تو رہ نورد ِشوق ہے منزل نہ کر قبول از

تو رہ نورد ِشوق ہے منزل نہ کر قبول از

راجہ محمد عتیق افسر
ایک بطلِ جلیل شیر کی ایک روزہ زندگی گیدڑکی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔ یہ  تاریخ ساز جملہ شیر میسور کاآخری خطاب ہے جو اس نے اپنے ان چاہنے والوں سے کیا جو اسے زندہ دیکھنا چاہتے تھے۔٤ مئی ١٧٩٩ء کے دن عیار دشمن کے ساتھ گھمسان کی جنگ میں وہ سورج ہمیشہ کے لیے گہنا گیا جس کی کرنوں نے بر صغیر میں آزادی کے شجرِسایہ دار کو جلا بخشی تھی۔ریاست میسور کا یہ شیرایک مجاہد حکمران حیدر علی کے گھر پیدا ہوا۔اس شہزادے کا بچپن کھلونوں سے کھیلنے کے بجائے جانبازی کی مشقیں کرنے میں گزرا۔جوانی میں جنگ کے میدانوں میں شجاعت کے جوہر دکھاتا اور فتح کے علم لہراتا رہا، عنان حکومت سنبھالی تو داخلی و خارجی محاذوں سے کامیابی سے نبرد آزما ہوا۔عیش وعشرت کے بجائے خدمت عوام کو مقدم جانا۔شیروں کی طرح جیا اور جب موت نے آواز دی تواسے بھی شکست دیتے ہوئے دیوانہ وار جام شہادت پی کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ہمہ پہلوشخصیتسلطان فتح علی خان ٹیپو ایک جر ی سپاہی، صاحب تدبیر جنرل، عوام دوست حکمران، بہتریں منتظم،شاعر، ادیب ، فلسفی اور موجد  نومبر ١٧٥٠ء میں ایک مجاہد حکمران حیدر علی کے گھرپیدا ہوا۔ بچپن سے ہی صاحب لیاقت ہونے کی وجہ سے کم عمری ہی میں وہ عربی ، فارسی ، انگریزی ، فرانسیسی، اردو، تامل اور کنڑی جیسی زبانوں پہ دسترس حاصل کر گیا۔اس نے علوم ِاسلامیہ، ریاضی اور سائنس میں بھی مہارت حاصل کر لی ۔ فن ِحرب و ضرب ، سپہ گری ، تیرافگنی، نیزہ بازی ،تفنگ اندازی، تیراکی میں بھی کما حقہ کمال حاصل کیا۔اسکے ساتھ ساتھ اس نے یورپی طرز ِحرب و ضرب سے بھی واقفیت حاصل کر لی تھی۔شہادت کے وقت اس کی ذاتی لائبریری میں مختلف زبانوں میں ٢٠٠٠ سے زائد کتب موجود تھیں ۔سرفروش مجاہد جانباز سپاہیسلطان ٹیپو بچپن سے ہی فن سپہ گری کا ماہر ہو گیا تھا ۔جوانی میں قدم رکھتے ہی اس نے اپنی سپاہیانہ مہارت کا لوہا منوا لیا۔کم عمری ہی میں اپنے والد حیدر علی کا دست راست بن کر جنگ کے میدانوں میں دشمن پہ اپنی دھاک بٹھا دی۔اسکے بدترین دشمن انگریز تو اس کے نام تک سے اس قدر خائف تھے کہ انگریز مائیں اپنے روتے بچوں کو چپ کرانے کے لیے کہا کرتیں : ”چپ ہو جاؤ ٹیپو آرہا ہے”۔`Tipu has come; be silent’وہ تلوار کا دھنی تھا اور ہمیشہ تلوار سے محبت رکھتا تھا ۔اس نے تلوار سے وفا نبھائی ۔ جسم سے روح کا تعلق ختم ہو جانے کے بعد بھی تلوار کے دستے سے اپنی گرفت ڈھیلی نہیں کی۔شہادت کے بعد اس کی لاش دوسری لاشوں کے درمیان دب گئی ۔ جب لاش کی پہچان مشکل ہو گئی تو خود انگریز جنرل نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ:”اسکی لاش کو تلاش کرو وہ بہادر اورتلوار سے محبت رکھنے والا شخص تھا  مر تو سکتا ہے مگر تلوار نہیں چھوڑ سکتا۔ جس لاش کے ہاتھ میں تلوار ہو گی وہی ٹیپو کی لاش ہو گی۔”چشمِ فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ واقعتا تلوار اسکے ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑی ہوئی تھی۔زندگی نے اس سے وفا نہ کی مگر اس نے تلوار سے وفا کی نئی ریت قائم کر لی۔سلطان کی دھاک انگریزوں پہ ایسی بیٹھی کہ وہ اسکے سائے سے بھی خوفزدہ تھے۔ ١٧٩٢ء کی جنگ میں انگریزنے نظام اورمرہٹہ کے تعاون سے ٹیپو کو شکست دی ۔ اس موقع پر انگریزسرنگا پٹم کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتے تھے مگر سلطان کی ہیبت ان پہ ایسی طاری تھی کہ انہوںنے صلح کر کے چل دینے میں ہی عافیت جانی ۔نصب العین سے جڑا انسانسلطان ٹیپو ایک دور اندیش سوچ کا حامل تھا وہ تاجر کے روپ میںبرصغیر آئے انگریزوں کی یہاں کے تخت و تاج پہ لگی نظروں کو بھانپ گیا تھا۔انگریزوں کی ایسٹ انڈیا کمپنی بڑی سرعت کے ساتھ سرمایہ کاری کرتے ہوئے برصغیر کے با اثر دل و دماغ خرید رہی تھی جو اس امر کی غماز تھی کہ اگرضمیر و ایمان فروشی کی اس تجارت کے سامنے بندھ نہ باندھا گیا تو عنقریب برصغیر کے تمام تر وسائل پر اہل یورپ قابض ہو جائیں گے اور اس خطے کے لوگ بد ترین غلامی میں جھونک دیے جائیں گے۔سلطان  نے اپنے والد حیدر علی کی طرح  اپنی زندگی کو ایک ہی مقصد کے لیے وقف کر دیا تھا اور وہ تھا اپنی سرزمین کو غیرملکی استعمار کے ناپاک عزائم سے پاک کرنا ،بیرونی جارحیت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر مزاحمت کرنااورمردانہ وار مقابلہ کرنا۔ صاحب تدبیر جرنیلاپنے مشن کے ساتھ والہانہ وابستگی اور اسکے حصول کے لیے تندہی سے جدوجہد کی وجہ سے فتوحات نے کم عمری ہی میںسلطان کے قدم چومنا شروع کر دیے ۔وہ ١٧٦٥ء  میں پہلی بارصرف  ١٥ /برس کی عمر میں سامنے آیا ،مالابار پہ حملہ آور ہوا اور محض دو تین ہزار کی جمعیت کے ساتھ اس نے دشمن کے بڑے لشکر کو حراست میں لے لیا۔اس کے بعدفتوحات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔وہ ہر بار ایک نئی حکمت عملی اور انوکھی چال کے ساتھ میدان میں اترا اور دشمنوں کے چھکے چھڑا دیے۔١٧٦٩ ء میں وہ منگلور میں انگریز فوج کے مقابل آیا ۔ اس کے پاس جنگی ساز و سامان کی قلت تھی مگر اس نے ایسی جنگی چال چلی کہ انگریز سپاہ کوکیل کانٹے کی برتری ہونے کے باوجود حواس باختہ ہو کر پیٹھ دکھانے پہ مجبور کر دیا۔ اس نے ٢٠ہزار سپاہیوں کو لکڑی کی بندوقین ہاتھ مین تھماکر انگریز توپخانے کے سامنے لاکھڑا کیا اور خود فوج کے دستوں کے ہمراہ انگریز لشکر پہ ٹوٹ پڑا۔ انگریزوں کو زبردست شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔اسی طرح ١٧٨٠ء میں کرنل بیلی کو شکست دے کر اسے گرفتار کر لیااس ضرب کاری نے انگریز کی کمر توڑ کر رکھ دی۔اس طرح نظام اور مرہٹہ کی افواج کو بھی ناکوں چنے چبوائے اور دیگر باغیوں کے ساتھ بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹا۔