڑھ کر فضل و کرم کی امید اور درخواست کرتے رہو۔ ورنہ تو سارا وقت اسی حساب کتاب میں گزر جاتا ہے دیکھو میں نے کیا کیا تھا اور وہ کیا کر رہا ہے کر رہی ہے- دیکھو میں نے تو اسے یہ اسقدر گراں تحفہ دیا تھا اور اسنے مجھے یہ بیکارچیزدی ہے- ان تعلقات اور توقعات میں ہمارا کسقدر قیمتی وقت اور صلاحیتیں ضائع ہو جاتی ہیں- یہ توقعات تعلقات میں خوب خوب بگاڑ بھی ڈالتے ہیں- وہ بیمار تھی تو میں مزاج پرسی کو گئی تھی اب دیکھو اسنے مجھے پلٹ کر پوچھا ہی نہیں اسطرح ہر معاملے میں ہمارے توقعات یا لین دین کا سلسلہ چلتا رہتا ہے- میری وہ دوست اکثر شادی بیاہ میں تحفہ دیتی تھیں تو اسپر اپنا نام ظاہر نہیں کرتی تھیں – اب اتنا بھی بے نیاز کوئی کہاں ہوگا-

زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے اور مختلف منازل طے کرتے ہوئے مختلف النوع لوگوں سے سابقہ پڑا – کچھ تو اسقدر بے لوث ، مخلص اور نیک نیت اور چند حد درجہ مطلبی ، خود غرض اور خود پسند – کتنے ایسے کہ انسے ملکر یک گونہ سکون اور اطمینان میسر آتا ہے اورچند ایسے جنکو دوسروں کو بلاوجہ دکھ اور تکلیف میں مبتلا کر کے سکون ملتا ہے – یہ پر خار لوگ خود بھی جلتے بھنتے ہیں اور دوسروں کو بھی جلانے پر یقین رکھتے ہیں -لیکن وہ جنکو خوف خدا ہے اور جنمیں انسانیت ہے – جزاک اللہ خیر جنہوں نے ہر مشکل میں میرا ساتھ دیا اور جزاک اللہ انکے لئے بھی ،جنہوں نے مجھے دکھ دینے میں کوئی تامل نہیں برتا–
کینیڈا، امریکہ آئی تو مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے دوبارہ انہیں بہنوں کا دامن تھاما جن کی معیت اور صحبت میں زندگی کے کئی سال گزارے تھے۔وہ لپٹی لپٹائی اللہ کی راہ میں مجاہد خواتین جو اللہ کے دین کا بول بالا کرنے کے لیے ہر جگہ، ہر مقام پر سرگرم عمل ہیں۔ (اللہ تعالی بھی اپنے دین کے قیام اور نفاذ کے لیے کیا کیا حکمت عملی رکھتا ہے ، ان میں سے تو بیشتر تو ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں۔)
یہ دین اس سرزمین میں ماشا اللہ خوب پھل پھول رہا ہے اگرچہ بہت بندشیں ہو گئی ہیں، کڑی نگرانی ہے لیکن کام جاری ہے۔ کچھ بھی کر لو جو بھی حاصل کر لو سکون اور اطمینان قلب اللہ کی یاد میں اور اچھی صحبت یعنی صحبت صالحہ میں میسر ہوتا ہے اور یہ کام کتنی صورتوں میں جاری و ساری ہے۔
– ماشااللہ ایک سے بڑھ کر ایک عالم دین اور فقہا – کہاں کہاں سے کیسے کیسے اس دین کو پہنچانے کیلئے سر گرم عمل ہیں اور پھر یہ آن لائن تعلقات اور کلاسوں نے اس قدر خواتین کو دین سے جوڑا ہوا ہے اور ان سب نے اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑا ہوا ہے۔ یہ کلاسز ویب نار، ہاٹ کانفرنس ،پال ٹالک، سکائپ اور اتنے ذرائع سے آتی ہیں – یوں لگتا ہے کہ مسلمانوں نے اس سہولت کا خوب خوب فائدہ اٹھا یا ہے– اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے-
تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور تفرقے میں مت پڑو اور اللہ کی اس نعمت اور احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے تم ایک دوسرے کے دشمن تھے اس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور تم اس کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے (آل عمران)
یہ ساری بہنیں اور بھائی جو اللہ کے دین کے قیام اور بقا کے لیے کھڑے ہیں میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں اور یہ دعا دینا چاہتی ہوں۔
جزاک اللہ خیر ، جزاک اللہ خیرا کثیرا—

Abida Rahmani

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں