‘جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے ‘
انفار میشن ٹیکنالوجی کی قلانچیں
تحریرعابدہ رحمانی
کل Apple نے3 ipad کا اجرا کیا ہے یہ پچھلے ipad کی نسبت زیادہ تیز اور 4G نیٹ ورک پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے-اسمیں 5 mega pixel کا کیمرہ اور املالینے کے لیئے مائکروفون بھی ہے-اس کی چپ کافی تیز ہے اور تصویر انتہائی صاف ہے یعنی اسکی ریزولوشوں   بہت اعلئے ہے-  یہ ipad2 کی نسبت تھوڑا بھاری ہے اور موٹا ہیلیکن کارکردگی میں زیادہ بہتر ہے- ڈیسک ٹاپ سے لیپ ٹاپ اور اب ٹیبلٹ پر آگئے جو کہ ایک چھوٹی سی
تختی ہی تو ہے-
کمپیوٹر اب جیسے ہماری زندگی کا جزو لا ینفک بن گیا ھے اسکی روز افزوں ترقی اور نت نئے اضافوں نے بنی نوع انسان کو ھکا بکا کر دیا ہے- اتنے اضافی    اپپس ہوتے ہیں کو عقل دنگ بلکہ ماف  رہ جاتی ہے اس میں ہر بنانے والی کی کوشش ہیکہ کچھ ایسا نیا پن لے آئے جو پچھلے میں نہ ہو-
21   ویں صدی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صدی ہے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے دنیا کو سمیٹ کر ایک گلوبل ویلج میں بدل دیاہے ایک کلک کے ساتھ معلومات دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ جاتی ہیں- پچھلے 15 سالوں میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ دنیا میںایک عظیم انقلاب لے آئے محض 16 برس پہلے 1996 کے اوائل میں ،   جب میں امریکا کینیڈا اپنے پیاروں سے ملنے آ یء تو میرے بھاء نے مجہے انٹرنیٹ اور ای میل سے روشناس کیا اس سے پہلے بس اتنا  ہی واقف تھی کہ ایک نئی ایجاد ہوئی ہے    ‘ اسی کے ہمراہ ٹورنٹو کے شیرٹن ہوٹل میں انٹرنیٹ پر منعقدہ سیمینار میں شرکت کی-اسکو پیش کرنے والے مختلف افادیات ظاہر کر رہے تھے- ہم سمیت سب شرکا اسے اچھی طرح سمجھنے کی کوشش میں تھے –
مجہے سب سی زیادہ ای-میل نے متاثر کیا مجہے اسکی اشد  ضرورت بھی تھی  کیونکے  میرے بچے امریکا میں زیر تعلیم تھے -اس زمانے میں عام خط کو امریکا پہونچنے میں دس بارہ روز لگتے تھے ، ٹیلیفون کی کال بھی مہنگی تھی 3 منٹ کی کال 155   روپے   کی تھی – واپسی کی بعد پہلا کام یہ کیا کہ  IBM    کا ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر خریدا اور بیٹے نے اس پر ڈائیل اپ انٹرنیٹ  کی لائن لگوائی یہ غالبا  ISBDN کے نام سے ایک ادارہ تھا ،کلفٹن میں انکا دفتر تھا ،نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان میں یہ واحد اور اولین انٹرنیٹ کی سہولت مہیا کرنے والے تھے- ہم انکے معدود چند صارفین میں سے تھیاس زمانے میں ابھی عام لوگ اس سہولت سے ناواقف تھے- مجھے تو اسمیں بیحد لطف آیا اور بچوں سے ،بھاء سے باقاعدہ رابطہ استوار ہوا اسی کے ذریعے اہنے انگریزی مضامین بھی لکھے اور جب اخبارات کو یہ سہولت ملی تو بھیجنے شروع کیے،اس طرح کمپوٹر سے دوستی کچھ اتنی بڑھی کہ ایک جان دو قالب ہو گئے  !   اس سے پہلے بچوں نے ایک کمپیوٹر commodore 64  اپنے کھیلنے  کے لیے لیا تھاوہ پھر کسی کام کا نہیں رہا تو کسی کو دے دیا-
دیکھتے ہی دیکھتے اس عفریت نے پوری دنیا کو قبضے میںلے  لیا  – معلومات کا ایک ذخیرہ، ایک خزانہ,ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ھمارے انگلیوں کے پوروں تلے آگیا – کمپیوٹر کا ماس والٹ ڈزنی کے مکی ماس سے کہیں آگے بڑھ گیا  -نئی نئی اصطلاحات وضع ہوئیں اور زبان زد عام ھوئیں – سرمایہ کاروں کو نئے نئے کاروبار مل گئے پاکستان میں بھی کافی لوگوں نے انٹر نیٹ کمپنیاں کھول دیں -کیلیفورنیا امریکا میں پورا خطہ سیلیکون ویلی کے نام سے مشھور ہوا اور اب بھی ہے یہاں پر تمام مشہورIT کمپنیاں ہیں -،Yahoo, Google,Hewlett Packard,Cisco,Intel,Oracle,Apple, Facebook,Micron اور دوسری بے شمار چھوٹی بڑی کمپنیاں- ہزاروں لاکھوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے-میکرو سوفٹ نے اپنا صدر دفتر Seattle میں رکھنے کو ترجیح دی  – یہ تمام کاروبارایک  یا دوسری صورت میں کمپوٹر اور IT  کی صنعت سے وابستہ ہیں – Google اور Yahoo دو بڑے سرچ انجن کہلاتے ھیں جبکہ دوسرے بھی بے شمار ہیں –
سال  2000 میں جو خطرہ تھا اسکو Y2K کا نام دیا گیا تھا اس سلسلے میں جنوبی بھارت سے خوب لڑکے، لڑکیاں  امریکا آئے اسکے بعد  جنوبی   بھارت  نے   بھی اس صنعت میں خوب ترقی کی حیدرآباد کے قریب سائبر آباد بنا اوربنگلور میں تمام  مشہور کمپنیوں نے انکے ہنر سے فائدہ سستے داموں حاصل کرنے کے لئے اپنے دفاتر کھول دئے- اپنے پاکستان میں بھی ہنر اور ذہانت کی قلت نہیں ،پاکستانی بچے بھی کمالات دکھانے میں کسی  سے کم نہیں بہت سے بیرون ملک اور اندرون ملک اپنی اعلی کارکردگی دکھا رھے ہیں،نام اور دولت کما رہے ہیں جبکہ بہت سوں کی  ناگفتہ حالات نے  راھیں مسدود کررکھی ہیں – وقت کے ساتھ یھاں بھی اب کوء کمی نہیں نظر آتی- پچھلے سال میں نے دیکھا کہ زیادہ تر گھروں میں وائی فائی لگا ہواہے اور بچہ بچہ لیپ ٹاپ لیئے بیٹھا ہے-  یہ دوسری بات ہے کہ وہ کر کیا رہاہے؟PTCL کی سروس کافی تیز ہے ہاں لیکن اگر بجلی موجود ہو یا u ps کام کر رہا ہو؟ چین اسی ٹیکنالوجی کے پرزہ جات سستے داموں بناتے ہوئے آج ترقی کی شاہراہ پر کھڑا ہے -کوریا اور جاپان تو پہلے ہی ہائی ٹیک تھے-
مختلف تنظیموں نے اسے اپنے اچھے یا برے مقاصد فکر کے لیے استعمال کیا- اسلامی لحاظ سے دین کی ترویج اور تفھیم کے لئے انٹرنیٹ انتہائی کارآمد ثابت ہوا- میرا تعلق خواتین کی ایک تنطیم سے ہے اپنی اندیکھی بہنوں سے رابطہ قائم کرنے کے لیے اور اپنی علمی صلا حیتوں میں اضافے کے لئے’ ہم پال ٹاک ‘ہاٹ کانفرنس ‘ ویب نار Webinar ، سکائپ اور دوسرے ذرائع استعمال کرتے ہیں-ان کمروں(chat rooms) سے ہم خوب فائدہ اٹھاتے ہیں- اگر چہ اب اس جن کو قابو میں کرنے کی کوششیں ھو رہی ہیں لیکن اس کا حال بوتل کی جن جیسا ھو گیا ہے-
اب حالات بدل گئیڈاکئے اور خطوط کا انتظاراب ہماری زندگی سے خارج ہو گیا اب ای میل کا انتظار ہوتا ہے اگرچہ ڈاک اب بھی آتی ہے لیکن وہ یھاں کے بقول زیادہ تر جنک میل ہوتی ہے بہت کم کام کے خطوط ہوتے ہیں -ہاتھ سے
لکھی سطریں دیکھنے کو نظریں ترس جاتی ہیں زور اس پر ہے کہ ٹائپ کرنے کی رفتار کتنی ہے؟ امریکا میں  US Postal service  کی حالت خراب ہے اور دیوالیہ ہونے کے قریب ہے –
ہمارے بچپن میں قلمی دوستی پر زور ھوتا تھا بمشکل ایک دو قلمی دوست بن پاتے اب آن لائن دوستی کا زمانہ ہے ‘ یہ دوستی کہیں صرف ای میل اور گپ شپ ( چیٹنگ) تک ہے لیکن کبھی کبھار بات ذرا آگے بھی نکل جاتی ہے ، کچھ نادان غلط کاموں میں پھنس جاتے ھیں،جب کہ کء خشگوار رشتے بھی قائم ہو جاتے ہیں-  ہم ایک ای میل پر ہم بیشمار لوگوں کو شریک کر سکتے ہیں روزانہ کروڑوں، اربوں ای میل بھیجے جاتے ہیں -بنک ،کریڈٹ کارڈ کمپنیاں ہم سے درخواست کرتے ہین کہ سب حساب کتاب آنلائن ہو جائے اور ہم کاغذ بچا کر ماحولیات پر احسان کریں -مصارف کے بل آن لائن ادائگی کی سہولت ہے ، نمعلوم پاکستان مں یہ سہولت اب میسر ہے ورنہ سخت گرمی، چلچلاتی دھو پ میں لمبی لائنوں میں لگنا پڑتا تھا – ہیکرز جنکو ہمیں انٹرنیٹ چور کہنا چاہئے تاک میں لگے بیٹھے ہیں کہ وہ پاس ورڈ چرا کر آپکی معلومات چرا لیں خاص طور پر مالیاتی اداروں کی چوری ہمیں مشکلات میںڈال سکتی ہے -اسکا سد باب کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں-
انٹرنیٹ پر روزانہ اربوں ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے ،گھر بیٹھے آپ من پسند خریداری کر سکتے ہیں ہاں اگر بازاروں میں رلنے میں لطف آتا ہے تو علیحدہ بات ھے- ہزاروں لوگوں کا کاروبار ہی آن لائن ہورہا ہے اور وہ اس سے خوب کما رہے ہیں محض ایک کمپیوٹر اورانٹرنیٹ کنکشن چاہیئے-ہزاروں کمپنیاں صرف آن لائن بزنس سے وابستہ ہیں-
آجکل ویب سائٹ کا زمانہ ہے ہر ایک کا ویب بنا ہوا ہے اسکے اردو معنی مکڑی کے جال کے ہیںجس میں آپکو پھنسانے کی کوشش ہوتی ہے، لیکن انٹرنیٹ کی اپنی زبان ہے! بیشمار ڈاٹ کام ، ڈاٹ آرگ آپکو نظر آئنگے بلاگ ہیں اور نہ جانے کیا کیا ؟
اب اس بزم کو  ہی لے لیجئے، بقول اعجاز شاہین صاحب کے یہ گوگل کا سب سے بڑا فورم ہے ،ہزاروں افراد اسکے ممبر ہیں دنیا کے کونے کونے سے خواتین اور حضرات اس میں شامل ہیں- زیادہ تر شاعر حضرات ہیں ،خوب نوک جھونک چلتی ہے ، کہیں تعریف، کہیں تجزیہ اور تنقید – بھانت بھانت کے مزاج کے لوگ ہیں دو چار سے قدرے تعارف ہواہے- مجھے بھی خامہ فرسائی بلکہ کمپیوٹر فرسائی کا موقع ملا ہے- کچھ حضرات لیے دیے رہتے ہیں جب کہ چند دوستی بڑھانے کی کوشش میں ہیں- اکثر لوگوں کا یہ اعتراض بھی حق بجانب ہے کہ انٹرنیٹ میں سرفینگ کی سہولت سے علمی اور اخلاقی فوائد کے بجائے منکرات ہی کو فروغ حاصل ہو رہاہے انکی لت addiction سے شائد ہی کوئی انکار کر سکے- ہاں البتہ ہمیں یہ ضرور جانناچاہئے کہ انٹر نیٹ پر فحاشی و عریانی کے سیلاب سے بچنے کے لئے کیا تدابیر اختیار کی جا ئیں خاص طور پر بچوں کے لیے، کہ انکو کیسے بچایا جائے-انکو پاس ورڈ وغیرہ لگا کر parental control ہونا چاہئے اور سمجھا نا انتہائی ضروری ہے-

اپنا تبصرہ بھیجیں