عوام دوست حکمرانسلطان ٹیپو  مرد آہن ہونے کے باوجود دیگر سلاطین کی طرح جہانگیری کا طلبگار نہ تھا۔ اس نے اقتدارسنبھالتے ہی عوام کی فلاح و بہبود کو مقدم جانا اور اس کے لیے عملی اقدامات کیے۔اس نے نیاکیلنڈر جاری کیا، نئے حکومتی شعبہ جات قائم کیے اور ہر ایک کے لیے امیر مقرر کیا۔ نئے سکے کا اجراء ہوا جس پہ سلطنتِ میسور کی چھاپ تھی ۔اس نے زرعی ملک ہونے کے ناطے زراعت پہ خاص توجہ دی ۔ زرعی اصلاحات نافظ کیں اور دریائے کاویری پہ ڈیم بنوایا۔صنعت و تجارت کو فروغ دیا ۔ تجارتی بیڑا بنایا اور دیگر ممالک سے تجارت شروع کی۔ جہاز سازی کی صنعت شروع کی ۔ اسکے علاوہ ریشم اور گھڑی سازی کی صنعت کو بھی فروغ دیا۔فوجی نظم ونسق کو بہتر بنانے کے لیے قوانین بنائے، فوجی قوائد وضوابط پہ کتاب لکھی ۔فوج کو منظم کیا، اسکی رجمنٹیں بنائیں اور تنخواہیں مقرر کیں ۔فوج کی جدید خطوط پہ تربیت کی غرض سے فرانسیسی ماہرین سے استفادہ کیا اور فرانسیسی فوجیوں کو اپنی فوج کا حصہ بنایا۔سلطان  فرانسیسی طرز کا جمہوری نطام ملک میں متعارف کراناچاہتاتھا ۔ اس سلسلے میں اس نے اختیارات وزرا ء کو منتقل کیے تھے مگر شاید یہ قوم اس وقت اس کے قابل نہ تھی۔ وزراء کو اختیارات کی بہتات ہضم نہ ہوئی اور ان کے غلط استعمال نے نہ صرف ملک کو ایک بہترین حکمران سے محروم کیا بلکہ اس ملک کی نسلوں کو بھی غلامی کے اندھیروں میں جھونک دیاجس سے ہم تاحال نکل نہ سکے۔ بیدار مغز حکمرانسلطان ٹیپو نے نا مساعد حالات میں عنان ِحکومت سنبھالی تھی اس وقت ایک طرف تو وہ خارجی عناصر کا مقابلہ کر رہا تھا تو دوسری جانب اسے اندرونی انتشار اور سازشوںکا مقابلہ کرنا پڑرہا تھا ۔ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے اس نے اپنی فہم وفراست سے کام لیا اور انگریز سامراج سے مقابلہ کرنے کے لیے بین الاقوامی حکمت ِعملی ترتیب دی۔ اس کی کوشش تھی کی تمام عالمِ اسلام کو انگریز کے خطرے سے آگاہ کیا جائے اور ملت اسلامیہ باہمی اتحاد و اتفاق سے اس عفریت کا مقابلہ کرے۔ اس ضمن میں اس نے عثمان خان کی قیادت میںخلافت عثمانیہ کی طرف سفارت بھیجی جو حوصلہ افزارہی۔اسکے بعدمیر غلام علی کی قیادت میں سفارتی وفد بھیجا۔ خلافت عثمانیہ نے سلطان کو پروانۂ سلطنت جاری کیا۔اسی طرح افغانستان اورایران کی آزاد حکومتوں کی جانب بھی سفارتی وفود بھیجے جنہوں نے حوصلہ افزا نتائج برآمد کیے ۔جن دنوں سلطان ٹیپو انگریزوں کے دانت کھٹے کر رہا تھا انہی دنوں فرانس کا نیپولین بھی انگریز کے مقابلے میں مرد آہن بنا ہوا تھا ۔ سلطان نے انگریز کے دشمن کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ۔ فرانس کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کیے ۔ اپنی فوج میں فرانسیسی افسران تعینات کیے تاکہ فوج کو یورپی طرز جنگ کیمطابق تربیت دی جائے۔نیپولین سے فوجی تعاون کا معاہدہ بھی کیا جس کے مطابق مصر میں انگریز سامراج کو شکست دینے کے بعد فرانسیسی افواج نے میسور کی فوج کے ساتھ مل کر انگریزوں کا قلع قمع کرنا تھا۔ مگر ایسا نہ ہو سکا کیونکہ فرانس کو دیگر محاذوں پہ شکست کا سامنا کرناپڑا۔اسکے علاوہ سلطان نے اپنی ہمسایہ ریاستوںسے اچھے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی اور یہ باور کرانے کی بارہا کوشش کی کہ آپس کے اختلافات مٹا کر بیرونی سامراج کا مقابلہ کیا جائے ۔مگر مال وزر نے انہیں انگریز کا زرخرید بنا رکھا تھا ۔ ان کی آنکھوں پہ بندھی ہوس کی پٹی نے اس روشنی کوانکی سیاسی بصیرت پہ پڑنے سے روکے رکھا ۔اسکانتیجہ یہ نکلا کہ انگریز کامقابلہ کرنے کے لیے سلطاناکیلا رہ گیا۔لیکن اقتدار نے ان عاقبت نااندیش حکمرانوں سے بھی وفا نہ کی اور تمام ہندوستان انگریز کی بدترین غلامی میں جکڑا گیا۔مرد مؤمن مرد حقسلطان ٹیپو ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھا۔ وہ دین ِاسلام کو ساتھ سچا لگاؤ رکھتا تھا۔دین اسلام کے فروغ کیلیے اس نے عملی اقدامات اٹھائے۔وہ پسند نہیں کرتا تھا کہ لوگ تعظیما اسکے آگے جھکیں اس لیے اس نے اپنی تعظیم میں جھکنا منع کر رکھا تھا۔اسی طرح اس نے عورتوں کے لیے پردے اور چادراوڑھنے کا حکم دے رکھاتھا۔دعوتی مہمات کے ذریعے لاکھوں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔اپنے گورنر بدرالزماں کولکھے ایک مراسلے میں سلطان  رقمطراز ہے کہ ۔” میں نے مالابار میں بڑی فتح حاصل کی ہے اور چار لاکھ سے زائد افراد نے اسلام قبول کر لیا ہے۔” تعلیم کے لیے اردو اور فارسی کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا۔حکومتی اداروں میں عربی مصطلحات کو رواج د یا گیا۔جیسے”خطا”، ”سند”، اور ولدیت کے لیے ”بن” کا استعمال وغیرہ۔شہروں کے نام اسلامی طرز پہ رکھے جیسے دیوانہلی کو یوسف آباد، میسور کو ناصرآباد، دندیگل کو خالق آباداور کالی کٹ کو اسلام آباد کے ناموں سے موسوم کیا ۔مذہبی رواداری کاپیکرسلطان دین اسلام سے گہری محبت رکھتا تھامگر اس نے دیگرمذاہب ِعالم کے ساتھ رواداری کا عملی ثبوت دیااور ملک میں ہم آہنگی کی فضا قائم کی ۔ اس نے میسور کی حکومت میں ھندو وزرا ء تعینات کیے۔ ملازمتوں میں ہندوؤں کو بھرپور حصہ دیا ۔اس نے ہندو مندروں کی تعمیرومرمت کے لیے رقوم جاری کیں ۔ مذہبی عبادت گاہوں کے لیے وظائف مقرر کیے اورمذہبی پیشواؤں کو تحائف سے نوازا۔میسور میں پہلا چرچ سلطان ٹیپو نے خود تعمیر کرایا جس کا مقصدفرانسیسی قوم کے ساتھ پائدار تعلقات استوار کرنا تھا۔  موجد ومخترعجو شخص اپنے مقصد سے قلبی وابستگی اورلگاؤ رکھتا ہو وہ اسکے حصول کے لیے راہیں تلاش کرتارہتا ہے ۔ اور اگر وہ علم ودانش سے مسلح ہو تو پھر ستاروں پہ کمندیں ڈال دیتا ہے۔انگریزاستعمار کے خلاف مزاحمت اور انہیں برصغیر سے نکا ل باہر کرنے کے مقصد کے ساتھ جنون کی حدتک لگاؤ نے سلطان کوموجد ومخترع بنا دیا۔ سلطان ٹیپو  نے میزائل ٹیکنالوجی کی بنیاد رکھی ۔یہ میزائل  فولادی تلوار یا خنجر کی ہیئت کے ہوتے جن کے دستے کی جگہ فولادی نلی ہوتی تھی۔ اس نلی میں بارودبھرا ہوتا تھا۔ فتیلے کے ذریعے انہیں آگ دکھائی جاتی تو یہ اڑتی تلواریں دشمن پہ جا برستیں اور شدید جانی و مالی نقصان کرتیں ۔ اسکے لیے فوج میں علیحدہ بریگیڈ (کشون) کے نام سے قائم تھا۔ جسکے مختلف دستوں میں ہمیشہ ١٥٠٠ سے ٦٠٠٠ تربیت یافتہ اور ماہرسپاہی خدمات انجام دیتے تھے۔یہ میزائل دو کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔انگریزوں نے اس افتاد کا سامنا اس سے قبل کبھی نہ کیا تھا۔ٹیپو سلطان کو میزائل ٹیکنالوجی کے موجد کا اعزاز حاصل ہے۔

دفاع وطن کے لیے بحریہ (نیوی) کی اہمیت مسلّم ہے۔ سلطان نے دفاعی استعداد بڑھانے کے لیے بحری بیڑا تشکیل دیا جس کا امیر البحر مقررکیا۔ امیرالبحرکے تحت مشاق کمانڈروں کی ایک کونسل ہوتی تھی۔ اسکے بحری بیڑے میں ١٣٥/ توپوںسے مسلح٤٠ چھوٹے بڑے بحری جہاز شامل تھے۔ہندوستان میں بحری بیڑا سلطان ٹیپو کی اختراع تھی۔سلطان  نے سمندری جہازوں کو مقناطیسی چٹانوں کے اثرات سے تباہ ہو نے  سے بچانے کے لیے لوہے کی جگہ تانبے سے تیار کردہ پیندے کا استعمال کروایا ۔اس طرح تانبے کے پیندے والے جہازبھی سلطان ٹیپو  کی ایجاد ہے۔اگر سلطان ٹیپو جیسے حکمران کو مزید وقت ملتا تو شاید دنیاکچھ اور ایجادات سے مستفید ہوتی ،چاند پہ انسانی قدم بہت پہلے رکھاجا چکا ہوتااور آج انسان ستارون پہ کمندیں ڈال رہا ہوتا۔کردار کا غازیاپنے معاصر حکمرانوں پر سلظان ٹیپو  کو اخلاقی برتری حاصل تھی ۔ وہ قول کا سچا ، ایفائے عہد کا پابند، محب وطن ، خوددار اور سپاہیانہ کردار کاحامل تھا۔وہ شراب وکباب اور عیش و عشرت سے دور بھاگتا تھا اسی لیے اس کے دل و دماغ کو نہ کوئی مرعوب کر سکا نہ ہی مرغوب۔ ١٧٩٢ء میں سلطان کوانگریز اور انکے اتحادیوں سے ہزیمت اٹھانا پڑی جس میں اسکا نصف ملک دشمن کے قبضے میں چلا گیا ۔ اسے مالی تاوان بھی ادا کرنا پڑا ۔ ملک اقتصادی بدحالی کے قریب ہو گیا مگرسلطان  نے اس صورتحال میں بھی کچکول پھیلاکرغیروں سے بھیگ مانگنے کے بجائے خودداری اور ہمت سے کام لیا اور صرف ٥ برس میں مالی بحران کا قلع قمع کر دیااور اپنی جنگی استعداد کار کو دوبارہ اس قابل بنا دیا کہ دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے ۔کاش کہ ہمارے موجودہ حکمران بھی خودداری اورحمیت کی لاریب حقیقت سے آشنا ہو جائیں ۔سلطان ، نیپولین کا ہم عصر تھا ۔ دونوں انگریز سامراج کے لیے خارِ گلو بنے ہوئے تھے ۔ دونوں ہی کی دہشت انگریز پہ طاری تھی ۔ دونوں اگریز سامراج کے خلاف چٹان کی صورت مزاحم تھے ۔ آخری دِنوں میں دونوں کے گرد انگریزوں نے محاصرہ تنگ کردیا اور دونوں کو اپنی زندگی اورموت کافیصلہ خود کرناپڑا۔ مگر دونوں کا انجام کار مختلف رہا۔ جب نیپولین کے خلاف گھیرا تنگ ہوا تو اس نے جان کی امان پا کر ہتھیار ڈال دیے اور انگریز کی قید میں جینے کو ترجیح دی۔ اسکی موت انگریز کی قید میں واقع ہوئی ۔ جبکہ سلطان ٹیپو  کو آخری وقت میںدورانِ جنگ ایک جان نثار نے کہاکہ حضور آپ ہتھیار ڈال دیجئے آپ کی جان بچ جائیگی۔ مگر سلطان نے اس وقت بھی ایک تاریخی فقرہ کہا جو اسے ہمیشہ کے لیے امر کر گیا ۔ سلطان کا آخرہ فقرہ تھا:”شیر کی ایک روزہ زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔”  اس نے غلامی و ذلت کی زندگی پہ عزت کی موت کو ترجیح دی۔بقول شاعر کیا سوچ کے بنائیں شاخ ِگل پہ آشیاں اپنا چمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہنانیپولین کو مغربی دنیا میں ایک حکیم کی حیثیت سے کافی پزیرائی ملی اور اسکے اقوال و فرمودات حکمت و فلسفے کا خزانہ سمجھے جاتے ہیں ۔ لیکن نیپولین کے تمام تر اقوال و حکایات کو جمع کر کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسری جانب سلطان کا آخری مقولہ رکھاجائے توبلا شبہ سلطان کا پلڑا بھاری رہے گا۔کیونکہ سلطان نے جو کہا خود کر کے دکھایا۔ایک مرد مومن کی شان ہے کہ وہ اپنی اخلاقی برتری ہر حال میں برقرار رکھتا ہے۔  دانائے رازسلطان ٹیپو  نے دنیا سے جاتے جاتے قوم کو ایک فلسفۂ حیات دے دیا۔جو اسکے آخری جملے سے ظاہر ہوتا ہے ۔اور وہ نہایت آسان فہم مگر مشکل العمل ہے ۔ یعنی اپنی آزادی و خودمختاری کا ہر قیمت پہ دفاع کرو۔خود داری اپناؤ اور دوسروں کی غلامی ہرگز قبول نہ کروکیونکہ بے کار زندگی ہے سہاروں کی زندگی۔ سو چا ہے قتیل اب کچھ بھی ہو ہر حال میں اپنا حق لیں گے  عزت سے جیے تو جی لیں گے یا جام شہادت پی لیں گے۔یہ پیغام ہے ہمارے موجودہ حکمرانوں کے لیے کہ وہ اپنے مفادات کے لیے اغیار کی چالوں میں نہ آئیں اور ان کا کھلونا نہ بنیں بلکہ اپنی ملی حمیت اور قومی وقار کی خاطر اگر جان بھی دینا پڑے تو اسکی پروا نہ کریں۔اپنے ملکی وقار کو گروی رکھ کر کوئی فیصلہ نہ کریں ۔کسی عالمی طاقت کی ایک ہی ٹیلیفون کال پہ ڈھیر نہ ہو جائیں ،نہ ہی اپنے ملک کے باسیوں کے قتل ناحق کی اجازت دیں اور نہ ہی اپنی سرحدات کو عبور کرنے کی کسی کو اجازت دیں بلکہ ڈٹ کر سامراج کا مقابلہ کریں ۔اس جملے میں زندگی کا ایک قیمتی راز پنہاں ہے ۔اسی جملے کو علامہ محمد اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے بیان کیا ہے اور سلطان ٹیپو کی وصیت کے نام سے نظم لکھی ہے جو سلطان کے پیام زندگی کا حاصل بحث ہے۔ تو رہ نوردِ شوق ہے منز ل نہ کر قبول  لیلٰی بھی ہم نشین ہو تو محمل نہ کر قبول اے جوئے آب !بڑھ کے ہو دریائے تند وتیز ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کرقبول کھویا نہ جاصنم کدۂ کائنات میں  محفل گداز! گرمیٔ محفل نہ کر قبول صبح ازل مجھ سے کہا جبرئیل نے جو عقل کا غلام ہووہ دل نہ کر قبول  باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے  شرکت میانہ ٔ حق و باطل نہ کر قبول  وائے ناکامی متاع کارواں جاتا ریاسلطان ٹیپومردِ میدان تھا وہ جنگ کے میدانوں میں ناقابل تسخیر رہا ۔