تارکین وطن ملازمین کے قانون

اوسلو میں آئی اوایم کی تنظیم برائے تارکین وطن نے بینالاقوامی دن برائے تارکین وطن منایا۔فرانسس سوڈا نے اس موقع پر تارکین وطن کو حقوق فراہم کرنے کے موضوع پر گفتگو کی۔انہوں نے تارکین وطن ملازمین کی زندگیوں کو قیمتی اور گرانقدر قرار دیا۔
انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ کسی نئی جگہ پر نقل مکانی کرنا ہمیشہ شہبات سے پر ہوتا ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہاں نئے مواقع بھی ملتے ہیں۔جبکہ نقل مکانی خالصتاًبہتر مالی حالت کے لیے ذیادہ تر کی جاتی ہے۔لیکن اس کے اتھ ساتھ نئے ماحول حالات اور معاشرے میں ایڈ جسٹ ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔یہ بیان اطالوی نثراد فر انسسکو سوڈا نے ایک مقامی ملٹی کلچرل اخبار سے گفتگو کے دوران دیا۔
francisفرانسسکو کا جینیوا میں دفتر ہے اور وہ تارکین وطن کے لیے کئی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔اس میں تارکین وطن کے لیے روزگار کی تلاش،مالیاتی امور اور وطن واپسی جیسے معاملات شامل ہیں۔ان کے نزدیک دوسرے مالک کی جانب نقل مکانی کرنے والے افراد کے معاملات کو غیر سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ہم اس بات کو اہم سمجھتے ہیں کہ تارکین وطن کی صلاحیتوں کو مقامی ملازمتوں کی مارکیٹ میں کیسے ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔جب بھی مقامی طور پر روزگار کی نئی اصلاحات ور قوانین نافذ کیے جاتے ہیں تارکین وطن افراد کی باری سب سے آخر میں آتی ہے۔ہمیں ان لوگوں کے مسائل کو حل کرنا چاہیے جس میں ملازمین اپنی ملازمتوں کو یقینی بنانے کے لیے اور تحفظ حاصل کرنے کے لییقرضہ پر رقم حا صل کرتے ہیں۔
سن 2013 کا سال اس لحاظ سے نا خوشگوار رہا کہ اس دوران روزگار کی تلاش میں بیرون ملک روانہ ہونے والے افراد جوہلاک ہوئے ان کے اعداد و شمار جاری کیے گئے۔اس سلسلے میں تارکین وطن صحرائوں سمندروں اور سمندروں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
غریب ترین علاقوں کے لیے امیگریشن کے قوانین سخت ترین کر دیے گئے ہیں۔جبکہ اس دور میں بتیس ملین سے ذیادہ افراد روزگار کے سلسلے میں اپنے آبائی ممالک سے دور رہتے ہیں۔
کچھ ترقی یافتہ ممالک صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ملازمین کو ہی اہمیت دیتے ہیں۔جسکا نتیجہ امیگریشن کے سخت قوانین اور ملازمتوں کے محدود مواقع کی صورت میں نکلتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں