بزرگ دوست

بزرگ دوست

سید ذاکر علی عبیداللہ کیہر

ہماری ٹیکسی قدیم استنبول کے گلی کوچوں اور بھول بھلیوں میں چکراتی ہوئی بالآخر عثمانی فرماں روا سلطان احمد کی تعمیر کردہ نیلی مسجد کے قریب پہنچ گئی۔ قدیم عمارتوں کے پیچھے سے بلند ہوتے ہوئے نیلی مسجد اور ایا صوفیہ مسجد کے گنبد و مینار بار بار ہمیں جھانک کر دیکھ لیتے تھے۔ ایک گلی کے خاتمے پر اچانک نگاہوں کے سامنے سبزہ و گل سے ڈھکا ہوا ایک وسیع میدان آگیا۔ سرسبز روشوں کے گرد قطاروں میں کھڑے گھنے درخت لطیف ہوا میں ہلکورے لے رہے تھے، کیاریوں میں رنگ برنگے پھول جھوم رہے تھے، فوارے پانی کی بوچھاڑیں اڑا رہے تھے اور اس میدان کے گرد سلطنتِ عثمانیہ کی عظیم نشانیاں نیلی مسجد، توپ کاپی محل اور ایاصوفیہ مسجد پرشکوہ انداز میں سر اٹھائے کھڑی تھیں۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاحوں کی ٹولیاں ہر سو مٹرگشت کررہی تھیں۔ٹیکسی تارکول سے ڈھکے ہوئے ایک وسیع پارکنگ لاٹ نما احاطے میں آکر کھڑی ہوگئی جہاں ہر طرف نوپارکنگ کے بورڈ آویزاں تھے۔ جیسے ہی ٹیکسی رکی چند پولیس والے تیزی سے ہماری طرف لپکے۔ اب تو چالان پکا تھا۔ ٹیکسی نوپارکنگ زون میں جو آگئی تھی۔ ایک پولیس والا جارحانہ موڈ میں جیسے ہی قریب آیا، اسی وقت ٹیکسی کا پچھلا دروازہ کھلا اور ایک نوے سالہ سفید ریش منحنی سا بزرگ، سفید شلوار قمیض اور سفید ٹوپی میں ملبوس، عصا ہاتھ میں لیے باہر نکلا۔ اس کے وسط ایشیائی خدوخال پر ایک دائمی مسکراہٹ غالب تھی۔ پولیس والے نے جیسے ہی اس بزرنگ کو دیکھا، وہیں ٹھٹک گیا۔ ٹیکسی والے نے بے نیازی سے اپنے کندھے اچکادیے کہ اب میں اتنے بوڑھے شخص کو مسجد سے دور پارکنگ میں کیسے اتارتا! جتنا قریب آسکتا تھا آگیا۔ پولیس والے نے آگے بڑھ کر بزرگ کو سہارا دیتے ہوئے اترنے میں مدد کی۔ اس دوران میں بھی دوسری طرف کا دروازہ کھول کر باہر آچکا تھا۔ یہ بزرگ سید ذاکر علی تھے اور آج ہم استنبول میں عالم اسلام کی عظیم مسجد سلطان احمد میں نماز جمعہ ادا کرنے آئے تھے، اور ٹیکسی والے کا چالان ذاکر صاحب کی وجہ سے بچ گیا تھا۔ ٹیکسی ہمیں اتار کر استنبول کے گلی کوچوں میں غائب ہوچکی تھی۔ ہم دونوں خراماں خراماں نیلی مسجد کے مرکزی دروازے کی جانب بڑھنے لگے۔ نیلی مسجد کے چھ اور ایاصوفیہ مسجد کے چار میناروں میں نصب اسپیکرز میں سے ترکی زبان میں خطبہ جمعہ کی آواز ہر سو بکھر رہی تھی اور دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمانوںکا ایک ہجوم مسجد کی طرف رواں دواں تھا۔آج ذاکر صاحب کو انتقال کیے ہوئے کئی دن گزر چکے ہیں اور ان کے ساتھ گزرا ہوا ایک ایک لمحہ میری چشم تصور کے سامنے ایک فلم کی طرح گزرتا جارہا ہے۔ ذاکر صاحب عمر میں مجھ سے نصف صدی بڑے تھے، مگر یہ بزرگ دوست، یارانِ ہم عصر سے بھی زیادہ قریب تھے۔ذاکر صاحب کو میں نے پہلی مرتبہ 1985 کے انتخابات میں دیکھا جب وہ حلقہ این اے؟؟؟؟ سے جماعت اسلامی کی طرف سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ میں اسی حلقے میں رہتا تھا اور اسلامی جمعیت طلبہ کا رکن تھا۔ روز کہیں نہ کہیں کارنر میٹنگ ہوتی تھی۔ اسٹیل مل والے ظفر خان نعرے لگایا کرتے تھے: ملیر پہ چھایا چھایا ذاکر آیا ذاکر آیا۔ اس سے پہلے ہم ذاکر صاحب سے زیادہ کاظم علی صاحب کو جانتے تھے۔ ہمیں بتایا گیا کہ ذاکر صاحب، کاظم علی صاحب کے بھائی ہیں۔ الیکشن کا غلغلہ ختم ہوا تو ہم بھی اپنی دوسری مصروفیات میں گم ہوگئے۔ اس کے بعد گاہے بہ گاہے ذاکر صاحب مختلف مواقع اور مقامات پر کبھی دور اور کبھی قریب سے نظر آئے۔ ایک دفعہ ایک پکنک پر وہ بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہاں انہوں نے جب اپنی چند پرخطر سیاحتوں کے دلچسپ قصے سنائے تو میں ان کی طرف متوجہ ہوا۔ اوہو تو یہ بھی ہمارے سیاح بھائی ہیں۔پھر ایک دفعہ جامعہ حنیفیہ میں ان سے ملاقات ہوئی جہاں وہ پانی کی بورنگ کے لیے مقام کی نشاندہی کررہے تھے۔ اس دن ایک نئی بات پتا چلی کہ ذاکر صاحب کو خدا نے یہ صلاحیت بھی دی ہے کہ وہ زمین کے اوپر کھڑے ہوکر بتاسکتے ہیں کہ کس جگہ زیرِ زمین پانی میٹھا ہے۔ جامعہ حنیفیہ میں ذاکر صاحب کی نشان زدہ جگہ پر بورنگ کی گئی۔ پانی میٹھا ہی نکلا اور خوب نکلا۔ یہ پانی آج بھی استعمال ہوتا ہے اور اسی طرح میٹھا ہے جیسا کہ پہلے دن نکلا تھا۔ حالانکہ اس علاقے میں کی جانے والی اکثر بورنگ میں پانی کھارا ہی نکلتا ہے۔ جامعہ حنیفیہ کا میٹھا پانی ہمیں ذاکر صاحب کی یاد دلاتا رہتا ہے۔ یہ ذاکر صاحب کا دوسرا تعارف تھا۔ پھر ایک دفعہ جماعت کے کسی مکتبے میں دیکھا کہ کتابوں کے ساتھ ساتھ ایک شیلف میں شہد کی بوتلیں بھی قطار میں سجی رکھی ہیں اور ان پر ایک سادہ لیبل چسپاں ہے خالص شہد۔ سید ذاکر علی۔ ہائیں یہ کیا! معلوم ہوا کہ ذاکر صاحب شہد کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کا شہد صرف ان کے نام پر فروخت ہوتا ہے خالص شہد۔ سید ذاکر علی ۔ واہ یعنی نام ہی کافی ہے۔ یہ ذاکر صاحب کا تیسرا تعارف تھا۔ لیکن ٹھیریئے، تعارفات کا یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ ان کی شخصیت کے کئی گوشے ایسے بھی ہیں جن سے ہم واقف نہیں۔ ان کا ایک طویل انٹرویو کراچی کے ایک اخبار میں شائع ہوا، جسے پڑھ کر پتا چلا کہ وہ کچھ روحانی قوتوں کے بھی مالک ہیں، اور کچھ جن وغیرہ بھی ان کے دوست ہیں۔وہ ماڈل کالونی میں رہتے تھے اور عالمگیر مسجد میں نمازِ جمعہ کا خطبہ دیا کرتے تھے۔ پورے ماڈل کالونی کی ہردلعزیز شخصیت تھے اور خصوصا نوجوانوں میں بے حد مقبول تھے۔ وہ ان نوجوانوں کے ایک بزرگ دوست تھے۔ لاتعداد مستحقین کی خفیہ امداد کا بھی ایک بھرپور سلسلہ ان کے ذریعے چلتا تھا جس کا علم زیادہ تر انہی تک محدود رہتا کہ جو اس امداد سے مستفید ہوتے تھے۔17دسمبر 2012 کی شام کو سید ذاکر صاحب 92 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ اللہ تعالی انہیں ان کی نیکیوں کا بھرپور صلہ عطا فرمائے۔ وہ آج سے 92 سال پہلے ہندوستان کے شہر کانپور میں پیدا ہوئے تھے۔1947 میں جب ان کی عمر 27سال تھی تو وہ اپنے والدین کے ساتھ بمبئی سے بذریعہ بحری جہاز ہجرت کرکے کراچی آگئے۔ ان کا نکاح پہلے ہی ہوچکا تھا اور دو سال بعد 1949 میں شادی ہوگئی۔ تعلیم مکمل ہوتے ہی وہ صحافت کے پیشے سے وابستہ ہوگئے۔ روزنامہ تعمیر، روزنامہ صداقت اور روزنامہ جسارت سے وابستہ رہے۔ کئی سال ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں بھی ملازمت کی اور کچھ عرصہ اپنی اشتہاری ایجنسی بھی چلائی۔ ڈھاکہ سے نکلنے والے روزنامہ سنگرام کے بھی مغربی پاکستان میں بیوروچیف رہے۔چوہدری غلام محمد مرحوم کے زمانے میں ذاکر صاحب روزنامہ جسارت کے پہلے چیف ایگزیکٹو اور پبلشر بنے۔ اپنے انتقال سے ایک سال پہلے تک وہی جسارت کے پبلشر رہے اور جسارت کے آخری صفحے پر نیچے پبلشر کے نام کے سامنے تحریر سید ذاکر علی بھی ان کا ایک جاری تعارف تھا۔ 1973 میں جب روزنامہ جسارت پر پابندی لگی تو وہ بے روزگار ہوگئے۔ کچھ عرصہ جیل میں گزار کر جب وہ باہر آئے تو معاش کے لالے پڑچکے تھے۔ بقول ان کے بڑے بیٹے طاہر علی کے: نوبت فاقوں تک آپہنچی اور ہم سب اسی ماڈل کالونی والے گھر میں ابا کے ساتھ مزے سے فاقے کرتے تھے۔ انہی دنوں کسی بزرگ دوست نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ شہد کا کاروبار کریں، اور اس مقصد کے لیے انہیں ہری پور جانے کا مشورہ دیا۔ذاکر صاحب اپنی بچی کھچی جمع پونجی لے کر ہری پور پہنچ گئے۔ وہاں سے 17سیر کا ایک شہد سے بھرا کنستر خریدا اور ریل گاڑی میں بیٹھ کر واپس کراچی پہنچ گئے۔ احباب کو جیسے ہی علم ہوا کہ ذاکر صاحب شہد لائے ہیں اور وہ فروخت کریں گے تو پھر کیا تھا، ایک دو دن میں سارا شہد فروخت ہوگیا اور ذاکر صاحب کے اس کاروبار کی ابتدا ہوگئی۔ بس پھر اس کے بعد ذاکر صاحب نے کوئی نوکری نہیں کی، صرف شہد کے کاروبار سے ہی وابستہ رہے۔ آج اس بات کو 40سال ہوگئے ہیں، ذاکر صاحب کا انتقال ہوچکا ہے مگر ان کی اولاد ابھی تک اسی شہد کے کاروبار میں مصروف ہے، بلکہ میں نے جو شہد کا کاروبار شروع کیا ہے اس کی تحریک بھی مجھے ذاکر صاحب ہی سے ہوئی تھی۔وہ دوستی کرنے کے ماہر تھے۔ چھوٹے بچوں سے لے کر ملک کی معروف و مصروف شخصیات تک ان کے دوستوں میں شامل تھے۔ لاتعداد اہم لوگ نہ صرف ان سے رابطے میں رہتے تھے بلکہ ان کے ارادت مند تھے۔ کراچی کے متمول افراد کا ایک سرکل انہوں نے قائم کیا تھا جس کے ذریعے وہ بااثر افراد کو دین کے قریب لانے کی کوششوں میں مصروف رہتے تھے۔ انہی افراد کے ساتھ مل کر انہوں نے ایک ادارہ وے آف اسلام ٹرسٹ (W.O.I.T) بنایا تھا جس کا بنیادی مقصد قرآن کی دعوت کو عام کرنا تھا۔ چنانچہ ہم نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ سید ابوالاعلی مودودی کا ترجمہ قرآن مجید آڈیو کیسٹوں پر سنا اور یہ معلوم ہوکر بڑی خوشی ہوئی کہ یہ بھی ذاکر صاحب ہی کا کارنامہ تھا، اور یہ کیسٹ WOIT ہی کے تحت جاری کیے گئے تھے۔ اس صوتی ترجمہ قرآن کی خصوصیت یہ بھی تھی کہ یہ مشہور ٹی وی فنکار اور موسیقار ارشد محمود کی آواز میں تھا۔ سنو گپ شپ، سنو گپ شپ کہ نائو میں ندی ڈوب چلی والے ارشد محمود۔ حیرت ہوتی تھی کہ ایک دوسری دنیا کے آدمی کو قرآن کی طرف لانے اور پھر ایک اعلی پائے کا کام لینے میں انہیں کیسے کامیابی ملی۔ ایک مرتبہ ذاکر صاحب کے ساتھ ہی ارشد محمود سے ان کے اسٹوڈیو میں ملاقات ہوئی۔ میں نے انہیں بھی اس حیرت کا شکار پایا کہ آخر ذاکر صاحب نے کیسے ان سے ترجمہ قرآن مجید کا طویل اور صبر آزما کام لے لیا۔اردو ترجمے کی ریکارڈنگ کے کچھ عرصے بعد ذاکر صاحب نے ایک اور کارنامہ انجام دیا۔ یہ WOITکے تحت قرآن مجید کے انگریزی ترجمے کی آڈیو ریکارڈنگ تھی جسے جنید جمشید نے اپنی آواز میں ریکارڈ کروایا۔ جنید جمشید کو اپنی موسیقی کی دنیا سے پلٹ کر دین کی طرف آئے ہوئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے اور یہ شاید دین کی خدمت کا ان کا اولین کام تھا جو انہوں نے ذاکر صاحب کی لگن کو دیکھتے ہوئے شروع کیا اور بالآخر ایک طویل عرصے کی ریکارڈنگ کے بعد پایہ تکمیل تک پہنچایا۔میری ذاکرصاحب سے دوستی بھی WOITکے قرآن پروجیکٹس کے سلسلے میں ہی ہوئی۔ ایک دن مجھے ایک دوست طارق بن یوسف کا فون آیا۔ تم ذاکر صاحب کو جانتے ہو؟ وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا۔ میں نے کہا کیوں نہیں۔ اچھی طرح جانتا ہوں۔ طارق نے کہا: میں تمہیں ان کا فون نمبر دیتا ہوں، انہیں ابھی فون کرو، ان کو تمہاری ضرورت ہے۔طارق سے بات ختم ہوتے ہی میں نے ذاکر صاحب کو فون ملایا، تعارف کرایا تو بہت خوش ہوئے اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ میں نے ان سے وقت طے کیا اور ماڈل کالونی میں ان کے گھر پہنچ گیا۔ اپنی سادہ سی بیٹھک میں جہاں چاروں طرف قرآنی کیسٹوں اور سی ڈیوں کے ڈبے رکھے نظر آرہے تھے، ذاکر صاحب نے اپنے مسئلے کا ذکر کیا۔ وہ جنید جمشید کی آواز میں ریکارڈ کیے گئے انگریزی ترجمہ قرآن مجید کی سی ڈی اور ڈی وی ڈی ریلیز کرنا چاہتے تھے لیکن اس کی Compilationمیں کچھ مسائل کا سامنا تھا۔ خصوصا یہ مسئلہ کہ اگر کوئی شخص اس سی ڈی کو سننا چاہتا تو اسے قرآن کے کسی خاص حصے تک پہنچنے میں خاصی مشکل پیش آتی تھی۔میں نے ان سے ایک ڈی وی ڈی لی اور گھر آکر اس کا سیٹ اپ چیک کیا تو اندازہ ہوا کہ یہ مسئلہ کوئی خاص نہیں تھا، صرف یہ کرنا تھا کہ قرآن کے ہر پارے کے چار حصے کرکے پورے 120حصوں کی آڈیو فائلوں کو انگریزی حروفِ تہجی میں اس انداز میں یوں Re-nameکردینا تھا کہ وہ سی ڈی پلیئر پر ایک خاص ترتیب میں چلیں اور سننے والا فارورڈ کا بٹن پریس کرکے بہ آسانی قرآن کے اگلے حصوں تک پہنچ جائے۔ میں یہ سیٹ اپ تیارکرکے لے گیا اور ذاکر صاحب کو دے آیا۔ اگلے دن ان کا مسرت بھرا فون آیا کہ میں نے ان کا مسئلہ حل کردیا ہے اور وہ ابھی مجھ سے ملنے آرہے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر بعد ذاکر صاحب میرے گھر پہنچ گئے اور خوشی سے مجھے گلے لگالیا۔ کہنے لگے: میں کافی دنوں سے اس حوالے سے پریشان تھا اور آپ نے ایک ہی دن میں یہ مسئلہ حل کردیا، اس لیے میں آپ سے بے حد خوش ہوں۔ میں نے عرض کیا: یہ تو ایک سادہ سا کام تھا جسے کوئی بھی کرسکتا تھا، تو مسکراکر کہنے لگے: ہاں کر تو کوئی بھی سکتا تھا، لیکن ہمیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کوئی بھی آپ ہیں۔ یہ کہہ کر انہوں نے جیب سے ایک لفافہ نکالا اور مجھے دے کر کہا: یہ آپ کے لیے ہے، ابھی مت کھولیے گا۔ اور ہاں انکار بھی مت کیجیے گا۔میں نے ان کے جانے کے بعد لفافہ کھولا، تو اس میں ہزار ہزار کے پانچ نوٹ تھے۔ میں نے فورا انہیں فون کیا اور اس کام کا معاوضہ لینے سے انکار کردیا۔ لیکن وہ بولے: میں نے آپ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا، انکار مت کیجیے گا۔ ہماری خوشی کے لیے رکھ لیجیے۔تو یوں ذاکر صاحب سے دوستی کا آغاز ہوگیا۔(جاری ہے)

About shams -Posted in عبیداللہ کیہر, یاد رفتگان

اپنا تبصرہ بھیجیں