اسے دنیاوی طاقتیں اپنے آگے سرنگوں نہیں کر سکی۔وہ چٹان بنا آندھیوں اور طوفانوں کو روکتا رہا،اور بندھ بنا طغیانی کو روکتا رہا۔اگر اسے تقدیر سے کچھ مہلت مزید مل جاتی تو شاید برصغیر کی سیاسی تقدیر میں غلامی کا بدنما دھبہ کبھی نہ لگتا۔ مگر جس قوم کے چند ضمیر فروشوں نے ملت کے لہو کاسودا کر لیا ہو اس قوم کو غلامی کی تاریکیوںمیں گم ہو جانے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ہمارے قلعوں کو کوئی بھی فاتح باہر سے فتح نہیںکر سکا افسوس صد افسوس کہ ہمارے قلعے ہمیشہ اندر سے کھلے ۔جہاں کردار کے غازی ہوتے ہیں وہاں ایمان فروش بھی اپنے مردہ ضمیر کی دکان سجائے بیٹھے رہتے ہیں ۔ شیر کی کچھار کے قریب گیدڑ بھی اس تاک میں ہوتے ہیں کہ کب شیر آنکھوں سے اوجھل ہو اور یہ اس کے پس خوردہ سے لطف اٹھائیں ۔سلطان نے جن وزراء پہ اعتماد کر کے انہیں اختیارات تفویض کیے انہی نے آستیں کا سانپ بن کر ڈھسا۔میر صادق اورپورنیا جیسے وزراء نے سازشوںکے جو جال بچھائے سلطان ان کی نذر ہو کر اپنی عاقبت سنوار گیا۔ان ایمان فروشوں کے ہاتھ ذلت کے سوا کچھ نہ آیا فائدہ انگریز سامراج کو ہوا جو کچھ ہی عرصے میں بلا شرکتِ غیرے تمام برصغیر پہ قابض ہو گیا۔انگریز نہیںچاہتے تھے کہ دوبارہ اس نوع کی شخصیت سے ان کا سامنا ہو لہذا انہوں نے برصغیر پہ تسلط کا سپنا پورا ہونے کے بعد اقتدار کو طول دینے کے لیے معاشرے کو تقسیم در تقسیم کر دیا۔تاکہ لوگ خود ایک دوسرے کا استحصال کرتے رہیں اور یہاں کے وسائل سے انگریز فائدہ اٹھاتے رہیں۔انہوں نے دوسری جانب لارڈمیکالے کا وضع کردہ نظام تعلیم رائج کیا جس کا مقصد تعلیمی اداروں کو ایسی نرسریاں بنانا تھا جہاں میر صادق اور میر جعفر کی پنیریاںتیار کر سکیں ۔وہ اس مقصد میں کامیانب بھی رہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہی میر صادق و میر جعفر ہر شعبۂ زندگی میں اپنے مردہ ضمیرچند ٹکوں میں فروخت کر کے ملک و ملت کی رگوں کا لہو چوس رہے ہیں ۔کہیں راشی افسران کی صورت میں ، کہیں طالع آزما جرنیلوں کی صورت میں ، کہیں نا اہل حکمرانو ں کی صورت میں اپنے قومی مفاد کا سودا کرتے نطر آتے ہیں ۔ ملی حمیت کا پاس کیے بغیر ایک ہی اشارے پہ اپنی سرزمیںتک دشمن کے حوالے کر دیتے ہیں۔کچکول لیے دیار غیر جاتے ہیں اور اپنی قوم کو گرو ی رکھ کر اپنے لیے آب و دانہ کا اہتمام کرتے ہیں ۔اگر ہم باوقار زندگی جیناچاہتے ہیں تو ضرورت اس امر کی ہے کہ انگریز کے وضع کردہ نظام زندگی کو یکسرتبدیل کر کے اپنی اقدار پہ مشتمل نظام زندگی قائم کریں تب ہی ہم سلطان ٹیپو کی وصیت پہ عمل پیرا ہو کر دنیا میں اپنے زندہ و آفاقی کردار کا لوہا منوا سکیں گے بصورت دیگر ہماری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں ۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں