ترقی کے نام پر تہذیب و ثقافت، معاشرتی، اخلاقی او رمذہبی اقدار مسخ ہوگئے

 

ترقی کے نام پر تہذیب و ثقافت، معاشرتی، اخلاقی او رمذہبی اقدار مسخ ہوگئے
میڈیا میںذمہ دایاں پوری کرنیکی بجائے معاشرے میں غلط روایات کوجنم دینے کی دوڑ
نوجوان نسل کا مستقبل تو درکنار حال ہی دائو پر لگ گیا ‘کوئی تو ہو جو اس کی فکر کرے
رومانہ فاروق:
romanafarooq@hotmail.com
دورحاضر کو اگر مقابلے کا دور کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔کیونکہ جسے دیکھو وہ اس دوڑ میں سرپٹ وبے لگام نظر آئے گا تاکہ وہ اپنے حریفو ں کو چاروں شانے چت کر کے ترقی وشہرت کے جھنڈے گاڑ سکے اور بنا کسی نقصان کی پروا کیے اپنی جیبوں کو گرما سکے۔اس حوالے سے اگر میڈیا کی بات کی تو ان پر یہ بات سولہ آنے فٹ بیٹھتی ہے کہ وہ ستاروں پر کمند ڈالنے کے لیے کمر بستہ ہیں اور بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کو بھی تیار ہیں۔ہم ان کی برق رفتاری پر کو ئی اعتراض تو نہیں کر سکتے لیکن یہ سوال پوچھنے کا حق تو رکھتے ہیںکہ کیا دور حاضر میں میڈیا اپنی تمام تر ذمہ داریوں سے عہدہ برآں ہو رہا ہے ؟؟لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ فی زمانہ میڈیا نے بہت سی ذمہ داریاں اٹھا رکھی ہیں۔یعنی ملکی وبین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والے حالات وو ا قعات سے فی الفور با خبر کرنا ہے اور عوامی مسائل و مطالبات کو منظر عام پر لانا ہے مگر جب اسی میڈیا کی بات ثقافت و اقدار کے ساتھ ساتھ اخلاقی ،مذہبی اور معاشرتی پہلو سے کی جائے۔ تو اس میں غفلت کا عنصر یکسر نمایاں ہے۔ اسکی ایک بڑی وجہ بڑھتے ہوئے پر ائیوٹ چینلز کی بھرمار ہے۔ تو دوسری طرف میڈیا کی روز بروز بڑھتی آزادی سونے پر سہاگہ ہے۔ جس نے ہماری آنکھوں پر دبیز، مخملی، خوشنما، جھملاتی، سحرانگیز اور ہوش رُبا پٹی باندھ دی ہے، کہ ہمیں ملک دشمن عناصر نظر ہی نہیں آ رہے۔جو ہماری اقدار کوکمزور اور ہماری جڑوں کو کھلا کھلا کر رہے ہیں۔
مزید کچھ لکھنے سے پہلے اگر آج کے میڈیا اور ماضی کے میڈیا کا مختصراً جائزہ لیا جائے۔ تو ہمیں واضح تضاد نظر آئے گا۔ ماضی میں نشر ہونے والے پروگرامز میں مقصد یت نظر آتی تھی۔ ان میں اپنی اقدارکا پر چار ہو تاتھا،جن میں تعمیری سوچ ، فلاحی اصلاحی اور با مقصد سر گرمیاں نوجوان نسل کے طرز عمل میں مثبت تبدیلیاں پیدا کرتیں۔ ڈرامے بھی ایسے کہ تمام اہل خانہ اکٹھے دیکھتے اور محظوظ ہوتے تھے۔ مزاح ہونا یا محبت،یا پھر کوئی معاشرتی برائی، لیکن کھبی بھی اخلاق کا دامن نہ چھوڑا جاتا تھا۔ بہترین دستاویزی پروگرامز دیکھا ئے جاتے تھے۔ تنقید برائے تنقید کی بجائے تنقید برائے اصلاح ہوتی تھی۔ بچوں کے لئے بھی ایسے پروگرامز تر تیب دیے جاتے تھے۔ جن میں دلچسپ کھیل کود کے طریقے ، وقت گزاری کے مشاغل اور تخلیقی صلاحیتوںکو ابھارنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ لیکن وقت کے اس بہتے دھارے میں شب وروز کی تقسیم سے تبدیلی جو تبدریج اپنا راستہ بناتی رہتی ہے۔ اس تیزی سے الیکٹرانک میڈیا پر اثر انداز ہوئی ہے۔ جس سے اندازہ ہوتاہے کہ یہ تبدیلی کم اور سوچی سمجھی سازشیں زیادہ ہیں۔ وہی سازش جسکا اظہار کانگریس لیڈر سونیا گاندھی کر چکی ہیں۔ ”کہ بھارت میڈیاکے ذریعے پاکستانی ثقافت پر حملہ کرے گا” اوریہ سچ ہوا کیونکہ یہ حملہ دودھاری تلوار سے کیا گیا۔ ایک کیبل اور دوسرا میڈیا جس سے ہماری ثقافتی اقدار اخلاقی ، معاشرتی اور مذہبی پہلوئوں میں بھونچالی تبدیلی رونما ہوئی۔جسکا اثر ہمیں ہر پروگرام میںنظر آتا ہے۔پھر وہ چاہے نیوز بلیٹن ہویا مورنگ شوز٫ڈرامے ٫ قومی دن کے حوالے سے نشر کیے جانے والے پروگرامزیا پھر کمرشلز ۔۔۔ سب کے لیے بھارتی Celebrities کا ذکراور اس کا کلچر شہرت وکامیابی کی کنجی ہے۔اور اسی کنجی کو مورنگ شو کی ایک میزبان نے کچھ اسطرح استعمال کیا کہ نہ صرف اسٹار پلس کے ڈراموں کے نام سے کئی شوز کیے بلکہ اپنے سیٹ اور پہناوئے کو بھی بدلتی رہیں۔جبکہ اسی چینل سے نشر ہونے والا شو دیسی گھٹریاں سے اس افسوسناک  پہلوکی نشاندہی ہوتی ہے کہ نقل میں بھی عقل کا فقدان ہے۔
ڈراموں کے حوالے سے صد فیصد سچائی یہ ہے کہ اسی لمحہ با لمحہ تبدیلی نے ہمارے اصلاحی ڈراموں کا رخ سازشی ڈراموں کی طرف جوڑ دیا جس نے عورت کا تقدس مجروح کر دیا۔ کم وپیش ہر ڈرامے میں اسکا کر دار ولن ہی کا ہوتاہے کیونکہ کبھی اسے مجازی خدا سے خلاصی پانے کے حیلے بہانوں میں دیکھایاجاتا ہے۔ تو کبھی سسرالیوں کے خلاف سازشی تانے بانے بنتے کبھی نا پسندیدہ بہو سے چھٹکارا پانے کے لئے گری سے گری حرکت کرتے بھی دیکھا یا جاتاہے۔ اور اب تو بات جادو ٹونے اور تعویذی عمل تک جا پہنچی ہے جس نے عورت کے ہر رشتے کو دھندلا کر رکھ دیا ہے۔ عشق و محبت کو ایک تماشا بنا کر دیکھایا جا رہا ہے۔ نوجوان نسل تو دور کی بات ٹھہری یہاں تو میاں بیوی کے غیر مردوں اور عورتوںکے لئے جذبات کی اس طرح عکاسی کی جاتی ہے جو باعث شرم ہے کہیں جوان سال لڑکے لڑکی کا ادھیڑ عمر مردو عورت سے عشق و عاشقی فرمانا اور کبھی کسی دوسرے کی محبت کے لئے اپنے شوہر و بچوںکو چھوڑنا ایسے دیکھا جاتاہے کہ جیسے یہ سب معمولی اور معمول کی باتیں ہوں۔ بچوںکی والدین سے تکرار اور بغاوت نوجوان نسل کو گمراہ کر رہی ہے۔ یعنی بالفاظ دیگر۔۔۔گلیمر ٫بناوٹ اور مادہ پرستی کی تشہیر بنا حدودوقیود ………..
اب بات اگر مزاح کے حوالے سے کی جائے۔ تو اس میں بھی وہی طنز و مزاح نظر آئے گا۔جو ہمارے پڑوسی ملک کا حال ہے۔ یعنی مذہب و اخلاق کی حدود کراس کرتا ہوا ۔ جس میں رشتوںکو بالائے طاق رکھ کر ایسی ذومعنی مذاق کیا جاتا ہے جو Rating تو بڑھا سکتاہے مگر اخلاقی تر بیت نہیں ہو سکتی کیونکہ میڈیا انہیں ڈراموں کے ذریعے غلط اور غیر اخلاقی حرکتوں اور فیصلوںکو مثبت اندا زمیں پیش کر رہا ہے۔ اگر یہ سب کچھ ڈراموں تک محدود ہوتا تو شاید قابل برداشت ہوتا مگر یہاں تو پانی سر سے اوپر پہنچ چکا ہے۔ کسی بھی قسم کا پروگرام دیکھ لیں۔ اپنا کلچر نا پید اور پڑوسی ملک کے کلچر کا غلبہ جبکہ باقی رہی سہی کمی بگ باس اور فلمیں لگا کر پوری کردی جاتی ہے۔ کیا بگ باس میں دیکھائے جانے والے سین او رکی جانے والی گفتگو ایسی ہوتی ہے کہ آپ اپنے بچوںکو دیکھا سکے یا پھر فلمائے گئے عشق و عاشقی اور ریپ کے سین ایسے ہوتے ہیں کہ پوری فیملی بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے۔ آپ ہمیں دقیانوسی مت سمجھیں۔ حقیقت میںہم بھی ترقی و تبدیلی کے اتنے ہی خواہاں ہیں جتنے آپ سب ہیں مگر ایسی ترقی و تبدیلی جو صرف اپنے دست بازو اور عقل و شعور سے کی جائے نہ کے دوسروں کی انگلی پکڑ کر۔ لہذا ابھی بھی وقت ہے میڈیا اپنی ذمہ دار یوںکا احساس کر یں اپنی تہذیب و ثقافت، معاشرتی، اخلاقی او رمذہبی اقدار کا تحفظ اور ترویج کو اپنا اولین فرض سمجھیں۔ اور مثبت تخلیق کو وسعت دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں